امام زین العابدین : صبر و استقامت کا عظیم مینار
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صبر کو انبیاء، اولیاء اور صالحین کی بنیادی صفت قرار دیا ہے
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وبشر الصابرین
اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:إِنَّمَا یوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَھم بِغَیرِ حِسَابٍ
صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا کیا جائے گا
اگر قرآنِ کریم کی ان آیات کی عملی تفسیر کسی شخصیت میں نظر آتی ہے تو وہ حضرت امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام نے ایسے مصائب برداشت کیے جن کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے، لیکن ہر آزمائش میں صبر، حکمت، عبادت اور استقامت کا ایسا نمونہ پیش کیا جس نے اسلامِ محمدی کی روح کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا
امام زین العابدین علیہ السلام کربلا کے واحد بالغ مرد زندہ بچ جانے والے فرد تھے
آپ علیہ السلام نے اپنے والد حضرت امام حسین علیہ السلام ، اپنے چچا حضرت عباس علیہ السلام ، اپنے بھائی حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت علی اصغر علیہ السلام اور دیگر عزیزوں و اصحاب کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس کے بعد اہلِ بیت علیھم السلام کے خیموں کو جلتے دیکھا، مخدراتِ عصمت کی بے حرمتی، بچوں کی پیاس، اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں کی تلخیاں برداشت کیں
یہ تمام مصائب کسی بھی انسان کو توڑ سکتے تھے، لیکن امام سجاد علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
اسی لیے آپ علیہ السلام ہر حال میں رضاے الٰہی پر راضی رہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ مل کر آپؑ نے اسیری کو شکست نہیں بلکہ حق کی فتح میں تبدیل کر دیا۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں آپ علیہ السلام کے خطبات نے یزید لعین کی ظاہری کامیابی کو اخلاقی اور فکری شکست میں بدل دیا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد
صبر کا ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے
یہ حدیث امام زین العابدین علیہ السلام کی پوری زندگی پر صادق آتی ہے۔ آپ علیہ السلام کا صبر کمزوری نہیں بلکہ شعوری استقامت، خدا پر کامل اعتماد اور مقصد سے وابستگی کا نام تھا
مدینہ واپسی کے بعد بھی آپ علیہ السلام کو سکون نصیب نہ ہوا۔ اموی حکومت آپ علیہ السلام کی ہر سرگرمی پر نظر رکھتی تھی، لیکن آپ علیہ السلام نے تصادم کے بجائے تربیت، دعا، عبادت اور اخلاق کو اپنا میدان بنایا
آپ علیہ السلام نے ایک ایسی نسل تیار کی جو اہلِ بیت علیھم السلام کی تعلیمات کی امین بنی
امام سجاد علیہ السلام کی سب سے عظیم علمی یادگار صحیفۂ سجادیہ ہے، جسے زبورِ آلِ محمدؐ کہا جاتا ہے۔ یہ صرف دعاؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ توحید، اخلاق، عدالت، انسانی حقوق، عبادت اور اجتماعی ذمہ داری کا مکمل منشور ہے
آپ علیہ السلام نے دعا کے ذریعے امت کو وہ تعلیم دی جو اس دور کے سیاسی حالات میں براہِ راست بیان کرنا ممکن نہ تھا
دعائے مکارم الاخلاق میں آپ علیہ السلام بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں: اللَّهُمَّ بَلِّغْ بِإِيمَانِی أَكْمَلَ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْ يَقِينِی أَفْضَلَ الْيَقِينِ، وَانْتَهِ بِنِيَّتِی إِلَى أَحْسَنِ النِّيَّاتِ
یہ دعا اس بات کا اعلان ہے کہ حقیقی انقلاب انسان کے دل، ایمان اور اخلاق سے شروع ہوتا ہے
امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو اپنے والد امام حسین علیہ السلام پر مسلسل گریہ بھی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
بكى علي بن الحسين على أبيه عشرين سنة
امام علی بن الحسین علیہ السلام نے اپنے والد پر بیس سال تک گریہ فرمایا
یہ گریہ محض ذاتی غم کا اظہار نہیں تھا بلکہ ظلم کے خلاف ایک خاموش احتجاج اور کربلا کی یاد کو زندہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ تھا۔ جب بھی پانی سامنے آتا تو آپ علیہ السلام کو فرات کے کنارے پیاسے شہداء یاد آ جاتے، اور جب کھانا پیش کیا جاتا تو آپ علیہ السلام کو بھوکے بچوں کی یاد ستانے لگتی
امیرالمؤمنین حضرت علیہ السّلام کا فرمان ہے:الصبر صبران: صبرٌ على ما تكره، وصبرٌ عما تحب
صبر دو قسم کا ہے: ایک ناگوار حالات پر صبر، اور دوسرا خواہشات سے باز رہنے کا صبر
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے صبر کی ان دونوں منزلوں کو اپنی زندگی میں مجسم کر کے دکھایا۔ مصیبتوں میں بھی شکوہ زبان پر نہ آیا، اور اقتدار یا دنیاوی مفاد کے لیے کبھی حق سے سمجھوتہ نہیں کیا
آپ علیہ السلام کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اسلام صرف میدانِ جنگ میں نہیں بچتا بلکہ محرابِ عبادت، اشکِ مظلوم، اخلاقِ حسنہ، دعا، علم اور صبر کے ذریعے بھی محفوظ رہتا ہے
اگر کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے اسلام کو حیات بخشی تو امام زین العابدین علیہ السلام نے اسی پیغام کو اپنے صبر، عبادت، تعلیم، دعا اور کردار کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا
آج کا مسلمان اگر ظلم کے مقابلے میں استقامت، عبادت میں اخلاص، اخلاق میں بلندی، دعا میں معرفت اور معاشرے کی اصلاح کا جذبہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ آپ علیہ السلام کی حیات اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی سخت ہوں، جو شخص خدا سے وابستہ ہو وہ کبھی شکست نہیں کھاتا
اللہ تعالیٰ ہمیں امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ سے صبر، استقامت، بندگی، اخلاص اور خدمتِ دین کا درس حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں اسلامِ محمدی اور پیغامِ حسینی کے حقیقی امین بن سکیں


