شیعانِ اہلِ بیتؑ صبر و استقامت میں امت کے لیے روشن نمونہ ہیں

2026-04-11 11:57

انسانی اقدار کی بلند ترین جلوہ گری اُس وقت سامنے آتی ہے جب حالات انتہائی تاریک اور آزمائشیں نہایت سخت ہوں۔ تاریخِ انسانی میں مکتبِ اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکار وہ شیعہ جو اُن کے نقشِ قدم پر چلتے رہے استقامت کی وہ درخشاں مثال ہیں جس نے رفتہ رفتہ ایک طرزِ زندگی اور دائمی پیغام کی صورت اختیار کر لی ہے

پہلا سبق: عقیدہ اور بصیرت پر قائم استقامت

حقیقی استقامت محض مادی قوت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وہ گہرے ایمان اور واضح بصیرت سے جنم لیتی ہے۔ جب کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اپنے اہلِ بیتؑ اور مٹھی بھر وفادار ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تو نہ اُن کے پاس کوئی عظیم لشکر تھا اور نہ ہی ایسا جنگی ساز و سامان جو یزیدی فوج کا مقابلہ کر سکتا، مگر اُن کے پاس ایک ایسی طاقت تھی جو ہر ظاہری قوت سے بلند تر تھی: یہ یقین کہ راہِ حق میں موت درحقیقت حیاتِ جاوداں ہے اور ظلم کے ساتھ جینا سراسر ذلت و رسوائی ہے

یہی درس تاریخ کے مختلف ادوار میں اُن کے شیعوں کے کردار میں نمایاں نظر آتا ہے۔ جب حضرت مختار ثقفیؒ نے امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کیا تو اُن کی تحریک ذاتی انتقام کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ایک گہرے دینی شعور کی آئینہ دار تھی۔ وہ عدلِ الٰہی کے نفاذ اور فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے جذبے سے سرشار تھے

اسی طرح جب سلیمان بن صرد خزاعیؓ کی قیادت میں “توّابین” نے اپنی مشہور تحریک کا آغاز کیا تو اُن کا نعرہ "یا لثارات الحسین" محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک راسخ عقیدے کا اعلان تھا یہ اعلان کہ حسین علیہ السلام کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا

دوسرا سبق: درد و تکلیف کو تخلیقی قوت میں ڈھال دینا

اہلِ بیتؑ کے شیعوں کا ایک عظیم ترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مصیبتوں اور دکھوں کو محض رنج و الم تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں ایک زندہ ثقافت اور تخلیقی توانائی میں بدل دیا،مجالسِ عزائے حسینی صرف گریہ و زاری کی محفلیں نہ رہیں بلکہ وہ شعور و آگہی کے منبر بن گئیں ،ایسے مراکز جہاں انسانی اقدار کی تعلیم دی جاتی ہے اور دلوں میں بیداری کی شمع روشن کی جاتی ہے

جب عباسی حکمرانوں نے شیعوں کو ذکرِ عاشورا منانے سے روک دیا تو وہ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ اپنی استقامت کو برقرار رکھتے ہوئے نئے اسالیب اختیار کیے تاکہ اپنی شناخت اور ورثے کو محفوظ رکھ سکیں۔ جب عباسی خلیفہ مأمون کے دور میں انہیں عزاداری کی اجازت ملی تو شعائرِ حسینی نے نئی زندگی پائی اور ایک ہمہ گیر ثقافتی تحریک کی صورت اختیار کر لی

بعد ازاں عہدِ بویہ میں یہی مجالس مزید ترقی کر کے ایک مکمل سماجی ادارے کی شکل اختیار کر گئیں، جہاں نہ صرف مذہبی شعور بلکہ اجتماعی ہم آہنگی بھی پروان چڑھنے لگی یوں شیعانِ اہلِ بیتؑ نے سانحۂ کربلا کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک مکمل طرزِ حیات میں ڈھال دیا

تیسرا سبق: آنے والی نسلوں کے لیے قربانی

اہلِ بیتؑ کے شیعوں کی استقامت ہمیں یہ گہرا درس دیتی ہے کہ فکر و نگاہ صرف حال تک محدود نہ ہو بلکہ مستقبل پر بھی مرکوز رہے امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنی عظیم قربانی کسی فوری فتح یا وقتی کامیابی کے لیے پیش نہیں کی بلکہ وہ بصیرت کی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ اُن کا خون رہتی دنیا تک آزادی کے متوالوں کے لیے چراغِ راہ بنے گا

