ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر اپنی تاریخی، دینی اور تہذیبی اہمیت کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے
اگرچہ بعض معاشروں میں اس مہینے کو نحوست اور بدشگونی سے جوڑ دیا گیا ہے، لیکن قرآن کریم، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات اس تصور کی تائید نہیں کرتیں اسلام نے ہر قسم کی توہم پرستی اور بدشگونی کی نفی کرتے ہوئے انسان کو اللہ تعالیٰ پر کامل توکل، دعا، صدقہ اور نیک اعمال کی تلقین کی ہے
ماہِ صفر کی اصل اہمیت اس میں پیش آنے والے عظیم تاریخی واقعات سے وابستہ ہے۔ واقعۂ کربلا کے بعد اسیرانِ اہلِ بیت علیھم السلام کی شام سے واپسی، اربعینِ امام حسین علیہ السلام، رحلتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، شہادتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور شہادتِ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام جیسے واقعات نے اس مہینے کو امتِ مسلمہ کے لیے غم، بصیرت، استقامت اور تجدیدِ عہد کا مہینہ بنا دیا ہے
قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِی كِتَابِ اللَّهِ
بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جیسا کہ اللہ کی کتاب میں لکھا ہوا ہے
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ تمام مہینے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کا حصہ ہیں
کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس قرار دینا اسلامی تعلیمات سے ثابت نہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی زمانے اور مہینوں کے بارے میں غلط توہمات کی نفی فرمائی
جبکہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو توہمات کے بجائے دعا، صدقہ، استغفار اور توکل کی تعلیم دی ہے
شیخ عباس قمی رح نے مفاتیح الجنان میں ماہِ صفر کے آغاز میں صدقہ دینے، مخصوص دعائیں پڑھنے اور اللہ تعالیٰ سے بلاؤں سے حفاظت کی دعا کرنے کی سفارش نقل کی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو خوف اور وہم میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر امید اور نیک اعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے
ماہِ صفر کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ مسلمان تاریخِ اسلام کے ان عظیم واقعات سے سبق حاصل کرے جنہوں نے دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے اہلِ بیتِ رسول کی بے مثال قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ صفر المظفر غم و اندوہ کے ساتھ ساتھ شعور، وفاداری، ایثار اور دین پر ثابت قدم رہنے کی تجدید کا مہینہ بھی ہے
ماہِ صفر المظفر کے اہم تاریخی واقعات اور ان کے پیغامات
ماہِ صفر المظفر اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جس میں امتِ مسلمہ نے کئی ایسے المناک اور فیصلہ کن واقعات دیکھے جنہوں نے تاریخِ اسلام کا رخ متعین کیا
اس مہینے کی عظمت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں عظیم شخصیات کی شہادتیں اور رحلتیں ہوئیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ان واقعات نے حق و باطل، صبر و استقامت، وفاداری اور دین کی حفاظت کے ایسے اسباق دیے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتے رہیں گے
۱۔ اربعینِ سید الشہداء سلام اللہ علیھم (20 صفر)
ماہِ صفر کا سب سے عظیم اور معروف واقعہ اربعینِ امام حسین علیہ السلام ہے۔ بیس صفر کو امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی شہادت کے چالیس دن مکمل ہوتے ہیں۔ اسی دن صحابیٔ رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رحمت اللہ علیہ نے کربلا حاضر ہو کر امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کی، جسے تاریخ میں پہلی زیارتِ اربعین قرار دیا جاتا ہے
امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں
علامات المؤمن خمس: صلاة إحدى وخمسین، وزيارة الأربعین، والتختم فی الیمین، وتعفیر الجبین، والجهر ببسم الله الرحمن الرحيم
مومن کی پانچ نشانیاں ہیں: اکاون رکعت نماز، زیارتِ اربعین، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں پیشانی کو خاک پر رکھنا، اور بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا
زیارتِ اربعین آج دنیا کا سب سے بڑا سالانہ روحانی اجتماع بن چکی ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیت علیھم السلام حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی وفاداری کا عہد تازہ کرتے ہیں
۲۔ رحلتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (28 صفر)
مشہور قول کے مطابق 28 صفر کو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا سانحہ تھی
ارشادِ خداوندی ہے: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ...
محمدؐ صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی انسانیت کو توحید، عدل، اخلاق، رحمت اور اخوت کا درس دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد امت ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہوئی
۳۔ شہادتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام (28 صفر)
اکثر شیعہ مورخین کے مطابق 28 صفر کو حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام زہر کے ذریعے شہید کیے گئے۔ آپ علیہ السلام نے امت کے اتحاد، خونِ مسلم کی حفاظت اور دین کی بقا کے لیے عظیم قربانی دی
آپ علیہ السلام کے جسدِ مبارک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کے قریب دفن کرنے سے بھی روکا گیا، جس کے بعد آپ علیہ السلام کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا
۴۔ شہادتِ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام (30 صفر)
ماہِ صفر کے اختتام پر آٹھویں امام حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی
آپ علیہ السلام نے عباسی دور کے شدید سیاسی دباؤ کے باوجود علمِ اہلِ بیت علیھم السلام کی اشاعت فرمائی اور مناظروں کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو زندہ رکھا
مشہور تاریخی روایت کے مطابق مأمون عباسی نے انگور یا انار کے ذریعے زہر دے کر آپ علیہ السلام کو شہید کیا
ماہِ صفر کا پیغام
ماہِ صفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت صرف زبان سے نہیں بلکہ قربانی، صبر، استقامت اور ولایتِ اہلِ بیت علیھم السلام سے وابستگی کے ذریعے ہوتی ہے۔ اربعینِ حسینی ہمیں وفاداری سکھاتی ہے، رحلتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں سنتِ نبوی سے تمسک کی دعوت دیتی ہے، امام حسن علیہ السلام کی شہادت امت کے اتحاد کی اہمیت اجاگر کرتی ہے، جبکہ امام رضا علیہ السلام کی شہادت علم، حکمت اور استقامت کا روشن پیغام دیتی ہے
لہٰذا صفر المظفر غم و اندوہ کا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کی تجدید، اہلِ بیت علیھم السلام سے وفاداری اور اسلامی اقدار کی حفاظت کا مہینہ بھی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر دور کے مسلمان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنانا چاہیے۔


