کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

عتبہ حسینیہ کو قرآن پاک کا نایاب نسخہ ہدیہ کردیا گیا

2023-05-22 19:05
متولی شرعی حرم امام حسین علیہ السلام جناب شیخ عبد المہدی کربلائی حفظہ اللہ کی موجودگی میں حرم کے میوزیم کے مسئول جناب غسان شہرستانی کو قرآن پاک کا نایاب نسخہ جس پر اعلی مہارت اور خوبصورت ڈیزائننگ کے ساتھ کام ہوا ہے، ہدیہ کیا گیا ہے۔ جمہوریہ اسلامیہ ایران سے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آئے ہوئے زائر حمید رضا پہلوان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا ، قرآن مجید کا انتہائی قیمتی اور انتہائی نایاب نسخہ جس میں سونے اور چاندی کا استعمال کیا گیا ہے ،حرم امام حسین علیہ السلام کو ہدیہ کیا ہے۔ حمید رضا پہلوان نے قرآن پاک کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس قرآن مجید کا وزن تقریباً 25 کلو گرام ہے۔ اس میں 2 کلو گرام تانبا استعمال کیا گیا ہے جبکہ 900 گرام، 24 قیراط کا سونا اور 400 گرام ، 18 قیراط کا سونا انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کیاگیا ہے۔ اس کی جلد کو حرم حسینی کے اندرونی ایک دروازے کی طرح بنایا گیا ہے۔ اس منفرد نسخہ میں کل صفحات کی تعداد604 ہے جس میں مجموعی طور پر 5۔2 کلو گرام چاندی اور 600 گرام سونے کا پانی چڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید قرآن پاک کے طول و عرض کے بارے میں بتایا کہ اس کی اونچائی 70 سینٹی میٹر اور چوڑائی 50 سینٹی میٹر ہے جبکہ ہر صفحہ کی اونچائی 3 سینٹی میٹر اور چوڑائی 2 سینٹی میٹر ہے۔ قرآن پاک کے پہلے دو صفحات ہیروں سے مزین تھے جہاں 2.5 قیراط قدرتی ہیروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی لکھائی استاد رائین اکبر خان نے اپنی ہاتھوں سے بغیر عینک کے خط عثمان طہ پر لکھا ہے۔ حمید رضا پہلوان نے کہا کہ میرے والد نے وصیت کی تھی کہ یہ قرآن پاک ان کی وفات کے بعد امام حسین علیہ السلام کو تحفہ میں دیا جائے لیکن میں نے مشورہ دیا کہ جب یہ قرآن مکمل ہو گیا ہے تو اس کو ابھی سے ہی حرم کے میوزیم میں رکھنا خوشبختی ہے تاکہ زائرین کرام اس کی زیارت کرسکیں۔ انہوں نے یہ بات قبول کی اور آج ہم نے ہدیہ کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ مالک دوجہاں اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

منسلکات

العودة إلى الأعلى