ملیکۃُ العرب کی سیرتِ ایمان، بصیرت اور ایثار کی لازوال داستان
تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو محض کسی دور سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ہر زمانے کے لیے میزان و معیار بن جاتی ہیں
حضرت خدیجہ بنت خویلد سلام اللہ علیہا انہی درخشاں ہستیوں میں سے ہیں۔ وہ خاتون جنہوں نے جاہلیت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں توحید کا چراغ روشن رکھا، اور جب وحیِ الٰہی کا سورج طلوع ہوا تو سب سے پہلے اس نور پر ایمان لا کر تاریخ کا رخ موڑ دیا
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عامُ الفیل سے پندرہ برس قبل اور ہجرتِ نبوی سے اٹھسٹھ برس پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بت پرستی معاشرتی شناخت بن چکی تھی، مگر آپؑ فطرتِ سلیم کی حامل تھیں۔ آسمانی کتابوں پر اعتقاد رکھتی تھیں، خدائے واحد کی عبادت کرتی تھیں اور تجارت کے لیے قافلے روانہ کرتے وقت کعبہ میں جا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب سے برکت کی دعا مانگتی تھیں۔ یہ بصیرت کسی مدرسے یا درس گاہ کی پیداوار نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی ، عقل کی پختگی اور ایمان کامل کا نتیجہ تھی
اخلاق و کردار: جاہلیت میں بھی معیار
حضرت خدیجہ سلام اللہ کی پاکدامنی اور اخلاقی رفعت اس قدر نمایاں تھی کہ جاہلیت کے معاشرے میں بھی آپؑ کو طاہرہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام آپ کے کردار کو ان الفاظ میں سراہتے ہیں:
إِنَّ خَدِيجَةَ امْرَأَةٌ كَامِلَةٌ مَيْمُونَةٌ فَاضِلَةٌ، تَخْشَى الْعَارَ وَتَحْذَرُ الشَّنَارَ
بے شک خدیجہ ایک کامل، بابرکت اور فاضلہ عورت ہے جو ہر قسم کے ننگ و عار اور بدنامی سے بچتی ہے۔
یہ جملہ اس حقیقت کی شہادت ہے کہ حضرت خدیجہؑ کی عظمت اسلام کے ظہور سے پہلے ہی مسلّم تھی، اور وہ اپنے عہد کی اخلاقی مثال بن چکی تھیں
حسنِ سیرت اور خانوادۂ نور
اہلِ بیتؑ کی نگاہ میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا صرف ایک بزرگ ہستی نہیں بلکہ اخلاقی وراثت کا سرچشمہ تھیں۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَكُنْتُ أَنَا أَشْبَهَ النَّاسِ بِخَدِيجَةَ الْكُبْرَى
میں لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت خدیجۂ الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے مشابہ ہوں یہ شباہت نسبی سے زیادہ سیرتی ہے، جو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے اخلاقی کمالات کی گواہی دیتی ہے
ایمان کی اولین شمع
جب رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو سب سے پہلے تصدیق اور ایمان کا اعزاز حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو حاصل ہوا۔ حضرت علی علیہ السلام اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: لَمْ يَجْمَعْ بَيْتٌ وَاحِدٌ يَوْمَئِذٍ فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ وَخَدِيجَةَ وَأَنَا ثَالِثُهُمَا
اس وقت اسلام میں ایک ہی گھر تھا جس میں رسولِ خدا، خدیجہ اور میں تھا، اور میں ان دونوں کا تیسرا فرد تھا
یہ روایت حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ایمان کی اوّلیت اور اسلام میں ان کے بنیادی کردار کو قطعی طور پر واضح کرتی ہے
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اشرافِ قریش کے پیغامات کو رد کر کے حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شریکِ حیات منتخب کیا۔ اس انتخاب کی بنیاد دنیاوی مال و جمال نہیں بلکہ کردار اور امانت تھی۔ آپؑ نے خود فرمایا: إِنِّي رَغِبْتُ فِيكَ لِقَرَابَتِكَ، وَشَرَفِكَ، وَأَمَانَتِكَ، وَحُسْنِ خُلُقِكَ، وَصِدْقِ حَدِيثِكَ
میں نے تمہیں اس لیے پسند کیا کہ تم رشتہ دار ،شریف، امانت دار، خوش اخلاق اور سچے ہو
یہ جملہ اسلامی معاشرت میں نکاح کے حقیقی معیار کو واضح کرتا ہے
دولت نہیں، دین کی خدمت
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک کامیاب تاجرہ تھیں، مگر دولت کو مقصد نہیں سمجھا بلکہ دین کی خدمت کا ذریعہ سمجھتی تھیں۔ حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان اسی حقیقت کا اعتراف ہے: مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ خَدِيجَةَ
کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا خدیجہ کے مال نے پہنچایا
یہ حدیث حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی مالی قربانیوں کو تاریخِ اسلام کی بنیادوں میں شامل کرتی ہے
