حوزۂ علمیہ نجف اشرف ایک عظیم مرجعِ دین اور نامور فقیہ سے محروم

2026-06-04 10:33

نجف اشرف کے معروف مرجعِ دینی، آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، جس پر عالمِ تشیع، حوزاتِ علمیہ اور دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے

عراقی حکومت نے ان کے انتقال پر ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

آیت اللہ شیخ محمد اسحاق فیاض 1930ء میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے جنوب میں پیدا ہوئے تھے اور بعد ازاں نجف اشرف میں سکونت اختیار کی، جہاں وہ حوزۂ علمیہ کے ممتاز مراجعِ کرام اور بلند پایہ فقہاء میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علومِ اسلامی کی تدریس، علماء و فضلاء کی تربیت اور معارفِ اہلِ بیتؑ کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی

دفترِ مرجعیت کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ فیاض کا انتقال حوزاتِ علمیہ اور عالمِ تشیع کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ مرحوم اپنی بلند علمی، فقہی اور معنوی شخصیت کے باعث عالمِ اسلام میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور اپنے پیچھے گراں قدر علمی و تحقیقی آثار چھوڑ گئے ہیں

دریں اثناء مرحوم آیت اللہ شیخ محمد اسحاق فیاض کی تشییعِ جنازہ کے پروگرام کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ ان کے جسدِ خاکی کی تشییع کا آغاز جمعہ کے روز صبح 9 بجے کاظمین مقدسہ سے ہوگا، جبکہ اسی روز شام 5 بجے کربلائے معلیٰ میں تشییعِ جنازہ کا انعقاد کیا جائے گا۔

بعد ازاں ہفتہ کے روز صبح 9 بجے نجف اشرف میں تشییعِ جنازہ کا آخری مرحلہ انجام پائے گا، جس کے بعد انہیں جوارِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ اس موقع پر مؤمنین، علماء، فضلاء اور طلابِ علومِ دینیہ کی بڑی تعداد اپنے عظیم مرجعِ دین کو الوداع کہے گی

العودة إلى الأعلى