بزدل سے مشورہ کیوں نہیں؟

2026-07-02 06:11

عہدنامۂ مالک اشتر کی روشنی میں ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ

مقدمہ

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے واضح اصول عطا کیے ہیں۔ ان اصولوں میں سے ایک نہایت اہم اصول مشاورت ہے۔ قرآن کریم نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: وامرھم شوری بینھم

ان کے معاملات باہمی مشورے سے انجام پاتے ہیں (الشوریٰ: 38)

اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا: وشاورھم فی الأمر 

اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے۔(آل عمران: 159)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مشورہ صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی، قیادت اور حکومت کا بنیادی ستون ہے۔ تاہم اسلام نے صرف مشورہ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ مشورہ کن افراد سے لیا جائے اور کن سے اجتناب کیا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے عظیم الشان عہد نامۂ مالک اشتر میں انتہائی حکمت کے ساتھ بیان فرمایا جب حضرت علی علیہ السلام نے جلیل القدر صحابی جناب مالک اشتر نخعی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا تو انہیں جو ہدایات عطا کیں، وہ اسلامی سیاست، عدالت، معیشت، انتظام اور اخلاق کا مکمل دستور ہیں۔ انہی ہدایات میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: وَإِيَّاكَ وَمُشَاوَرَةَ الْجَبَانِ، فَإِنَّهُ يُضَعِّفُكَ عَنِ الْأُمُورِ، وَيُعَظِّمُ عَلَيْكَ مَا لَيْسَ بِعَظِيمٍ، وَإِيَّاكَ وَمُشَاوَرَةَ الْبَخِيلِ، فَإِنَّهُ يَعْدِلُ بِكَ عَنِ الْفَضْلِ، وَيَعِدُكَ الْفَقْرَ، وَإِيَّاكَ وَمُشَاوَرَةَ الْحَرِيصِ، فَإِنَّهُ يُزَيِّنُ لَكَ الشَّرَهَ بِالْجَوْرِ، فَإِنَّ الْبُخْلَ وَالْجُبْنَ وَالْحِرْصَ غَرَائِزُ شَتَّى يَجْمَعُهَا سُوءُ الظَّنِّ بِاللَّهِ

بزدل سے مشورہ کرنے سے بچو، کیونکہ وہ تمہیں اہم امور میں کمزور بنا دیتا ہے اور معمولی چیزوں کو بھی تمہاری نظر میں بہت بڑا بنا دیتا ہے۔ بخیل سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ تمہیں نیکی اور سخاوت سے روک کر فقر کا خوف دلاتا ہے۔ حریص سے بھی مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ ظلم کے ذریعے لالچ کو تمہارے لیے خوشنما بنا دیتا ہے۔ بے شک بخل، بزدلی اور حرص مختلف خصلتیں ہیں، لیکن ان سب کی بنیاد اللہ پر بدگمانی ہے

یہ فرمان اسلامی فکر میں قیادت اور مشاورت کا ایسا ابدی اصول ہے جو ہر دور کے حکمران، عالم، مدیر، معلم اور معاشرتی رہنما کے لیے مشعلِ راہ ہے

اسلام میں مشاورت کا مقام

(ش و ر) شرت العسل۔ چھتے سے تازہ شہد نکالنا۔ اسی مناسبت سے ذہنی چھتے سے رائے اخذ کرنے کو مشورہ کہا جاتا ہے

پس مشاورت دراصل عقلوں کے اجتماع کا نام ہے۔ ایک فرد کی عقل محدود ہوتی ہے، لیکن جب وہ اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ تجربہ سے مشورہ کرتا ہے تو گویا کئی عقلیں اس کی مددگار بن جاتی ہیں۔ اسی لیے امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِهِ هَلَكَ، وَمَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا

جو اپنی رائے پر اصرار کرے وہ ہلاک ہو جاتا ہے، اور جو اہلِ رائے سے مشورہ کرے وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جاتا ہے

