حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی

عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے

2026-06-06 11:21

مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ کو نجف اشرف میں ان کی وصیت کے مطابق سپردِ خاک کر دیا گیا

مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تشییعِ جنازہ کے دل سوز اور رقت انگیز مناظر کاظمین، کربلائے معلیٰ اور نجف اشرف میں دیکھنے کو ملے، جہاں لاکھوں مؤمنین، علماء، طلابِ علومِ دینیہ اور عقیدت مندوں نے اپنے محبوب مرجع کو پرسۂ عقیدت پیش کیا۔ یہ مناظر ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو غمگین کر رہے تھے

آپؒ نے اپنی بابرکت زندگی کے 96 برس دینِ مبین اسلام، مکتبِ اہل بیتؑ، تدریس، تحقیق، فقاہت اور تربیتِ طلاب کے لیے وقف کیے۔ آپؒ کا شمار عصرِ حاضر کے ممتاز مراجعِ عظام میں ہوتا تھا۔ آپ کی علمی گہرائی، زہد و تقویٰ، سادگی، اخلاص اور امتِ مسلمہ کی رہنمائی میں ادا کیا جانے والا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ نے اپنی گرانقدر علمی میراث، فقہی آثار اور شاگردوں کی ایک ایسی نسل چھوڑی ہے جو آنے والے زمانوں میں بھی ان کے افکار و تعلیمات کو زندہ رکھے گی۔ ان کی رحلت نہ صرف حوزۂ علمیہ نجف اشرف بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے

اللہ رب العزت اس عظیم خادمِ دین کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمدؐ کے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی علمی، دینی اور روحانی خدمات کو صدقۂ جاریہ قرار دے، اور ہمیں ان کے علمی و اخلاقی نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

منسلکات

العودة إلى الأعلى