مرکزِ بینہ کے زیرِ اہتمام فکری و ثقافتی ورکشاپ
حرم امام حسین علیہ السلام کی زیرِ نگرانی مرکزِ بینہ برائے فکری و ثقافتی سلامتی نے آزادی ایک نفسیاتی، تربیتی اور ثقافتی مطالعہ کے عنوان سے ایک فکری ورکشاپ کا انعقاد کیا
اس ورکشاپ میں صوبہ کربلا سے تعلق رکھنے والے محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران، جامعات کے اساتذہ، تعلیمی نگرانان اور ثقافتی امور میں دلچسپی رکھنے والی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ یہ پروگرام مرکز کے اُن فکری منصوبوں کا حصہ تھا جن کا مقصد معاشرے میں فکری شعور کو فروغ دینا اور عصرِ حاضر کو درپیش فکری و ثقافتی چیلنجز کا مؤثر اور علمی انداز میں مقابلہ کرنا ہے
مرکزِ بینہ برائے فکری و ثقافتی سلامتی کے ڈائریکٹر شیخ علی القرعاوی نے کربلا ٹوڈے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ میں آزادی کے غلط استعمال، ذمہ دار انسان کی قدر و اہمیت، اور اُن عملی رویّوں کے درمیان واضح فرق پر روشنی ڈالی گئی جو ثقافتی آزادی کے نام پر معاشرے میں رائج کیے جا رہے ہیں، بالخصوص تیز رفتار سماجی اور ڈیجیٹل تبدیلیوں کے تناظر میں
انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے سیشن میں آزادی کے اقداری اور اخلاقی پہلو کو اجاگر کیا گیا اور اس امر پر زور دیا گیا کہ آزادی کو اخلاقی ضوابط سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی آزادی شعور، ذمہ داری اور باخبر انتخاب پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ اندھی تقلید یا ثقافتی انحرافات
شیخ علی القرعاوی نے وضاحت کی کہ بعض معاصر تصورات کو ان کے اصل فکری اور تہذیبی تناظر سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی تفہیم میں فکری اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تصور کو قبول یا رد کرنے سے قبل اس کو سمجھنے اور پرکھنے کی ثقافت کو فروغ دینا ناگزیر ہے
ورکشاپ کے دوسرے محور میں ڈاکٹر محمد الموسوی نے نفسیاتی اور تربیتی زاویے سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جسے عموماً ’’مطلق آزادی‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اکثر نفسیاتی اور سماجی ردِعمل کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ پختہ علمی اور فکری قناعت کا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تربیت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نوجوانوں میں تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے تاکہ وہ مختلف نظریات اور تصورات کے درمیان امتیاز کر سکیں
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ موجودہ دور کا اصل چیلنج خیالات کی کثرت نہیں بلکہ مخاطب میں تجزیاتی صلاحیتوں کی کمی ہے، جس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ تربیتی اور ثقافتی خطاب کو ڈیجیٹل اثرات کے ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے
ورکشاپ کے دوران شرکاء کے ساتھ ایک کھلا اور بامقصد مکالمہ بھی منعقد ہوا، جس میں ذاتی آزادی کی حدود، خاندان کے کردار، اور تعلیمی و ثقافتی اداروں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایک متوازن اور باشعور خطاب ناگزیر ہے جو شناخت کے تحفظ اور مثبت و ذمہ دار انفتاح کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے
اختتام پر شیخ علی القرعاوی نے کہا کہ اس ورکشاپ کا خلاصہ یہ ہے کہ تنقیدی شعور کی تعمیر معاشرے کو فکری طور پر محفوظ رکھنے کی بنیادی اساس ہے، اور ثقافتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اندھے انکار یا غیر شعوری پیروی کے بجائے فہم، تدبر اور تجزیے کو بنیاد بنایا جانا چاہیے



