کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

بصرہ میں قرآنی ثقافت کے فروغ کے لیے تیسرے قرآنی کیمپ کا انعقاد

2024-11-07 10:28

حرم امام حسین علیہ السلام کے شعبہ دارالقرآن کریم نے تیسرا حسینی ہفتہ وار قرآنی کیمپ جامعہ بصرہ میں منعقد کیا۔

اس کا مقصد یونیورسٹی کے طلباء کو قرآن کریم سے قریب لانا اور ان کے قرآنی علوم میں اضافہ کرنا ہے۔

دارالقرآن کریم کے سربراہ، شیخ خیرالدین الہادی، نے کہا کہ دارالقرآن کریم ہفتہ وار حسینی قرآنی کیمپ کے ذریعے نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں مختلف قرآنی سیمینارز، محافل اور نمائشیں شامل ہیں، جو اہم قرآنی پیغامات اور معانی کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرم امام حسین علیہ السلام ہر سال تعلیمی اداروں میں اس طرح کے قرآنی کیمپ منعقد کرتا ہے اور تحقیقی و علمی مکالموں کے لیے ماحول فراہم کرتا ہے تاکہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے سٹوڈنٹس کو بھی قرآنی علوم سے آشنائی حاصل ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی میں اساتذہ کرام کے ساتھ ملاقات کے ذریعے ہم قرآنی علوم کو اس سطح پر فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا ذکر اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں آیا ہے، کیونکہ یہ روایات قرآن کے معانی اور مقاصد کو بیان کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے عزیز طلباء اور جامعہ بصرہ کی انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یونیورسٹی اور طلباء اس قرآن شناسی کیمپ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس قرآنی کیمپ میں ورکشاپس اور سیمینارز میں طلباء کی بھرپور شرکت ہماری توقعات سے بڑھ کر تھی۔

آخر میں ہادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں بصرہ اور دیگر صوبوں میں اپنی کاوشوں کے نتیجے میں یہ مثبت اثرات محسوس ہوئے ہیں کہ انفرادی سطح پر اور ادارہ جاتی سطح پر قرآنی ماحول کا اثر بہت وسیع ہے۔

خاص طور پر بصرہ کے لوگوں نے قرآنی تعلیم و تحفظ میں بڑی دلچسپی ظاہر کی ہے جو کہ خوش آئین بات ہے۔

ابو علی

منسلکات

العودة إلى الأعلى