دین کی بقا میں ولایت اور کربلا کا باہمی تعلق
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ان الدین عند اللہ الاسلام بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے یہ آیۂ کریمہ دین اسلام کی عظمت اور اس کے مقام کو واضح کرتی ہے
اس مختصر مگر جامع آیت میں دین کی دو بنیادی خصوصیات بیان ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور منتخب شدہ نظامِ حیات ہے، اور دوسری یہ کہ چونکہ دین اللہ سے وابستہ ہے، اس لیے اسے دوام، بقا اور خلود حاصل ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ فنا ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے
اس بنا پر دین اسلام کسی مخصوص زمانے یا علاقے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور مکمل دستورِ حیات ہے۔ اس دین کی حفاظت، نشر و اشاعت اور بقا کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس ذمہ داری کو ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے سپرد کیا
دین کی بقا اور اہل بیت ع کی قربانیاں
تاریخ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انبیاء اور اولیائے الٰہی نے دین خدا کی حفاظت کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ حضرت نوحؑ نے صدیوں تبلیغ کی، حضرت ابراہیمؑ نے آگ قبول کی، حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے مقابلے میں قیام کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قسم کی اذیتوں کو برداشت کیا۔
اسی سلسلے کی تکمیل اہل بیت علیہم السلام کے ذریعے ہوئی۔ امیرالمؤمنین علیؑ نے محراب میں خون دیا، امام حسن مجتبیٰؑ نے زہر کا جام نوش کیا اور امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنی اور اپنے اہل بیتؑ کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دین اسلام کو نئی زندگی عطا کی
اسی حقیقت کو علماء نے اس جملے میں سمیٹ دیا ہے: الاسلام محمدی الحدوث حسینی البقاء
اسلام کا ظہور محمدی ہے اور اس کی بقا حسینی ہے
ولایت :دین کا مضبوط قلعہ
دین کی بقا کا ایک بنیادی ستون ولایت ہے۔ روایات میں ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو نجات اور حفاظت کے قلعے سے تعبیر کیا گیا ہے
حدیث قدسی امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ھے فرمایا: وَلَایةُ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی
یعنی ولایت علیؑ میرا قلعہ ہے، پس جو اس قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا
قلعہ ہمیشہ حفاظت اور امنیت کی علامت ہوتا ہے۔ جو شخص قلعے کے اندر موجود ہو وہ دشمن کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے، لیکن جو اس سے باہر ہو اس کے لیے کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔ اسی طرح ولایتِ اہل بیتؑ انسان کے ایمان، عقیدے اور آخرت کی حفاظت کا ضامن ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ قابل توجہ ہے کہ صرف اللہ اور رسول پر ایمان کا زبانی دعویٰ نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ ولایتِ اہل بیتؑ کا اقرار اور اس کے تقاضوں پر عمل بھی ضروری ہے
حدیثِ سلسلۃ الذہب اور ولایت کی شرط
امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: كَلِمَةُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی
پھر چند قدم آگے بڑھ کر فرمایا:
بِشرطِهَا و شروطھا وَأَنَا مِنْ شُرُوطِهَا
یعنی توحید کا قلعہ نجات کا ذریعہ ضرور ہے لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں اور میں ان شرطوں میں سے ایک شرط ہوں
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ توحید اور ولایت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ جس طرح جڑ اور درخت کو الگ نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح ایمان اور ولایت بھی ایک دوسرے سے وابستہ ہیں
ایمان و ولایت جڑ اور اعمال شاخیں
دین کے نظام کو اگر ایک درخت سے تشبیہ دی جائے تو ایمان اور ولایت اس کی جڑ ہیں جبکہ اعمال صالحہ اس کی شاخیں، پتے اور پھل ہیں۔
