حقیقتِ دعا

گزشتہ دو تحریروں میں حقیقتِ دعا پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے چند اہم اجزاءِ ترکیبی کو بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تحریروں میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ دعا محض الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جس میں بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ ایک گہرا اور باطنی رشتہ قائم کرتا ہے

حصہ سوم

زیرِ نظر تحریر میں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے حقیقتِ دعا کے باقی ماندہ چند اہم عناصر کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ دعا کے اس مقدس عمل کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا جا سکے۔

9۔ بارگاہِ ایزدی میں حاجات پیش کرنا

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ خداوندِ کریم کی ذات اپنے بندوں کے تمام حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کو کس چیز کی ضرورت ہے، کون سی مشکل ان پر طاری ہے اور کون سی حاجت ان کے دل میں پوشیدہ ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ اپنی حاجات کو اس کی بارگاہ میں پیش کرے، اس سے مانگے، اس کے حضور التجا کرے اور اپنی مشکلات اور ضرورتوں کو زبان پر لائے

یہ سوال بظاہر ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو ہمارے حالات کا مکمل علم ہے تو پھر وہ کیوں چاہتا ہے کہ ہم اس سے مانگیں اور اس کی بارگاہ میں دستِ سوال دراز کریں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خدانخواستہ ایسا نہیں ہے کہ خداوندِ کریم کو یہ پسند ہو کہ وہ اپنے بندوں کو یہ احساس دلائے کہ ان کی حاجات صرف وہی پوری کر سکتا ہے۔ دنیا میں بعض صاحبِ ثروت لوگ اپنی برتری جتانے کے لیے دوسروں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے سامنے دستِ سوال دراز کریں تاکہ ان کی حیثیت اور قدرت کا اظہار ہو۔ لیکن خداوندِ کریم کی شان اس سے کہیں بلند اور برتر ہے۔

درحقیقت اس عمل کا مقصد بندے کی روحانی تربیت اور اس کے باطنی ارتقاء سے تعلق رکھتا ہے۔ جب انسان بار بار خداوندِ کریم کی بارگاہ میں اپنی حاجات پیش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے رب سے ایک زندہ تعلق قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس ذاتِ اقدس کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے، اس سے مانوس ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی میں خدائی رنگ پیدا ہونے لگتا ہے

اسی تعلق اور وابستگی کے ذریعے انسان کا روحانی سفر شروع ہوتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ شیطانی اثرات سے دور اور رحمانی قوتوں کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کا دل نورِ الٰہی سے روشن ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے وجود کے مقصد کو سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ روحانی ارتقاء ہے جو انسان کو تکامل کی منازل طے کرتے ہوئے اوجِ کمال تک پہنچنے کی راہ دکھاتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: إن اللہ تبارك وتعالی یعلم ما یرید العبد إذا دعاہ ولكن يحب أن یبث إلیہ الحوائج فإذا دعوت فسم حاجاتک (الکافی، ج 2، ص 476)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو اس وقت بھی علم ہوتا ہے کہ بندہ کیا چاہتا ہے جب وہ اس سے دعا مانگ رہا ہوتا ہے، لیکن وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ بندہ اپنی حاجات اس کے سامنے بیان کرے۔ لہٰذا جب بھی دعا کرو تو اپنی حاجتوں کا نام لے کر مانگا کرو

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک اور روایت نقل ہوئی ہے: علیكم بالدعاء فإنکم لا تقربون بمثلہ، ولا تتركوا صغیرة لصغرہا أن تدعوا بها فإن صاحب الصغار هو صاحب الکبار (الکافی، ج 2، ص 476)

ترجمہ:تم پر دعا کرنا لازم ہے کیونکہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں جس کے ذریعے تم خدا کے قریب ہو سکو۔ اور کسی چھوٹی حاجت کو اس لیے دعا میں چھوڑ نہ دو کہ وہ چھوٹی ہے، کیونکہ چھوٹی حاجتوں کا مالک ہی بڑی حاجتوں کا بھی مالک ہے۔

ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ دعا کے حقیقی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی حاجات کو واضح طور پر خداوندِ کریم کی بارگاہ میں پیش کرے اور ہر چھوٹی بڑی ضرورت اسی سے طلب کرے۔

