ظاہری مقام یا باطنی وقار؟
آج کے دور میں دینی و علمی حلقوں میں سب سے بڑا امتحان علم کی کمی نہیں بلکہ اخلاص کی کمی بنتا جا رہا ہے۔ منصب، عنوان اور ظاہری مقام ایسی چیزیں بن چکی ہیں جن پر انسان کی نظر غیر شعوری طور پر جم جاتی ہے، حالانکہ حقیقی قدر و قیمت ان چیزوں کی نہیں بلکہ باطن کی پاکیزگی اور نیت کی سچائی کی ہے
اسی حقیقت کی طرف ایک نہایت بلیغ اور فکر انگیز اشارہ ہمیں سماحتہ سید محمد رضا سیستانی دامت برکاتہ کی اس درس اخلاق میں ملتا ہے، جو انہوں نے اپنے استاد، زعیمِ طائفہ ابو القاسم خوئیؒ سے سنا
یہ درس نجف اشرف میں ایک علمی نشست کے اختتام پر بیان کی گئی، جو ہر صاحبِ شعور کے لیے ایک عملی نمونہ اور قابلِ تقلید مثال ہے
سید محمد رضا سیستانی (دامت برکاتہ) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جوانی کے عالم میں اپنے استادِ محترم، زعیمِ حوزۂ علمیہ سے ایک ایسی نصیحت کی درخواست کی جو ان کے علمی اور حوزوی سفر میں رہنمائی کا سبب بنے۔ اس کے جواب میں امام خوئیؒ نے ایک واقعہ نقل فرمایا، جو بظاہر نہایت سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں تزکیۂ نفس کا ایک جامع درس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
یہ واقعہ عظیم فقیہ شیخ محمد حسین اصفهانی سے متعلق ہے، جو علمی عظمت اور بلند پایہ تحقیق کے حامل ہونے کے باوجود اپنے استاد کے درس میں آگے بیٹھنے کے بجائے پیچھے بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ جب شاگردوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے نہایت سادہ مگر گہرا جواب دیا کہ: اگر علمی مقام و مرتبہ علم کی بنیاد پر طے ہونا ہے تو اہلِ علم خود جانتے ہیں کہ کس کا مقام کیا ہے، پھر مجلس میں آگے یا پیچھے بیٹھنے کی ظاہری حیثیت کی آخر کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے انسان کے لیے سب سے زیادہ قابلِ غور ہے۔ ہم بسا اوقات اصل مقام کو چھوڑ کر ظاہری مقام کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں، حالانکہ جو شخص حقیقتاً علم، تقویٰ اور اخلاق میں بلند ہو، اس کے لیے کرسی، عنوان اور عہدہ کوئی معنی نہیں رکھتے
اس نصیحت کا دوسرا پہلو اور بھی زیادہ کڑا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی ان ظاہری چیزوں سے بے نیاز ہونا چاہتا ہے تو یہ بے نیازی صرف ایک جگہ یا ایک موقع تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ لباس، گفتگو، برتاؤ اور ردِعمل میں ،خصوصاً اس وقت جب کوئی ناحق بدسلوکی کرے ، ہر مقام پر یہی اخلاقی اقدار جھلکنی چاہییں۔ ورنہ انسان غیر شعوری طور پر خود پسندی اور دکھاوے کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی وہ امتحان ہے جس میں بہت سے لوگ ناکام ہو جاتے ہیں
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کا راستہ خاموش بلندی کا راستہ ہے، نہ کہ نمایاں بلندی کا۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کہاں بیٹھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا دل کس مقام پر کھڑا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں قول و عمل میں اخلاص اور یکسانیت نصیب کرے، محمد صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور ان کی آلِ طاہرین کے صدقے