وفا کی بے مثال گواہی
وہ باوفا خاتون جس کے بارے میں عائشہ کے اس بیان پر (کہ یا رسول اللہ خدیجہ ایک ضعیفہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی جو مرگئی اور خدا نے آپ کو اس سے برتر عطا کر دی ہے)، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے غضبناک ہو کر فرمایا:لا واللّٰه ما ابد لنی اللّٰہ خیرا منھا اٰمنت بی اذکفر الناس و صدقتنی اذکذبنی الناس و واستنی بھا لھا اذحرمنی الناس و رزقنی منھا اللّٰه ولدا دون غیرھا من النساء
خدا کی قسم خدا نے مجھے اس سے بہتر عطانہیں کی وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ کفر اختیار کئے ہوئے تھے، اس نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور اس نے اپنے مال کے ذریعہ میری اس وقت مدد کی جب لوگوں نے مجھے ہر چیز سے محروم کر دیا تھا، اور خدا نے صرف اسی کے ذریعہ مجھے اولاد عطا فرمائی اور میری کسی دوسری بیوی کے ذریعہ مجھے صاحب اولاد نہیں کیا
جنت کی بشارت اور آسمانی سلام
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:قال لي جبرائيل: بشّر خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه و لا نصب فيه، يعني قصب الزمرد
جبرئیل نے مجھے بشارت دی ہے کہ خدیجہ تمہارے لیے بہشت میں ایک قصر ہے اور وہ قصر زمرد کا بنا ہوا ہے
اور جب خدا و جبرئیلؑ کی طرف سے سلام پہنچایا گیا تو آپؑ نے جواب دیا:
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ، وَعَلَى جِبْرَئِيلَ السَّلَامُ
اللہ ہی سلام ہے، سلام اسی کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹتا ہے
یہ جواب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے عرفانی اور توحیدی شعور کی اعلیٰ ترین مثال ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ… أَنَّ جَدَّتِي خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ أَوَّلُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِسْلَامًا
کیا تم جانتے ہو کہ میری نانی خدیجہ بنت خویلد اس امت کی پہلی مسلمان خاتون ہیں؟
یہ کلام حضرت خدیجہؑ کی اوّلیتِ ایمان کو دشمن کے سامنے حجت بنا دیتا ہے
اور امام زین العابدینؑ نے فرمایا:أَنَا ابْنُ خَدِيجَةَ الْكُبْرَى
میں حضرت خدیجۂ کبریٰ کا فرزند ہوں۔یہ مختصر جملہ خود ایک مکمل تعارف اور عظمت کا اعلان ہے
مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے:إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجَ خَمْسَ عَشْرَةَ امْرَأَةً، أَفْضَلُهُنَّ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ
بے شک رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ عورتوں سے نکاح فرمایا، اور ان سب میں سب سے افضل خدیجہ بنتِ خویلد تھیں۔
یہ روایت صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت محض زوجیت نہیں بلکہ ایمان، وفا اور قربانی کی بنا پر ہے۔
قرآنِ کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے مقام کو یوں بیان کرتا ہے:وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ (سورۂ احزاب: 6)
اور نبی کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں
یہ روحانی مادریت تمام ازواج کو حاصل ہے، مگر حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اس مفہوم کی کامل ترین عملی تصویر ہیں
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو دیگر ازواج پر ایک منفرد سعادت حاصل ہوئی کہ انہی کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل سے گیارہ ائمہ معصومین علیہم السلام وجود میں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اس لیے بھی امتیاز حاصل ہے کہ وہ معصومہ ہیں اور انہی کے ذریعے سلسلہ امامت جاری ہوا
یہ امتیاز اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا صرف اُمّ المؤمنین ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اُمُّ الامامہ بھی ہیں، اور یہ مقام محض نسب کا نہیں بلکہ الٰہی انتخاب، طہارتِ باطن اور اعلیٰ لیاقت کا نتیجہ ہے
حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا ایمان کی پہلی گواہ، وفا کی معراج، ایثار کی مثال اور عورت کے عظیم کردار کی مکمل تصویر ہیں۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت دولت یا منصب میں نہیں بلکہ حق کی نصرت، کردار کی پاکیزگی اور خدا پر کامل یقین میں ہے
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا نام رہتی دنیا تک امتِ مسلمہ کے لیے چراغِ راہ بنا رہے گا