جب جڑ مضبوط ہوگی تو درخت سرسبز ہوگا، اس پر پھل آئیں گے اور وہ نشوونما پائے گا۔ لیکن اگر جڑ ہی موجود نہ ہو تو شاخوں اور پھلوں کا وجود بے معنی ہوجاتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں عقیدہ، معرفت اور ولایت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جبکہ اعمال ان بنیادوں پر قائم ہونے والی عمارت ہیں
امام محمد باقرؑ کی روایت اور ولایت کی اہمیت
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: لَوْ أَنَّ رَجُلًا قَامَ لَيْلَهُ وَصَامَ نَهَارَهُ وَتَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَالِهِ وَحَجَّ جَمِيعَ دَهْرِهِ وَلَمْ يَعْرِفْ وَلَايَةَ وَلِيِّ اللَّهِ فَيُوَالِيَهُ وَيَكُونَ جَمِيعُ أَعْمَالِهِ بِدَلَالَتِهِ إِلَيْهِ مَا كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقٌّ فِي ثَوَابِهِ وَلَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ (الکافی، ج 1، ص 183)
اگر کوئی شخص پوری رات عبادت میں گزارے، دن بھر روزے رکھے، اپنا تمام مال صدقہ کر دے اور پوری عمر حج کرتا رہے، لیکن اللہ کے ولی کی معرفت اور ولایت نہ رکھتا ہو اور اس کے اعمال ولیِ خدا کی رہنمائی کے مطابق نہ ہوں، تو اس کے لیے اللہ کے ہاں ثواب کا کوئی حق نہیں اور وہ اہل ایمان میں شمار نہیں ہوگا
یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ولایت اور معرفتِ امام پر ہے
کربلا: ولایت سے اتصال کا ذریعہ
کربلا درحقیقت انسان کو اسی ولایت سے جوڑنے کا نام ہے۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ مکتب فکر ہے جو ہر دور کے انسان کو حق و باطل کے درمیان فرق کرنا سکھاتا ہے
امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان، اپنے اہل بیتؑ اور اپنے اصحاب کی قربانی دے کر یہ ثابت کردیا کہ دین کی بقا ہر چیز پر مقدم ہے۔ اگر دین محفوظ رہے تو جانوں کی قربانی بھی معمولی ہے، لیکن دین کو قربان نہیں کیا جاسکتا
کربلا انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ایمان اور ولایت کے قلعے سے وابستہ رہو، کیونکہ یہی نجات اور کامیابی کا راستہ ہے
مودتِ اہل بیتؑ اور عملی وابستگی
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى
بعض افراد مودت کو صرف محبت سمجھتے ہیں، جبکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مودت صرف قلبی محبت کا نام نہیں بلکہ عملی وابستگی اور پیروی کا نام بھی ہے
حدیث ثقلین میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِی أَبَدًا
یہاں "تمسک" کا لفظ صرف محبت نہیں بلکہ عملی پیروی، اتباع اور وابستگی کو ظاہر کرتا ہے
قرآن اور ولایت کی وفاداری
سورہ ممتحنہ میں ارشاد ہوتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ
اس آیت کا شان نزول حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ ہے جس نے خفیہ طور پر قریش کو مسلمانوں کی فوجی تیاریوں کی اطلاع دینے کی کوشش کی تھی
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ وفاداری، وابستگی اور حق کے ساتھ عملی تعلق کا نام ہے
نتیجہ
دین اسلام چونکہ اللہ کا منتخب کردہ دین ہے، اس لیے اسے بقا اور خلود حاصل ہے۔ اس دین کی حفاظت کے لیے انبیاء و ائمہ علیہم السلام نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ ولایت اس دین کی بنیاد اور حفاظتی قلعہ ہے، جبکہ اعمال اس کی شاخیں اور ثمرات ہیں
امام حسین علیہ السلام کی تحریک کربلا دراصل اسی ولایت، ایمان اور دین کی بقا کی تحریک تھی۔ کربلا آج بھی انسانیت کو یہ پیغام دیتی ہے کہ نجات، کامیابی اور بقا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کے قلعے میں داخل ہوکر دینِ خدا سے وابستہ رہے۔ صدقہ کر دے اور پوری عمر حج کرتا رہے، لیکن اللہ کے ولی کی معرفت اور ولایت نہ رکھتا ہو اور اس کے اعمال ولیِ خدا کی رہنمائی کے مطابق نہ ہوں، تو اس کے لیے اللہ کے ہاں ثواب کا کوئی حق نہیں اور وہ اہل ایمان میں شمار نہیں ہوگا۔
یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ولایت اور معرفتِ امام پر ہے