10۔ مایوس نہ ہونا

حقیقتِ دعا کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ انسان کبھی مایوس نہ ہو۔ مایوسی کے ساتھ مانگی جانے والی دعا درحقیقت دعا نہیں ہوتی کیونکہ امید دعا کی روح ہے۔ اگر دل میں امید باقی نہ رہے تو دعا کی ظاہری شکل و صورت کسی فائدے کی حامل نہیں رہتی

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان مدتوں دعا کرتا رہتا ہے لیکن بظاہر اس کی دعا قبول ہوتی نظر نہیں آتی۔ وقت گزرتا ہے اور آہستہ آہستہ دل میں مایوسی کے آثار پیدا ہونے لگتے ہیں۔ انسان سوچنے لگتا ہے کہ شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوگی، اور جب یہ احساس دل میں راسخ ہو جائے تو وہ دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے

حالانکہ مومن کو کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اسے مسلسل دعا کرتے رہنا چاہیے اور اپنے رب کے دروازے کو بار بار کھٹکھٹاتے رہنا چاہیے۔ دنیا میں اگر کسی عام انسان کے دروازے کو بھی بار بار کھٹکھٹایا جائے تو بالآخر دروازہ کھل ہی جاتا ہے اور سوال کرنے والے کی حاجت پوری کر دی جاتی ہے

تو پھر وہ ربِ کریم جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے بندے کو ہمیشہ کے لیے نامراد لوٹا دے؟

بعض اوقات دعا کی قبولیت میں تاخیر اس لیے بھی ہوتی ہے کہ خداوندِ کریم چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اسی حاجت کے بہانے اس کے ساتھ جڑا رہے، اس کے حضور آتا رہے اور اس سے مناجات کرتا رہے۔ کیونکہ اس تعلق اور اس وصل میں اصل فائدہ بندے ہی کا ہے

یہ تعلق اس قطرے کی مانند ہے جو سمندر سے جا ملتا ہے۔ جب قطرہ سمندر میں گرتا ہے تو سمندر کو کوئی اضافہ حاصل نہیں ہوتا، لیکن وہ قطرہ اپنی محدود حیثیت کے باوجود سمندر کی وسعت میں شامل ہو کر خود بھی سمندر کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خداوندِ کریم سے جڑتا ہے تو اس تعلق کا فائدہ خدا کو نہیں بلکہ خود انسان کو حاصل ہوتا ہے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: لا يزال المؤمن بخیر ورجاء رحمہ من اللہ عز وجل ما لم یستعجل فیقنط ویترك الدعاء (الکافی، ج 2، ص 468)

ترجمہ:مومن اس وقت تک خیر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید میں رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی نہ کرے اور مایوس ہو کر دعا کو ترک نہ کرے

راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے پوچھا: مومن جلد بازی کیسے کرتا ہے؟

تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یقول قد دعوت منذ کذا وکذا وما أرى الإجابۃ

یعنی مومن کہنے لگتا ہے کہ میں بہت عرصے سے دعا کر رہا ہوں مگر مجھے اس کی قبولیت نظر نہیں آ رہی۔

یہی وہ حالت ہے جس سے روایات نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

خلاصۂ کلام

مذکورہ تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ دعا جو زبان سے ادا کی جائے ضروری نہیں کہ وہ حقیقتِ دعا کے مقام تک پہنچ سکے۔ حقیقی دعا وہ ہے جس میں وہ تمام روحانی عناصر اور آداب موجود ہوں جن کی نشاندہی آئمۂ معصومین علیہم السلام نے اپنی تعلیمات میں فرمائی ہے۔

جب دعا عاجزی، حسنِ ظن، خشوع، گریہ و زاری، حاجات کے اظہار اور امید کے ساتھ کی جائے تو وہ ایک زندہ اور مؤثر عبادت بن جاتی ہے۔ ایسی دعا نہ صرف انسان کو خداوندِ کریم کے قریب کرتی ہے بلکہ اس کی روحانی زندگی کو بھی نئی روشنی عطا کرتی ہے

خداوندِ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقتِ دعا کو سمجھنے، اس کے آداب کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور خلوصِ دل کے ساتھ اس کی بارگاہ میں مناجات کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

العودة إلى الأعلى