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: لا ظھیر کالمشاورہ

مشورے جیسا کوئی مددگار نہیں

ان فرامین سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مشورے کی اصل غرض حقیقت تک پہنچنا ہے، نہ کہ اپنی خواہشات کی تائید حاصل کرنا

اسلامی حکومت میں مشیر کی صفات

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان سے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ مشیر صرف صاحبِ علم ہونا کافی نہیں بلکہ صاحبِ کردار بھی ہونا چاہیے۔ اسلام کی نظر میں ایک کامیاب مشیر میں کم از کم پانچ صفات ہونی چاہییں

1 ایمان اور تقویٰ

2 علم اور تجربہ

3 بصیرت اور دور اندیشی

4 شجاعت اور جرأتِ اظہار

5 امانت و خیر خواہی

اگر ان صفات میں سے شجاعت ختم ہو جائے تو علم بھی بے اثر ہو جاتا ہے، کیونکہ خوف زدہ انسان حق بات جانتے ہوئے بھی اسے بیان نہیں کرتا

اسی لیے قرآن مجید اہلِ ایمان کی ایک نمایاں صفت بیان کرتا ہے: الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ

وہ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (سورۂ احزاب: 39)

یہی وہ وصف ہے جو ایک صالح مشیر کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے

بزدل مشیر کا نفسیاتی اثر

امام علی علیہ السلام کے اس فرمان سے صرف بزدل کی مذمت نہیں ھوتی ھے بلکہ اس کے نفسیاتی اثرات بھی واضح ھوتے ہیں کیونکہ بزدل شخص : ہر موقع پر خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے

دوسروں کے حوصلے پست کرتا ہے

فیصلے میں تاخیر پیدا کرتا ہے۔

مواقع ضائع کرا دیتا ہے

دشمن کی طاقت کو بڑھا کر اور اپنی قوت کو کم تر دکھاتا ہے۔

قائد کے اندر شک اور تردد پیدا کرتا ہے اسی حقیقت کی طرف قرآن نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: فَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

کمزور نہ پڑو، غمگین نہ ہو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے (آل عمران: 139)

گویا اسلامی قیادت کا مزاج کمزوری نہیں بلکہ عزم اور یقین ہے

ہر شخص مشیر نہیں بن سکتا

اگرچہ مشورہ اسلام کا بنیادی اصول ہے، لیکن ہر شخص مشورہ دینے کا اہل نہیں ہوتا۔ انسان کی شخصیت، اخلاق، ایمان اور نفسیات اس کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے امام علیؑ نے تین ایسے افراد کا ذکر فرمایا جن سے مشورہ نقصان دہ ہے بزدل، بخیل اور حریص

یہ تینوں صفات اگر کسی مشیر میں موجود ہوں تو اس کی رائے حقیقت کی بجائے خوف، لالچ اور خود غرضی کی عکاس بن جاتی ہے

بزدل سے مشورہ کیوں نہیں؟

حضرت امام علی علیہ السلام نے خود اس کی دو بنیادی علتیں بیان فرمائیں

پہلی علت فانه يضعفك عن الامور

بزدل تمہارے ارادے کو کمزور کر دیتا ہے

بزدل انسان ہمیشہ خطرات کو امکانات پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ ہر منصوبے میں ناکامی دیکھتا ہے، ہر اصلاح میں نقصان اور ہر اقدام میں تباہی۔ اس کی گفتگو آہستہ آہستہ قائد کے اندر بھی تردد پیدا کر دیتی ہے

دوسری علت و یعظم علیک ما لیس بعظیم

وہ معمولی رکاوٹوں کو بھی بہت بڑا بنا کر پیش کرتا ہے

یہ بزدلی کی نفسیاتی کیفیت ہے۔ ایسا شخص چھوٹے مسائل کو بحران بنا دیتا ہے، دشمن کو ناقابلِ شکست اور اپنے آپ کو بے بس تصور کرتا ہے۔ نتیجتاً بڑے فیصلے مؤخر ہوتے ہیں اور قومیں ترقی کے مواقع کھو دیتی ہیں

