کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

عراق میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا حرم حضرت عباس ؑ کا دورہ

2022-11-28 12:32

عراق میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے نمائندے جو نكولس نے حرم حضرت عباس (ع)  کا دورہ کیا   اور بد نام زمانہ داعش کی حملہ کے بعد موصل اور باقی شہروں سے آئے ہوئے مہاجرین کی بحالی  پر حرم کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے نمائندے جو نكولس ایک وفد کے ہمراہ حرم حضرت  عباس پہنچا تو  تعلقات عامہ کے مسول نے انکا استقبال کیا  اور حرم  کی جانب سےجاری متعدد خدماتی،تعلیمی اور سماجی منصوبوں اورمعاشرے کے کمزور طبقات کی امداد بالخصوص داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے بے گھر ہونے والوں خاندانوں کی بحالی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی

مسٹرنکولس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا  کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین حرم کی طرف سے پیش کیے گئے فلاحی کاموں اور منصوبوں کو بے حد سراہتے ہیں اور ایک مقدس دینی ادرے کی جانب سے جاری ان ترقیاتی پروگراموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں خاص طور پر معاشرے میں غریب اور کمزور طبقات کی مدد اور بحالی کے لیے وسیع پیمانے پر شروع کئے گئے انسانی منصوبےعراقی معاشرے کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

 بین الاقوامی وفد نے حرم مقدس اور الکفیل میوزیم کا دورہ کیا، اور اس میں موجود منفرد اور تاریخی اشیاء اور نوادرات کی تعریف کی اور ان آثار قدیمہ کو محفوظ کر کے نئی نسل تک پہچانے کی ضرورت پر زور دیا

منسلکات

العودة إلى الأعلى