پاکستان: جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان "یومِ حسینؑ" کا انعقاد امام حسینؑ میڈیکل کمپلیکس میں 50 فیصد رعایت کے ساتھ خصوصی میڈیکل کیمپ کا آغاز حرمِ امام حسینؑ کی دعوت پر پاکستانی وفد کی نجفِ اشرف میں حاضری، علمی و دینی مراکز کا دورہ کردستان ریجن سے کربلا تک: عزاداری و جلوس، عراقی اتحاد کی روشن علامت دارالقرآنِ کریم کے ہونہار طلبہ کی شیخ عبدالمہدی کربلائی سے ملاقات پاکستان: جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر جناب سراج الحق صاحب کا کربلا عراق میں حرمِ مطہر امام حسینؑ کے تعلیمی اداروں کا دورہ ونڈسر انٹرنیشنل ڈائیلاگ 2026: نجف اشرف کا مذہبی ہم آہنگی اور انسدادِ دہشت گردی کا ماڈل عالمی فورم پر نمایاں حرمِ امام حسینؑ کی دعوت پر پاکستان کے سیاسی، مذہبی اور میڈیا شخصیات کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورۂ کربلا حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت

کربلا اور عین التمر کے درمیان واقع منارے کی تاریخ

2026-01-31 09:31

منارہ موجِدہ کربلا معلّیٰ کے قدیم ترین اور نمایاں آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تاریخی منارہ اُس قدیم شاہراہ پر واقع ہے جو شہرِ عین التمر کی طرف جاتی ہے

اس کا محلِ وقوع کربلا شہر کے مرکز سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جبکہ یہ کُہوفِ الطار سے قریباً 14 کلومیٹر جنوب اور خان العطشان سے لگ بھگ 10 کلومیٹر جنوب کی جانب، ایک بلند ٹیلے کے وسط میں قائم ہے

کربلا کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق اس منارے کو موجِدہ اس لیے کہا جاتا تھا کہ قدیم زمانے میں اس کی چوٹی پر رات کے وقت آگ روشن کی جاتی تھی، تاکہ مشرق سے مغرب کی جانب سفر کرنے والے تجارتی قافلوں کی رہنمائی کی جا سکے

اسی بنا پر یہ منارہ مختلف شہروں اور علاقوں کے درمیان تجارت اور مواصلات میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتی تھی

آج یہ منارہ کربلا میں قدیم زمینی راستوں کی اہمیت کی ایک زندہ تاریخی گواہ ہے، اور اس خطے کے اُس بنیادی کردار کی عکاسی کرتی ہے جو مختلف ادوار میں تہذیب و تجارت کے مراکز کو باہم مربوط کرنے میں ادا کیا گیا۔ تاہم، یہ قیمتی تاریخی ورثہ اس وقت عدمِ توجہی کا شکار ہے، جو اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر مزید تحقیق، تحفظ اور مناسب دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ یہ کربلا شہر کی عمرانی یادداشت اور تہذیبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے

ماخذ: موسوعۃ تاریخ کربلاء الحضاریۃ،کربلا: تاریخاً و تراثاً،

سعید رشید زمیزم

العودة إلى الأعلى