چین نے مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کے خلاف خبردار کیا ہے
قوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں اور ایسے اقدامات مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال کی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں
شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ، بشمول مسئلہ فلسطین پر ہونے والے ایک کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر فو کونگ نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے
انہوں نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ امریکا اور دیگر متعلقہ فریقین عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی آواز پر کان دھریں گے، ایسے اقدامات کریں گے جو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ میں معاون ہوں اور کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں گے۔چینی مندوب نے واضح کیا کہ ایران ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کے معاملات کا فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایران میں استحکام کی حمایت کرتا ہے اور اس کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا حامی ہے۔فو کونگ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کریں، دیگر ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مخالفت کریں اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو مسترد کریں
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ خطے کے عوام کا ہے، یہ بڑی طاقتوں کی رقابت کا میدان نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی خطے سے باہر کے ممالک کی جغرافیائی سیاسی کشمکش کا شکار ہونا چاہیے۔چینی مندوب نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے کے عوام کے آزادانہ فیصلوں کا احترام کرنے، علاقائی ممالک کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے لینے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے


