خدمتِ خلق اور مظلوم کی مدد کا اجر
اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جو صرف عبادات و مناسک تک محدود نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے
اسلام نے جہاں نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات کی تاکید فرمائی ہے، وہیں بندگانِ خدا کی خدمت، مظلوموں کی مدد، غم زدہ انسانوں کی دلجوئی اور پریشان حال افراد کی مشکلات کو دور کرنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے
یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں اغاثۂ ملھوف اور تنفیسِ مکروب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے
روایاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مومن کی پریشانی دور کرنا نہ صرف ایک اخلاقی و انسانی فریضہ ہے بلکہ یہ انسان کے گناہوں کے کفارے، رحمتِ الٰہی اور نجاتِ آخرت کا عظیم ذریعہ بھی ہے
نہج البلاغہ میں حضرت مولائے کائنات امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا فرمانِ مبارک ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: من كفارات الذنوب العظام اغاثة الملھوف و التنفیس عن المكروب
ترجمہ :بڑے بڑے گناہوں کے کفاروں میں سے یہ بھی ہے کہ فریاد کرنے والے کی مدد کی جائے اور غم و مصیبت میں گرفتار انسان کی پریشانی کو دور کیا جائے
یہ فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں صرف ظاہری عبادات ہی نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانوں کے دکھ درد بانٹنا اور ان کی مشکلات کو آسان کرنا بھی قربِ الٰہی کا اہم وسیلہ ہے
گناہوں کے کفارے سے مراد کیا ہے؟
یہاں ایک اہم علمی نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ جب روایات میں یہ کہا جاتا ہے کہ مظلوم کی مدد اور پریشان حال افراد کی دلجوئی گناہوں کا کفارہ ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس سے تمام گناہ مراد ہیں یا بعض مخصوص گناہ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ہر قسم کے گناہ مراد نہیں ہیں۔ خصوصاً حقوق الناس اس میں شامل نہیں، کیونکہ حقوق الناس اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک صاحبِ حق اپنا حق معاف نہ کرے یا اس کا حق ادا نہ کیا جائے۔ اگر کسی شخص نے کسی کا مال غصب کیا ہو، کسی پر ظلم کیا ہو یا کسی کی آبرو کو نقصان پہنچایا ہو، تو محض نیک اعمال انجام دینے سے وہ حق ساقط نہیں ہوتا۔
اسی طرح وہ گناہ بھی اس دائرے میں شامل نہیں جن کے لیے شریعت نے حدود مقرر فرمائی ہیں
لہٰذا ان روایات سے مراد وہ گناہ ہیں جو حق اللہ کے دائرے میں ہوں اور جن کے لیے شریعت نے کوئی خاص حد مقرر نہ کی ہو۔ ایسے گناہوں کے بارے میں امید رکھی جا سکتی ہے کہ خداوندِ متعال بندگانِ خدا کی خدمت کے سبب انہیں معاف فرما دے۔
روایات میں خدمتِ خلق اور سماجی تعاون کو اسلامی معاشرے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ بحار الانوار میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل ہوئی ہے: روی فی البحار باسناده عن النبی (ص) قال: أمر النبی بسبع: عیادة المریض، واتباع الجنازة، وإبرار القسم، وتشمیت العاطس، ونصر المظلوم، وإفشاء السلام، وإجابہ الداعی
ترجمہ: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات امور کا حکم فرمایا: مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنا، چھینکنے والے کو دعا دینا، مظلوم کی مدد کرنا، سلام کو عام کرنا اور دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا
اس حدیث میں نصر المظلوم کو دیگر اسلامی شعائر کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مظلوم کی مدد کرنا ایک عظیم دینی و اخلاقی فریضہ ہے
مومن کی پریشانی دور کرنے کا اجر
اسلام انسان کو دوسروں کے غم بانٹنے اور ان کی مشکلات میں سہارا بننے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کی پریشانی دور کرنے کے عظیم اجر کو بیان فرمایا ہے
وفی مناهی النبی (ص) أنه قال: ألا ومن فرّج عن مؤمن كربةً من كرب الدنيا فرّج الله عنه اثنتین وسبعین كربة من كرب الآخرة، واثنتین وسبعین كربة من كرب الدنيا۔
آگاہ رہو! جو شخص کسی مومن کی دنیاوی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے آخرت کی بہتر (72) پریشانیاں دور فرمائے گا اور دنیا کی بھی بہتر (72) سختیاں اس سے دور کرے گا
یہ روایت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، خداوندِ متعال اس کے لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے
ایک معمولی نیکی، جنت کا سبب
اسلام میں اعمال کی قدر و قیمت ان کے ظاہری حجم سے نہیں، بلکہ اخلاص اور انسانیت پر ان کے اثر سے دیکھی جاتی ہے۔ بسا اوقات ایک چھوٹا سا عمل بھی انسان کی نجات اور جنت کا سبب بن جاتا ہے
روایت میں ہے: وبإسناده عن الصادق عليه السلام عن آبائه قال: قال رسول الله (ص): أوحى الله تعالى إلى داود النبی: يا داود، إن عبداً من عبادی لیاتینی بالحسنة فأحكم له بها الجنة. قال داود (ع): وما تلك الحسنة؟ قال تعالى: كربة ينفسها عن مؤمن بقدر تمرة أو شق تمرة. فقال داود (ع): يا رب، حقٌّ لمن عرفك أن لا يقطع رجاءه منك۔
حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی: اے داؤد! میرے بندوں میں سے کوئی بندہ اگر میرے حضور ایک نیکی لے آئے تو میں اس کے لیے جنت کا فیصلہ کر دیتا ہوں
حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا: پروردگار! وہ کون سی نیکی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کسی مومن کی ایک پریشانی کو دور کرنا، خواہ وہ ایک کھجور یا آدھی کھجور کے برابر ہی کیوں نہ ہو
اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب! جو شخص تجھے پہچان لے، اس کے لیے سزاوار ہے کہ وہ کبھی بھی تجھ سے اپنی امید منقطع نہ کرے
یہ روایت انسان کو رحمتِ الٰہی کی وسعت اور خدمتِ خلق کی عظمت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
آج کا انسان شدید معاشرتی، اقتصادی اور نفسیاتی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ غربت، بے روزگاری، ظلم، بیماری اور ذہنی دباؤ نے انسان کو اندر سے توڑ دیا ہے۔ ایسے دور میں اگر کوئی شخص کسی غریب کی مدد کرے، کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھے، کسی مقروض کی مشکل آسان کرے، کسی مظلوم کی حمایت کرے یا کسی غم زدہ انسان کے دل میں امید پیدا کرے، تو یہ محض انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عظیم عبادت ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ عبادت صرف مصلّے تک محدود نہیں، بلکہ بندگانِ خدا کے کام آنا بھی عبادت ہے۔ اگر معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرنے لگیں تو بہت سے سماجی بحران خود بخود ختم ہو جائیں۔
روایاتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے واضح ہوتا ہے کہ اغاثۂ ملھوف اور تنفیسِ مکروب اسلام کی عظیم ترین اخلاقی تعلیمات میں سے ہیں۔ مظلوم کی مدد، غم زدہ انسان کی دلجوئی اور پریشان حال افراد کی مشکلات کو دور کرنا نہ صرف انسانیت کی خدمت ہے بلکہ یہ قربِ الٰہی، مغفرتِ گناہ اور نجاتِ آخرت کا اہم ذریعہ بھی ہے
البتہ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو حق اللہ کے دائرے میں ہوں، نہ کہ حقوق الناس یا حدودِ شرعیہ سے متعلق جرائم
لہٰذا ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں ہمدردی، تعاون، ایثار اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دے، کیونکہ بندگانِ خدا کی خدمت درحقیقت خدا کی رضا اور قربِ الٰہی کا راستہ ہے


