صبر، طاقت کا راز اور کامیابی کا راستہ

: شیخ شہباز حسین 2026-04-07 13:09

صبر اُن عظیم صفات میں سے ہے جن پر قرآنِ کریم نے بار بار زور دیا ہے، یہاں تک کہ اسے مؤمن کی شخصیت کی بنیاد اور زندگی کے مشکلات کا سامنا کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے قرآن میں صبر کا کثرت سے ذکر اس کی عظمت اور انسانی زندگی میں اس کے گہرے اثر کو ظاہر کرتا ہے

صبر صرف تکلیف برداشت کرنے یا حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اندرونی قوت ہے جو انسان کو حق پر قائم رہنے اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہنے کی ہمت دیتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ  ترجمہ :اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لو، اللہ یقینا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

یہاں صبر اور نماز کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں انسان کو سکون اور قربِ الٰہی تک پہنچانے کے اہم ذرائع ہیں

واضح ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی میں قانون خلقت کے تحت بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسلام جیسی انقلابی تحریک سے وابستہ ایک نظریاتی انسان کو تو اس انسانی اور الٰہی مشن میں گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا سہارا لینے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک: صبر جو انجام سے آگاہی کے ساتھ حاصل ہونے والی ایک روحانی طاقت کا نام ہے

دوسری: انسان کو اقامۂ نماز کے ذریعے اللہ کی ذات پر بھروسا کرنا چاہیے۔ کیونکہ نماز ایک شخصیت ساز اور انسان ساز تربیتی نظام ہے، جس کی بدولت یہ بے ہمت انسان کائنات کی طاقت کے سرچشمے سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ پس وہ انسان کس قدر عظیم اور طاقتور ہو گا، جس کا بھروسا ذات الٰہی پر ہو۔

اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ  ترجمہ :یقینا بے شمار ثواب تو صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا

یہ وعدہ انسان کے دل میں امید پیدا کرتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ کوئی بھی تکلیف جو وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتا ہے، ضائع نہیں جاتی بلکہ ایک عظیم اجر میں بدل جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

 أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت بھی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں

 ایک ہمہ گیر آزمائش کے بعد جو لوگ مقامِ صبر و رضا پر فائز ہوتے ہیں، ان پر ان کے رب کی طرف سے درود ہے۔ یعنی یہ لوگ صلوات اللّہ علیھم کے مصداق ہیں

ائمہ اہل البیت علیہم السلام کو کئی آزمائشوں سے دو چار ہونا پڑا۔ اس بارے میں امام شافعی کی تعبیر نہایت جامع ہے

 تزلزلت الدنیا لآل محمد و کادت لھم صمّ الجبال تذوب آلِ محمد کے مصائب نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جنہیں دیکھ کر سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں۔

صبر کی مختلف صورتیں ہیں: اطاعت پر صبر، گناہوں سے بچنے پر صبر، اور مصیبتوں پر صبر۔ ہر قسم کا صبر انسان سے نفس کی مجاہدت اور ثابت قدمی کا تقاضا کرتا ہے۔ صبر کی بلند ترین صورتوں میں غصے کو پی جانا اور لوگوں کو معاف کرنا بھی شامل ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿اور جو غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں﴾—یہ صفات انسان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی حقیقی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں

اللہ تعالیٰ نے صبر کو بلندیٔ درجات اور قیادت کا ذریعہ قرار دیا ہے: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ ﴿اور ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے﴾۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر انسان کو دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا کرتا ہے۔ اسی طرح صبر کو کامیابی اور وعدۂ الٰہی کے پورا ہونے کا سبب بھی بتایا گیا ہے:وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ﴿اور تمہارے رب کا بہترین وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوا﴾

انبیاء اور اولیاء کی زندگیوں میں صبر نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ خود نبی اکرم ﷺ کو بھی حکم دیا گیا: ﴿وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾. ﴿پس آپ ان کی باتوں پر صبر کیجیے﴾، تاکہ وہ امت کے لیے صبر و استقامت کی بہترین مثال بنیں۔

خلاصہ یہ کہ صبر کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ضروری ہے جو کامیابی اور فلاح چاہتا ہے۔ صبر اندھیروں میں روشنی، کمزوری میں طاقت، اور مشکلات میں امید ہے۔ جو شخص صبر اختیار کرتا ہے، وہ ایسے راستے پر گامزن ہوتا ہے جس کا انجام یقینی طور پر کامیابی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا بلکہ انہیں بلند درجات عطا فرماتا ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے اور ہمیں ثابت قدمی اور بہترین انجام نصیب کرے۔ آمین


العودة إلى الأعلى