کربلا میں قائم ’’مجمعُ الفقراء‘‘ رہائشی منصوبے کے بارے میں تفصیل سے جانیے۔ عراق : طبی دنیا میں ایک منفرد اور غیر معمولی کامیابی، حرم امام حسینؑ کے زیر انتظام اسپتال میں بیک وقت جگر کی دو کامیاب پیوندکاریاں عید الاضحیٰ پر العین فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک لاکھ عراقی یتیم بچوں میں عید کے کپڑوں کی تقسیم مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کا صحنِ عقیلہ زینبؑ کا دورہ، تعمیراتی کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا ذی قار میں یتیم بچوں کے لیے جدید تعلیمی کمپلیکس کی تعمیر جاری پاکستان: امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی سابق امیرِ جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق صاحب سے ملاقات۔ میناب کے شہداء کے لواحقین سے مرجعِ اعلیٰ کے نمائندے کی ملاقات، صبر و تسلیت کا پیغام کربلاء سیّاحوں کی نگاہ میں حرمِ امام حسینؑ کا فلاحی ہاؤسنگ منصوبہ، ضرورت مند خاندانوں کے لیے امید اسلام آباد: وفاقی وزیرِ مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے امام حسین ثقافتی سنٹر اسلام آباد کے وفد کی اہم ملاقات

فرانس میں اسلاموفوبیا: مسجد کے دروازے پر سور کا سر لٹکایا گیا

2024-12-27 10:10

پونٹ-سانت-ایسپری (فرانس): فرانس میں اسلاموفوبیا کا ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں جنوبی علاقے گارڈ کے قصبے پونٹ-سانت-ایسپری میں جمعہ کے روز ایک مسجد کے دروازے پر سور کا کٹا ہوا سر پایا گیا

یہ عمل مسلمانوں کے مقدس دن جمعہ کو جان بوجھ کر کیا گیا، جس نے مسلم کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بلدیہ کے ایک ملازم نے مسجد کے دروازے پر سور کا سر دیکھ کر مقامی حکام کو اطلاع دی۔ نیم شہر کے پراسیکیوٹر کی قیادت میں عدالتی حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔

قصبے کی میئر ویلری سگال نے اس حرکت کو "شرمناک" اور "معاشرتی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش" قرار دیا۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکات ہمیں مزید مضبوط بناتی ہیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل مارچ میں شمالی فرانس کے قصبے سانت-اومیر اور 2019 میں برجرک میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

یورپ میں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والے ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 2023 میں فرانس میں اسلام مخالف واقعات میں 57 فیصد اضافہ ہوا۔ ان 828 درج شدہ واقعات میں امتیازی سلوک، ہراسانی، نفرت انگیز تقاریر، اور جسمانی حملے شامل ہیں، جن میں مسلم خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی شرح 81.5 فیصد رہی۔

مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے اس تازہ واقعے کے بعد اسلاموفوبیا کے خلاف مزید اقدامات اور معاشرتی اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ابو علی

العودة إلى الأعلى