کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

35,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے زیارت نیمہ شعبان کی سکیورٹی میں حصہ لیا

2024-02-27 08:04

گزشتہ روز عراق کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ کربلاء میں زیارت شعبانیہ کی سکیورٹی کے لیے 35,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا

وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل مقداد میری نے کہا کہ صوبہ کربلاء میں زیارت شعبانیہ کے لیے سیکیورٹی پلان تیاراورمکمل کر لیا گیا ہے۔ اب ہم اس پلان پر براہ راست عمل درآمد کر رہے ہیں اوراس وقت تک کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ اس زیارت کی سکیورٹی پلان میں حصہ لینے والی یونٹوں سے 35,000 سے زیادہ سیکورٹی اہلکار تھے، جو وزارت داخلہ، وزارت دفاع، اور حشد شعبی اور عتبات عالیہ کے رضاکاروں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ زیارت میں یہ سکیورٹی تین حلقوں پر مشتمل ہے اور کنٹرولنگ ہیڈ کوارٹرز کی تعداد تین ہیڈ کوارٹرز ہیں اور مراکز کی تعداد چار ہے۔ اس سیکورٹی پلان کے ساتھ ساتھ خدمات بھی بھی مہیا ہونگی سکیورٹی فورسز کی جانب سے۔

کربلاء آپریشنز کمانڈ کے میڈیا بریگیڈیئر جنرل فہیم کریتی نے کہا کہ تمام شعبوں کے لیے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، کیونکہ فضائیہ ، آرمی ایوی ایشن اور حشد شعبی نے اس آپریشن میں حصہ لیا جس سے مغربی صحرا، کربلاء کاصحرا اور صحرائے نجف محفوظ ہو گئے۔

کریتی نے وضاحت کی کہ شہر کی اندرونی سکیورٹی کے لیے باقی صوبوں سے اضافی فورسز آئی ہیں اور مشرق فرات کے آپریشنز کمانڈر کے حکم سے، کوئی قاطع(ناکہ) نہیں ہے، اور اگر ضروری ہوا تو جزوی قاطع(ناکہ) ہو گا۔

امیر الموسوی

ابو علی

العودة إلى الأعلى