کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

مسجد امام حسین (ع) وسطی افریقہ کی پہلی شیعہ مسجد

2022-10-26 17:28

کیمرون کے اقتصادی دارالحکومت دوالا شہر کے درمیان مسجد امام حسین علیہ السلام واقع ہے۔ یہ شہر کی واحد اور وسطی افریقہ کی پہلی شیعہ مسجد ہے۔ 
اس مسجد کی ابتداء ایک سادہ سے گھرسے ہوئی۔  یہ گھر تین کمروں پر مشتمل تھا ، جس میں سے ایک  کمرے کو لائبریری بنایا گیا تھا اورایک کمرے کونماز کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ 
 یہاں سے کیمرون میں شیعوں کے درمیان کچھ ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔ 
2006 میں  حاجی سالیسو کی زیر نگرانی باقاعدہ طور پر مسجد کی تعمیر کو شروع کیا گیا۔
 یہاں کے شیعہ نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مسجد کا کام شروع کیا اوردوسال کی مدت میں کسی بھی ادارے سے امداد لے بغیر اس مسجد کی تعمیر کو مکمل کر لیا۔
یہ مسجد مشرقی فن تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ 
150 مربع میٹر کے رقبے پر اس مسجد کو تعمیر کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں ایک لائبریری بھی بنائی گئی ہے، جس میں تقریباً 300 مصنفین کی کتابیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دینیات سنٹراورانتظامی امور کے لئے ایک کمرہ بھی ہے جبکہ اوپر کی منزل پرایک بڑا ہال بنایا گیا ہے جس میں 250 مومنین بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔
مسجد کے اوپرایک خوبصورت گنبد بنایا گیا ہے جس کے اندر 14 معصومین علیہم السلام کے نام خطاطی سے ڈیزائن کر کے لکھے گئے ہیں۔
اس مسجد میں روزانہ باجماعت نماز کے علاوہ باقاعدہ طور پر جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہے۔
2019 میں  یہاں پر باقاعدہ طور پر عزاداری بھی شروع کی گئی اور پہلی بارامام حسین علیہ السلام کا پرچم بلند کیا گیا۔ اس کے بعد سے یہاں پر محرم الحرام میں باقاعدہ طور پرعزاداری اورمجالس کا سلسلہ شروع ہوگیا

منسلکات

العودة إلى الأعلى