کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

ایک سرکاری اہلکار کربلاء میں عتبات عالیہ کی جانب سے جاری منصوبوں کی تعریف کر رہا ہے

2024-05-18 12:49

حرم امام حسین علیہ السلام اور حرم حضرت عباس علیہ السلام کی جانب سے جاری منصوبوں بالخصوص گرین کربلاء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول میں بھی تبدیلی آئے گی۔

کربلاء زراعت کے ڈائریکٹر انجینئر محمد طیار نے عتبات عالیہ کی جانب سے جاری ترقیاتی پروگراموں کو ملک کی ترقی کا ضامن قراد دیا اور مزید برآں ماحول کو تبدیل کرنے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید یہ کہا کہ متولی شرعی علامہ شیخ مھدی کربلائی دام عزہ اور متولی شرعی علامہ سید احمد صافی دام عزہ کی دور اندیشی کی وجہ سے ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہے آپ دونوں ہی کی کوششوں سے کربلاء معلی کے صحراؤں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے سر سبز وشاداب کیا گیا ہے اور مزید کیا جا رہا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کربلاء میں موجود مقدس مقامات ایک جامع پالیسی کے تحت کسانوں اور دیگر سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ، عراقی جوانوں پر اعتماد کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا رہے ہیں، جس سے ملک میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہونگے بلکہ ملک خود کفیل بھی ہو گا اور مارکیٹ کی ڈیمانڈز کو بھی پورا کر ئے گا۔


 مزید برآں کربلاء میں عتبات عالیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف ایگریکلچر ، تمام 

 سرمایہ کاروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں اور ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کی تمام جہات پر کام کرنے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ ملک میں معاشی انقلاب اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 

واضح رہے کہ عراق کو بلد نہرین کہا جاتا ہے کیونکہ نہر دجلہ و فرات پورے عراق کو سیراب کرتے ہیں ۔

العودة إلى الأعلى