قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے کربلا و نجف اشرف میں مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی پُر وقار تشییعِ جنازہ کی تصویری جھلکیاں

دلال پل عراق کی اہم تاریخی آثار میں سے ایک ہے ۔

2022-12-17 10:53

وطن عزیز عراق میں  آثار قدیمہ کے کئی یادگار موجود ہیں جن کا وجود  ہزاروں سال پرانا ہے  جبکہ عراق کے کئی صوبوں اور شہروں میں آثار قدیمہ کے بہت اہم و تاریخی آثار موجود ہیں جن میں سے ایک دلال پل ہے ۔

دلال پل  عراق کے کردستان میں صوبہ دھوک کے  شہر زاخو کے  مشرق میں دریائے خابور میں واقع ہے اور یہ اس شہر کے نمایاں تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور اس پل کو زاخور شہر کے مشرق میں دریائے خابور میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اور اس پل کے بنانے کے حوالے سے کئی اقوال موجود ہیں جیسا کہ مورخ ہیمرٹین  کا کہنا ہے کہ اس کو رومیوں کے زمانے میں بنایا گیا ہے ۔

اور اس طرح ماہر آثار قدیمہ آسکف کے مطابق اس پل کے تانے بانے رومیوں سے جا ملتے ہیں یعنی یہ رومی دور کا ہے اور رومی سپہ سالار سلوقس نے تعمیر کا فرمان جاری کیا تھا۔ جبکہ یہاں پر عراقی آثار قدیمہ کے کئی ماہرین کے مطابق اس پل کو بہدین حکمرانوں  میں سے کسی ایک نے بنوایا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پل اس علاقے کی قدیم ترین  آثار میں سے ہے اور یہ  عین ممکن ہے کہ اس کو بہدین بادشاہوں میں سے کسی ایک  نے دیکھ بھال اور بحالی کا کام کروایا ہو۔  اور اس پل کے تعمیر کے بارے میں کردی مہکاوی ہے کہ تقریبا 114 میٹر لمبا اور 4.70 میٹر چوڈا اور سطح سمندر سے تقریبا 15.5  میٹر بلند ہے ۔ اور اس پل کی دیواریں کندہ شدہ پتھروں سے بنائی گئیں ہیں۔  اور اس پل  میں چھ  آدھے گول دائرے  ہیں جن میں ایک بڑا سا آدھا گول دائرہ پل کے وسط میں اور باقی بانچ انکے جوانب میں موجود ہیں۔

لیکن اس پل کی دیواریں بڑے کندہ شدہ پتھروں سے بنائی گئیں ہیں اور اس پل  میں تحریروں اور ڈھانچوں  کی عدم دستیابی کی بدولت اس کی تاریخ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ۔اور اس پل کا نام دلال شہر زاخو  کے باشندوں کے لیئے پرانا ہے لیکن اس شہرکے قرب و جوار میں رہنے والے  اسے جسر کبیر یا عباسی پل سے پکارتے ہیں ۔اور یہ ایک جدید نام ہے جسے بیسوی صدی میں اس ٹاون کے ڈسٹرک اٹارنی  کے  سرکاری فرمان  سے  نام پڑ گیا  اور جب  15مئی 1909 کو ماہر آثار قدیمہ سر کونرڈ بریوس نے اس پل کا دورہ کیا تو اس کا نام خابور پل  رکھا گیا۔

العودة إلى الأعلى