امام مہدی عج کی طولانی عمر ،حقیقت یا افسانہ

مکتب تشیع کا مسلّم عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدی ع بارہویں امام ہیں اور آپ ع کی ولادت با سعادت 255ھ میں وقوع پذیر ہوئی اور آپ ع ابھی تک زندہ ہیں اور پردۂ غیبت میں ہیں اور جب مشیت الٰہی کا تقاضا ہو گا تو حضرت امام مہدی ع ظہور فرمائیں گے اور ایک عالمی حکومت قائم فرمائیں گے اور نتیجۃً زمین کو عدل و انصاف سے یوں پُر فرما دیں گے جس طرح یہ ظلم و ستم سے لبریز تھی

لیکن کبھی کبھار ہم اس بات سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں کہ امام مہدی ع زندہ اورموجود ہیں اور امامِ وقت ہیں وہ ہمیں دیکھتے ہیں لیکن ہم ان کو نہیں دیکھ سکتے وہ ہماری مدد فرماتے ہیں ،ہماری لیے دعا فرماتے ہیں۔

اس غفلت کے نتیجے میں بسا اوقات ہمارے ذہن میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی انداز پر تصور جاگزیں ہونے لگتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ امام مہدی ع کا وجود اور ان کی غیبت یہ باتیں صرف کہانیاں اور افسانےہیں؟

اور اس تصور کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارے لیے یہ حقیقت قابل قبول نہیں کہ ایک انسان ہزار سال سے بھی لمبی عمر پا سکتا ہے۔

حضرت امام مہدی ع کی عمر اس وقت 1192 سال ہے اور آج کے انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر سو سے ایک سو پچاس سال ہے اس لئے یہ أمر تعجب خیز معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امام مہدی ع ابھی تک زندہ ہوں؟

کبھی کبھی یہ عقیدہ بالکل غیر معقول لگتا اور کچھ جدید ذہن تو اس عقیدے کو ماننے سے صاف صاف انکار کر دیتے ہیں

اس مختصر سی تحریر سے یہ کوشش کی جائے گی کہ سمجھا جائے کہ اِمام مہدی ع کا اتنی دراز عمر کا حاصل ہونا کیا واقعاً قرین عقل نہیں ہے؟

اس بات سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا انسان کا ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہنا عقلاً محال ہے یا نہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ عقلاً محال نہیں ہے کہ انسان ہزاروں سال زندہ رہے اس لئے کہ انسانی زندگی کے دوام کی خاطر لازمی أمور دستیاب ہوں تو انسان کئی سو سال تک زندہ رہ سکتا ہے اور اس میں کوئی عقلی مانع نہیں ہے

اور اس حوالے سے دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا سائنسی طور پر انسان ہزار سال سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے یا نہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل۔ آج سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ انسان ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے

امریکہ کی ایک یونیورسٹی Johns Hopking کے ایک استاد Raimud Bull کا کہنا ہے کہ بعض سائنسی تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جب تک چاہے اس کے جسم کے اعضاء زندہ رہ سکتے ہیں اس بنیاد پر ممکن ہے کہ انسان ایک سو سال تک زندہ رہے اور اس کی عمر کو ایک ہزار سال تک لمباکیاجانا بھی ممکن ہے۔

مجلۃ المقتطف- الجزءالثانی- جلد-58 ص-204 اگست 1921ء

یعنی سائنسی طور پر بھی انسان ہزار سال یا اس سے زیادہ کی عمر حاصل کر سکتا ہے بلکہ جدید سائنس یہاں تک کہہ رہی ہے کہ اگر انسان کو جینیاتی تحلیل کے کچھ مراحل سے گزارا جائے تو ممکن ہے کہ وہ کئی ہزار سال تک زندہ رہے۔

جب عقلی طور پر بھی انسان کئی ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے اور سائنسی طور پر بھی زندہ رہ سکتا ہے تو پھر اور کیا سبب ہو سکتا ہے کہ جس کی وجہ سے بسا اوقات انسانی ذہن اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا کہ انسان ایک ہزار سال سے زیادہ لمبی عمر بھی پا سکتا ہے؟

خداوند کریم نے انسانی جسم میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اگر اس کو بالکل ویسے استعمال کیا جائے جیسے اس کو استعمال کرنے کا حق ہے تو یہ جسم بہت طولانی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر کوئی بیماری یا حادثہ وغیرہ مانع ہو جائے تو انسان کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔

طولِ تاریخ میں کئی ایسے افرادکا ذکر کیا ملتا ہے کہ جنہوں نے سینکڑوں برس زندگی پائی اور کچھ ہزار برس زندہ رہے۔

قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کی عمر 950 برس بیان کی گئی ہے

ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما فاخذھم الطوفان وھم ظالمون

ترجمہ: اور بتحقیق ہم نے نوح ع کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان میں 950 سال تک زندہ رہے۔العنکبوت 14

حضرت عیسی ع قرآن مجید کے مطابق ابھی تک زندہ ہیں اور اس وقت ان کی عمر 2026 سال ہے

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ

وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لھم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا۔

بل رفعہ اللہ الیہ وکان عزیزا حکیما۔

ترجمہ: اور ان کے قول کے سبب کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کیا ہے جبکہ فی الحقیقت انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا بلکہ(دوسرے کو) ان کے لیے شبیہ بنا دیا گیا تھا اور جن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا وہ اس میں شک میں مبتلا ہیں، ظن کی پیروی کے علاوہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں اور انہوں نے یقیناً مسیح کو قتل نہیں کیا۔بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا اور بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

سورۃ النساء-157,158 اس کے علاوہ صحیح بخاری کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام ہزاروں سال سے زندہ ہیں

اسی طریقے سے دجال بھی ایک ہزار سال سے زیادہ عمر کا حامل ہے

ایک اہل سنت عالم سحبستانی نے اپنی کتاب المعمرین میں کئی ایسے افراد کا ذکر کیا ہے کہ طول تاریخ میں جن کی عمر پانچ سو برس سے بھی زیادہ تھی

تو سوال یہ ہے کہ اگر عقل اور سائنس کی روشنی میں انسان کے لیے ہزاروں سال تک زندہ رہنا ممکن ہے اور قرآن و حدیث اور تاریخ میں بھی ہزاروں سال زندہ رہنے والے انسانوں کا ذکر ملتا ہے تو امام مہدی ع ہزاروں سال سے زندہ کیوں نہیں رہ سکتے؟

اہل تشیع کے ہاں احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ امام مہدی ع ابھی تک زندہ ہیں اور تواتر یقین کا سبب ہے اس لئے بلا تردُّد اس حقیقت پر بھی یقین رکھنا چاہیے کہ امام مہدی ع آج بھی زندہ ہیں اور ہماری ہدایت فرما رہے ہیں اور جب اللہ تعالی چاہے گا اپنی مصلحت کے تحت ان کو ظاہر فرما کر اس دنیا پر حکومت الٰہی قائم فرمائے گا۔ ان شاء اللہ


العودة إلى الأعلى