قرآن کریم خوف کی نفسیات کو ایمان کے منافی قرار دیتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔(آل عمران: 175)

اسی طرح فرمایا: فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

یہ آیت بتاتی ہے کہ مشورے کے بعد فیصلہ خوف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ پر توکل کی بنیاد پر ہونا چاہیے

ایک اور مقام پر فرمایا: قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

کہدیجئے: اللہ نے جو ہمارے لیے مقدر فرمایا ہے اس کے سوا ہمیں کوئی حادثہ ہرگز پیش نہیں آتا وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنین کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں

جب انسان کا یقین ہو کہ نفع و نقصان اللہ کے اختیار میں ہے تو بزدلی اس کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی

بزدلی،بخل اور حرص کی مشترک بنیاد

حضرت امام علی علیہ السلام نے ان تینوں صفات کی جڑ ایک ہی بیان فرمائی: يَجْمَعُهَا سُوءُ الظَّنِّ بِاللَّهِ

یہ جملہ نہج البلاغہ کا شاہکار ہے۔ بخیل اس لیے خرچ نہیں کرتا کہ اسے خدا کی رازقیت پر اعتماد نہیں۔ بزدل اس لیے حق کا ساتھ نہیں دیتا کہ اسے اللہ کی نصرت پر یقین کمزور ہوتا ہے۔ حریص اس لیے ظلم کی طرف مائل ہوتا ہے کہ اسے خدائی رزاقیت پر اعتماد نہیں ہوتا بلکہ وہ ظاھر مفاد کے درپے ھوتا ھے۔ گویا اللہ پر حسنِ ظن انسان کو شجاع، سخی اور قانع بناتا ہے، جبکہ سوءِ ظن اسے بخیل، بزدل اور حریص بنا دیتا ہے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اہلِ ایمان، اہلِ بصیرت اور اہلِ عزم سے مشورہ فرمایا۔ غزوۂ بدر، غزوۂ خندق اور صلحِ حدیبیہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے افراد کی رائے کو ترجیح دی جن کی بنیاد ایمان، حکمت اور شجاعت تھی، نہ کہ خوف اور مصلحت پرستی

عصر حاضر میں اس فرمان کی اہمیت

آج یہ فرمان صرف حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے رہنما ہے جو کسی ادارے، مدرسے، تنظیم، خاندان یا معاشرے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ اگر اس کے مشیر خوف زدہ، مفاد پرست یا لالچی ہوں تو درست فیصلے ممکن نہیں رہتے۔ اس کے برعکس اگر مشیر صاحبِ علم، صاحبِ تقویٰ، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ شجاعت ہوں تو وہ ادارہ ترقی، عدل اور استحکام کی طرف بڑھتا ہے

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ فرمان صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اسلامی قیادت کا ابدی دستور ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مشورہ عقل کی بنیاد پر ہو، مگر مشیر کے اخلاق اور ایمان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ بزدل، بخیل اور حریص انسان کی رائے اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے، اس لیے ایسے افراد سے مشورہ اہم فیصلوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے

آج امتِ مسلمہ اگر نہج البلاغہ کے اس سنہری اصول کو اپنی اجتماعی، سیاسی، دینی اور تعلیمی زندگی میں نافذ کر لے تو قیادت زیادہ بصیرت مند، فیصلے زیادہ حکیمانہ اور معاشرہ زیادہ مضبوط بن سکتا ہے۔ یہی عہدنامۂ مالک اشتر کا پیغام ہے، یہی علوی حکمت کا جوہر ہے اور یہی ایک عادل، باوقار اور باایمان معاشرے کی بنیاد ہے

العودة إلى الأعلى