کربلا: محکمۂ صحت نے اربعین کے لیے ہنگامی طبی منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا
محکمۂ صحت کربلا نے حضرت امام حسینؑ کے اربعین کے موقع پر ایک جامع ہنگامی طبی منصوبہ نافذ کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر 5 صفر سے باقاعدہ عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جو اربعین حسینی کی اختتامی تقریبات تک جاری رہے گا
یہ منصوبہ وزارتِ صحت عراق اور کربلا کی مقامی حکومت کی ہدایات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے
محکمۂ صحت کربلا کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر انور حمید الخفاجی کے مطابق منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں
اس سلسلے میں تمام سرکاری و طبی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور طبی عملے کی تمام چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں
زائرین کی آمد کے پیشِ نظر کربلا کی جانب آنے والے مرکزی راستوں پر طبی مراکز، میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولینسیں تعینات کر دی گئی ہیں، جبکہ شاہراہوں اور اہم مقامات پر ایمرجنسی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں زائرین کو فوری اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی صحت کے نگران عملے کو زائرین کے لیے پیش کیے جانے والے کھانے اور مشروبات کی نگرانی، معائنہ اور حفاظتی معیار کی جانچ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے
ڈاکٹر الخفاجی کے مطابق متعدی اور وبائی امراض سے تحفظ کے لیے صحت آگاہی مہم کو بھی وسعت دی گئی ہے، جبکہ احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ زیارتِ اربعین کے دوران عوامی صحت کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ہنگامی طبی منصوبے کو وزارتِ صحت، کربلا کی مقامی حکومت، حرمِ امام حسینؑ اور حرمِ حضرت عباسؑ کی مکمل سرپرستی اور تعاون حاصل ہے
ان کے بقول تمام متعلقہ اداروں کی باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے زائرین کو چوبیس گھنٹے مسلسل، محفوظ اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جائیں گی


