پاکستان: اسلامی نظریاتی کونسل کے زیرِ اہتمام سالانہ قومی بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد

2026-06-17 09:38

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’سالانہ قومی بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس‘‘ کونسل کے مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء کرام نے شرکت کی۔

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’سالانہ قومی بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس‘‘ کونسل کے مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد محرم الحرام کے مقدس مہینے میں بین المسالک ہم آہنگی، قومی وحدت اور اتحادِ امت کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ محرم الحرام اسلامی تاریخ کا عظیم اور بابرکت مہینہ ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، قربانی، ایثار، وفاداری، حق گوئی اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا امتِ مسلمہ کے لیے حق و باطل میں امتیاز، ثابت قدمی اور رضائے الٰہی کے حصول کا ایک لازوال پیغام ہے۔

علماء کرام نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ قومی، علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں محرم الحرام کے دوران قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحادِ امت کا فروغ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل، حکومتِ پاکستان، قومی پیغامِ پاکستان کمیٹی اور مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام کے اتفاقِ رائے سے مرتب کردہ ضابطۂ اخلاق ملک میں امن، استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے قیام کے لیے ایک مؤثر اور تاریخی قومی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ اتحادِ بین المسلمین کے فروغ کے لیے تمام مکاتبِ فکر کی مساجد، مدارس اور دینی مراکز میں مشترکہ اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے فضائل، ان کی سیرتِ طیبہ اور مشترکہ اسلامی اقدار کو اجاگر کرنے والے علمی، دینی اور تربیتی پروگرام امتِ مسلمہ کے درمیان محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف امت کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد اور قربت کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ نفرت، تعصب اور تفرقہ انگیزی کے رجحانات کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر علماء کرام نے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وطن کے محافظ دفاعِ پاکستان کے لیے بے مثال خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسی طرح علماء، خطباء، اساتذہ، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فکری و نظریاتی محاذ پر قومی وحدت، رواداری، باہمی احترام اور استحکامِ پاکستان کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں۔

منسلکات

العودة إلى الأعلى