یہی فکر مختلف ادوار میں اُن کے شیعوں کے طرزِ عمل میں بھی نمایاں نظر آتی ہے مختار ثقفیؒ اور توّابین کی تحریکیں بظاہر فوری کامیابی حاصل نہ کر سکیں، لیکن انہوں نے آنے والی نسلوں کو حوصلہ، شعور اور ولولہ عطا کیا

چوتھا سبق: حالات کے ساتھ ہم آہنگی اور اصولوں پر استقامت

اہلِ بیتؑ کے شیعوں نے ہر دور میں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، مگر اپنے عقائد اور اصولوں پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ عباسی دور کے جبر میں انہوں نے خاموشی اختیار کی، جبکہ نسبتاً آزادی کے زمانوں میں شعائرِ حسینیہ کو وسعت دی۔ آلِ بویہ اور صفوی ادوار میں یہی شعائر کھلے عام شان و شوکت کے ساتھ منائے گئے

مگر ان تمام حالات کے باوجود ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہی: اہلِ بیتؑ سے وابستگی، واقعۂ عاشورا کی یاد، اور ظلم کے خلاف نفرت یہ سب شیعہ مکتب کی روح رہے ہیں

پانچواں سبق: تنوع کے باوجود وحدت

اگرچہ اہلِ بیتؑ کے شیعہ مختلف مکاتبِ فکر میں تقسیم ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ایک بنیادی نکتے پر متحد رہے ہیں: اہلِ بیتؑ کی محبت اور عاشورا کی یاد۔ یہ وحدت استقامت کا ایک اہم راز ہے

چھٹا سبق: اجتماعی صبر اور باہمی یکجہتی

شیعانِ اہلِ بیتؑ نے “اجتماعی صبر” کا تصور پیش کیا، جو انفرادی صبر سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔ اسی شعور کے تحت انہوں نے ایسے سماجی ادارے قائم کیے جو صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ سماجی و نفسیاتی سہارا فراہم کرنے والے مراکز بن گئیں

مجالسِ عزا اور نیاز کا اہتمام کیا جس نے ایثار اور خدمتِ خلق کو فروغ دیا، جہاں امیر و غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں

ماتمی دستے اور مواکب بنائیں جو منظم اجتماعی عمل کی بہترین مثال ہیں یہی یکجہتی وہ قوت بنی جس نے انہیں سخت ترین حالات میں بھی ثابت قدم رکھا

ساتواں سبق: ماضی سے رہنمائی، مستقبل کی تعمیر

اہلِ بیتؑ کے شیعوں کا سب سے خوبصورت وصف یہ ہے کہ وہ ماضی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں مگر اس کے اسیر نہیں بنتے ان کے نزدیک واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی سرچشمۂ ہدایت ہے

وہ ہر عاشورا اس یاد کو تازہ کرتے ہیں تاکہ اپنے زمانے کے مطابق نئے اسباق اخذ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دور میں ظلم و استبداد کے خلاف صفِ اوّل میں نظر آتے ہیں

اصل پیغام یہ ہے کہ حقیقی جدوجہد فوری کامیابی کے لیے نہیں بلکہ ایسے اصول کے لیے ہوتی ہے جو انسان کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ آج کی قربانی کل کی بنیاد بنتی ہے، اور یہی صبر و استقامت کا اعلیٰ ترین مفہوم ہے۔

ماضی کوئی قید خانہ نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے اس سے سیکھو، مگر اس میں قید نہ ہو جاؤ۔ اپنی تاریخ کو چراغِ راہ بناؤ، زنجیر نہیں

یوں ایک ایسی دنیا میں جو فتنوں اور چیلنجز سے بھری ہوئی ہے، اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکاروں کا مکتب صبر و استقامت کا روشن مینار بن کر کھڑا ہے، اور ہر اُس شخص کے لیے ایک عملی نمونہ ہے جو طوفانوں کے مقابلے میں ڈٹ کر جینا چاہتا ہے، مگر ٹوٹنا نہیں چاہتا

العودة إلى الأعلى