رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کی فضیلت اہمیت اور عملی زندگی پر اثرات
قرآنِ مجید وہ کتابِ ہدایت ہے جو انسان کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے، یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ربِّ کائنات کا زندہ پیغام اور بندوں کے نام عہد و پیمان ہے، جو شخص اس کتابِ مقدس سے وابستگی اختیار کرتا ہے، وہ اپنے دل کو نورِ ایمان سے منور اور اپنی زندگی کو مقصدیت سے آراستہ کر لیتا ہے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ہمیشہ قرآن سے انس، تدبر اور تلاوت کی تاکید فرمائی اور اس کی برکات کو واضح انداز میں بیان کیا
حصہ دوئم
امام محمد باقر علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں قال رسول اللہ ص من قرا عشر آیات فی لیلۃ لم یکتب من الغافلین، ومن قرا خمسین آیۃ کتب من الذاکرین، ومن قرا مائۃ آیۃ کتب من القانتین، ومن قرا مائتین آیۃ کتب من الخاشعین، ومن قرا ثلاثمائۃ آیۃ کتب من الفائزین، ومن قرا خمس مائۃ آیۃ کتب من المجتہدین، ومن قرا الف آیۃ کتب لہ قنطار من تبر
ارشادِ نبوی کے مطابق جو شخص رات میں دس آیات کی تلاوت کرے وہ غافلین میں شمار نہیں ہوتا،پچاس آیات پڑھنے والا ذاکرین میں، سو آیات کا قاری قانتین میں، دو سو آیات پڑھنے والا خاشعین میں، تین سو آیات کی تلاوت کرنے والا فائزین میں اور پانچ سو آیات پڑھنے والا مجتہدین میں لکھا جاتا ہے۔ اور جو ہزار آیات کی تلاوت کرے اس کے لیے بے شمار خزانے کے برابر اجر مقرر کیا جاتا ہے
اسی تسلسل میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں القرآن عہد اللہ الی خلقہ، فقد ینبغی للمرء المسلم ان ینظر فی عہدہ، وان یقرا منہ فی کل یوم خمسین آیۃ
ترجمہ :قرآن اللہ کا اپنے بندوں کے لیے عہد نامہ ہے؛ پس ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس عہد کو غور سے دیکھے اور روزانہ کم از کم پچاس آیات کی تلاوت کرے
آپ علیہ السلام نے اہلِ تجارت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ما یمنع التاجر منکم المشغول فی سوقہ اذا رجع الی منزلہ ان لا ینام حتی یقرا سورۃ من القرآن فیکتب لہ مکان کل آیۃ یقراھا عشر حسنات ویمحی عنہ عشر سیئات
یعنی جب تاجر اپنے کاروبار سے فارغ ہو کر گھر لوٹے تو سونے سے پہلے ایک سورت کی تلاوت کیوں نہ کرے؟ ہر آیت کے بدلے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ مٹا دیے جائیں گے
مزید فرمایا علیکم بتلاوۃ القرآن، فان درجات الجنۃ علی عدد آیات القرآن، فاذا کان یوم القیامۃ یقال لقاری القرآن اقرا و ارق، فکلما قرا آیۃ رقی درجۃ
قرآن کی تلاوت تم لوگوں پر لازم ھے کیونکہ جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعداد کے مطابق ہیں۔ قیامت کے دن قاریِ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور بلند ہوتے جاؤ، اور وہ جس قدر پڑھتا جائے گا اسی قدر اس کے درجات بلند ہوتے جائیں گے
ماہِ رمضان کی عظمت اور اس میں تلاوتِ قرآن کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے امام علی رضا فرماتے ہیں قال الامام الرضا علیہ السلام: من قرا فی شہر رمضان آیۃ من کتاب اللہ کان کمن ختم القرآن فی غیرہ من الشہور
یعنی جو شخص ماہِ رمضان میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کیا ہو
اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان المبارک قرآن سے خصوصی نسبت کا مہینہ ہے، جس میں ہر آیت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے
اسی حقیقت کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ شعبانیہ میں یوں بیان فرمایا :ھو شھر دعیتم فیہ الی ضیافۃ اللہ… ومن تلا فیہ آیۃ من القرآن کان لہ مثل اجر من ختم القرآن فی غیرہ من الشہور
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ کی ضیافت کی دعوت دی گئی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت پڑھے، اسے ایسا ثواب ملتا ہے جیسے کسی نے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کیا ہو
قرآن سے قلبی و روحانی اتصال کی کیفیت کا ایک ایمان افروز منظر امام جعفر صادق کی سیرت میں ملتا ہے۔ آپؑ نماز میں آیاتِ قرآن اس خشوع و خضوع کے ساتھ تلاوت فرماتے کہ معمول کی حالت سے باہر ہو جاتے۔ ایک مرتبہ دریافت کیا گیا کہ یہ کیسی کیفیت تھی؟ آپؑ نے فرمایا ما زلت اکرر آیات القرآن حتی بلغت الی حال کاننی سمعتہا مشافھۃ ممن انزلہا
میں مسلسل آیاتِ قرآن کو دہراتا رہا یہاں تک کہ ایسی حالت کو پہنچ گیا گویا میں ان آیات کو براہِ راست اسی ذات سے سن رہا ہوں جس نے انہیں نازل کیا ہے
یہ ارشادات اور واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت محض زبان کی جنبش نہیں بلکہ دل کی بیداری، روح کی پرواز اور رب سے ہم کلامی کا ذریعہ ہے۔ جب انسان قرآن کو سمجھ کر، محسوس کر کے اور خشوع کے ساتھ پڑھتا ہے تو وہ الفاظ کاغذ سے اٹھ کر دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ تعلق ہے جو انسان کو دنیا کی بھلائی اور آخرت کی سرخروئی دونوں عطا کرتا ہے
پس ہمیں چاہیے کہ خصوصاً ماہِ رمضان میں اور عمومی طور پر ہر دن قرآن کو اپنا رفیقِ حیات بنائیں، اس کی تلاوت کو معمول، اس کے فہم کو مقصد اور اس کے عمل کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ یہی کامیابی کا راستہ اور یہی سعادتِ دارین کا سرچشمہ ہے



