اربعین واک میں کروڑوں زائرین کے لیے کھانے، رہائش اور دیگر انتظامات کیسے کیے جاتے ہیں؟

2026-07-26 12:11

ہر سال حضرت امام حسینؑ کے اربعین کے موقع پر عراق کے مختلف شہروں سے کربلائے معلّیٰ کی جانب جانے والی شاہراہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں زائرین سے بھر جاتی ہیں دنیا کے مختلف ممالک سے بھی لاکھوں افراد عراق پہنچتے ہیں تاکہ پیدل سفر کرتے ہوئے اس عظیم روحانی اجتماع میں شرکت کر سکیں زیارتِ اربعین دنیا کے سب سے بڑے سالانہ انسانی اجتماعات میں شمار ہوتی ہے

اس کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے انتظامات کسی ایک مرکزی ادارے کے بجائے عوامی خدمت، رضاکارانہ تعاون اور ہزاروں مواکب کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں

حرمِ حضرت عباسؑ کے مطابق 1447 ہجری (2025ء) کی زیارتِ اربعین میں 2 کروڑ 11 لاکھ 3 ہزار 524 زائرین نے شرکت کی، جبکہ بعد ازاں کربلا صوبائی کونسل نے اعلان کیا کہ زائرین کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ اعداد و شمار میں یہ فرق مختلف اداروں کے طریقۂ کار اور مردم شماری کے اوقات کے باعث سامنے آیا

زیارت کے آغاز سے ہی بیرونِ ممالک سے عراق آنے والے زائرین کی الگ سے گنتی کی جاتی ہے۔ سرحدی گزرگاہوں کے ادارے کے مطابق زائرین دس اہم زمینی اور فضائی راستوں سے عراق میں داخل ہوتے ہیں، جن میں صفوان، شلامچہ، زرباطیہ، منذریہ، القائم اور بغداد و نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے شامل ہیں

عوامی مواکب: خدمات کا بنیادی ستون

دنیا کے دیگر بڑے اجتماعات کے برعکس، جہاں انتظامات عموماً حکومتیں یا نجی ادارے سنبھالتے ہیں، زیارتِ اربعین میں زائرین کی خدمت کا زیادہ تر بوجھ عوامی مواکب اٹھاتے ہیں

یہ مواکب مقامی خاندانوں، دینی اداروں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے قائم کیے جانے والے خدمت مراکز ہوتے ہیں، جہاں زائرین کو بلا معاوضہ کھانا، چائے، پینے کا پانی، رہائش، آرام کی جگہ اور ابتدائی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان خدمات کے لیے نہ کسی رجسٹریشن کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی پیشگی بکنگ کی

ہر سال ہزاروں مواکب رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، جس کی بدولت کروڑوں زائرین کی میزبانی کسی ایک ادارے کے بجائے اجتماعی عوامی تعاون سے ممکن ہو جاتی ہے

سکیورٹی اور خدماتی منصوبہ

زیارتِ اربعین سے کئی ماہ قبل عراقی سکیورٹی ادارے اور مختلف سرکاری محکمے باہمی تعاون سے جامع منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس سال بھی شدید گرمی، زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دیگر ممکنہ چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں گزشتہ برسوں کے تجربات سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیا ہے

حالیہ برسوں میں احتیاطی تدابیر کے تحت ایامِ اربعین میں کربلا کے مرکزی علاقے کو اسلحہ سے پاک زون قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مختلف فیلڈ کمیٹیاں اور آپریشن رومز ہوٹلوں، مہمان خانوں اور دیگر خدمات کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں

واپسی کے سفر کا انتظام

زیارت کے اختتام پر لاکھوں زائرین کی مختصر وقت میں اپنے شہروں کو واپسی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہوتی ہے، جس کے لیے ریورس ٹرانسپورٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے

متعلقہ اداروں کے مطابق سرکاری و نجی ٹرانسپورٹ میں اضافہ، معاون وزارتوں کی گاڑیوں کی فراہمی اور کربلا کے تین مرکزی راستوں پر خصوصی پارکنگ اور انتظار گاہوں کے قیام کے باعث زائرین کی واپسی کا عمل منظم انداز میں جاری رہتا ہے

ایندھن اور بنیادی سہولیات

کروڑوں زائرین کی موجودگی کے باعث ایندھن اور دیگر بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی بھی نہایت اہم ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے کربلا میں پٹرولیم مصنوعات تقسیم کرنے والی کمپنی ہر سال خصوصی منصوبہ نافذ کرتی ہے تاکہ پٹرول پمپس، بجلی کے جنریٹرز اور عوامی مواکب کو مسلسل ایندھن فراہم کیا جا سکے

خلاصہ

زیارتِ اربعین کی کامیابی ایک منفرد اور مؤثر انتظامی نظام کی عکاس ہے، جس میں ایک جانب حکومت کی سکیورٹی اور خدماتی منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے، جبکہ دوسری جانب ہزاروں عوامی مواکب اور لاکھوں رضاکار ایثار، خدمت اور اخوت کے جذبے کے ساتھ زائرین کی میزبانی کرتے ہیں۔ یہی باہمی تعاون ہر سال محدود جغرافیائی علاقے میں کروڑوں زائرین کے لیے کھانے، رہائش، علاج، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے

المرفقات

العودة إلى الأعلى