الجزائر کی ننھی بچی کو کربلا سے شفا کی امید، حرمِ امام حسینؑ کی سرپرستی میں بینائی بچانے کی جدید کوشش

2026-07-06 12:34

حرمِ امام حسینؑ کی طبی و انسانی خدمات کے تسلسل میں الجزائر سے تعلق رکھنے والی ننھی بچی بتول یاسین، جو دونوں آنکھوں کے ریٹینا کے سرطان میں مبتلا ہے جو کربلا کے مرکز الحیاۃ برائے انٹروینشنل ریڈیالوجی و دماغی کیتھیٹرائزیشن میں جدید طبی علاج سے گزر رہی ہے

اس علاج کا مقصد سرطان سے متاثرہ اس کی دوسری آنکھ کو ضائع ہونے سے بچانا ہے، جبکہ بیماری کے باعث اس کی ایک آنکھ پہلے ہی نکالی جا چکی ہے

مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غزوان علوان الطائی نے بتایا کہ بچی کا تفصیلی طبی معائنہ ماہرینِ امراضِ چشم اور بچوں کے ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا گیا، جس کے بعد ایک خصوصی میڈیکل بورڈ نے اس کی حالت کا جائزہ لے کر آنکھ کی شریان کے ذریعے رسولی تک براہِ راست کیموتھراپی پہنچانے پر مشتمل جدید علاجی منصوبہ منظور کیا

انہوں نے بتایا کہ علاج کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی دو مراحل طے شدہ شیڈول کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔ ہر مرحلے کے بعد رسولی کی کیفیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ آئندہ علاج کی حکمتِ عملی کا تعین کیا جا سکے

ڈاکٹر الطائی کے مطابق پہلی کارروائی انتہائی کامیاب رہی، جس میں طبی ٹیم نے ران کی شریان کے ذریعے چند ہی منٹوں میں آنکھ کی شریان تک رسائی حاصل کر کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچائی۔ یہ نہایت حساس اور پیچیدہ عمل نصف گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل کیا گیا

انہوں نے مزید بتایا کہ مرکز کو اس جدید طریقۂ علاج میں نمایاں مہارت حاصل ہے۔ اس سے قبل بھی الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک بچی کا اسی طریقۂ علاج کے ذریعے کامیابی سے علاج کیا جا چکا ہے، جس کی بینائی محفوظ رہی اور وہ اب بھی باقاعدہ طبی نگرانی میں ہے

انہوں نے کہا کہ الجزائر سے عراق تک بچی اور اس کے اہلِ خانہ کی آمد حرمِ امام حسینؑ کے تعاون سے ممکن ہوئی۔ حرمِ امام حسینؑ نے ان کے سفر، رہائش، آمدورفت اورعلاج سے متعلق تمام ضروری انتظامات اپنی سرپرستی میں مکمل کیے تاکہ خاندان پوری توجہ کے ساتھ علاج کے مراحل طے کر سکے

بچی کے والد یاسین العموری سعد نے بتایا کہ بیماری کی ابتدائی علامات اس وقت ظاہر ہوئیں جب ان کی بیٹی صرف سات ماہ کی تھی۔ آنکھ کی پتلی میں غیر معمولی سفید چمک نظر آنے پر معائنہ کرایا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ دونوں آنکھوں کے ریٹینا کے سرطان میں مبتلا ہے

انہوں نے کہا کہ الجزائر میں کیموتھراپی کے متعدد مراحل کے باوجود مرض پر قابو نہ پایا جا سکا، جس کے نتیجے میں ایک آنکھ نکالنا پڑی، جبکہ دوسری آنکھ بھی شدید خطرے سے دوچار ہو گئی۔ بعد ازاں مرکز الحیاۃ کی کامیاب طبی خدمات کے بارے میں معلومات حاصل ہونے پر وہ علاج کی امید لے کر کربلا پہنچے

دریں اثنا، مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے اور حرمِ امام حسینؑ کے متولیِ شرعی سماحۃ الشیخ عبدالمہدی کربلائی نے روضۂ امام حسینؑ میں الجزائر سے آنے والی ننھی بچی اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حرمِ امام حسینؑ انسانی ہمدردی اور طبی خدمت کے اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے مختلف ممالک سے آنے والے مریضوں کو جدید علاج، مکمل سرپرستی اور نئی امید فراہم کرتا رہے گا


منسلکات

العودة إلى الأعلى