کربلاء سیّاحوں کی نگاہ میں

2026-05-09 12:26

عرب اور غیر ملکی سیّاحوں نے اپنے سفرناموں میں عراق کے مقدس مقامات کی عظمت، روحانیت اور پُراثر فضا کو نہایت اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان زائرین نے اپنی آنکھوں سے اُس گہرے روحانی اثر کو محسوس کیا، جو ان مقدس آستانوں پر حاضر ہونے والوں کے دلوں کو مسحور کر دیتا ہے

یہی کشش دنیا کے ہر خطے اور ہر براعظم سے آنے والے مشتاق اور بے قرار زائرین کو اپنی جانب کھینچ لاتی ہے، جو شوق و عقیدت کے ساتھ ان مقدس درگاہوں کا رخ کرتے ہیں

روح کو حقیقی سکون، دل کو مناجات کی لذت، اور قلب کو طمانیت ان درخشاں سنہری گنبدوں کے سائے تلے نصیب ہوتی ہے۔ یہی گنبد ارواح کو اپنی طرف کھینچتے ہیں تاکہ وہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آلِ محمدؐ سے منسوب ان مقدس ہستیوں کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہو سکیں یہاں ہر حاجت مند اپنی امیدوں کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور ان پاک ہستیوں کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی میں اپنی دعاؤں کی قبولیت طلب کرتا ہے

ان مقدس مقامات پر نماز، تلاوتِ قرآن، صحیفۂ سجادیہ کی روح پرور مناجات اور کتبِ ادعیہ و زیارات کی مترنم صداؤں کے درمیان ایک عجیب روحانی سکون محسوس ہوتا ہے یہ وہ آستانے ہیں جہاں سے روح بلندی کی جانب سفر کرتی، دنیا کی آلائشوں سے پاک ہوتی اور ارتقا و کمال کی منزلیں طے کرتی ہے

سفرناموں کی روایت

معاصر تاریخ کے استاد ڈاکٹر عماد الموسوی، جو فیکلٹی آف ایجوکیشن فار ہیومن سائنسز میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ سفرناموں اور رحلات کی روایت صرف یورپی، مغربی یا مشرقی اقوام تک محدود نہیں رہی بلکہ عرب اہلِ علم اور سیّاحوں نے بھی اس میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے

انہوں نے بتایا کہ بہت سے عرب سیّاحوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا اور عراق کے مقدس شہروں کی زیارت کی، اگرچہ بعض نے امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک کا تفصیلی ذکر نہیں کیا، تاہم متعدد سیّاحوں نے اس مقدس حرم کی روحانی کیفیت اور دلنشین مناظر کو نہایت خوبصورت انداز میں قلم بند کیا

انہی میں سید عباس المکی بھی شامل ہیں، جنہوں نے تقریباً 1717ء (1131ھ) میں عراق کا سفر کیا۔ انہوں نے کربلائے معلیٰ سمیت مختلف مقدس شہروں کی زیارت کی اور اپنے سفرنامے میں لکھا ہم حائرِ امام حسین علیہ السلام کے پاکیزہ صحن میں داخل ہوئے۔ سلام ہو آپؑ پر، آپؑ کے بھائی پر، آپؑ کے جد پر، آپؑ کے والد پر، آپؑ کی والدہ پر، آپؑ کی اولاد پر اور آپؑ کے تمام محبین و چاہنے والوں پر

مصنف نے اپنی کتاب میں ایسے درجنوں سیّاحوں کا ذکر کیا ہے، جو حسینی، علوی، کاظمی اور عسکری مزارات پر عقیدت مندوں کی والہانہ محبت دیکھ کر حیرت اور مسرت میں ڈوب گئے۔ انہوں نے اپنے سفرناموں میں ان مشاہدات کو محفوظ کیا، جو دراصل اہلِ بیت علیہم السلام سے عراقی عوام کی محبت، وفاداری اور وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی جذبۂ عقیدت کے باعث دنیا بھر سے زائرین ان مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں تاکہ اُس سرزمین سے برکت حاصل کریں، جس نے ان پاکیزہ ہستیوں کے اجسادِ مطہر کو اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے؛ وہ ہستیاں جن سے نبوت کی خوشبو اور امامت کی نورانیت پھوٹتی ہے

مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ 70 پر یہ بھی تحریر کیا ہے کہ 1726ء میں معروف شامی عالم شیخ مصطفیٰ صدیقی دمشقی عراق آئے۔ ان کے سفر کا مقصد ائمہ علیہم السلام اور صالح اولیاء کے مزارات کی زیارت تھا

جب وہ کربلا پہنچے تو انہوں نے لکھا ہم صبح کے وقت مرقدِ حسینی کی طرف روانہ ہوئے، اور جب میری نظر ان درخشاں گنبدوں پر پڑی تو بے اختیار یہ اشعار زبان پر جاری ہوگئے

میرا گوشت اور میرا خون میرے جد حسنؑ و حسینؑ سے ہے،

میں ان کی زیارت کے لیے ایک آنکھ میں اشک اور دوسری میں امید لیے حاضر ہوا ہوں۔

ان کے جد تمام مخلوقات کے امام ہیں،

جو بہترین مخلوق اور دونوں جہانوں کے لیے جائے پناہ ہیں

ان کے والد تمام انسانوں کے سردار ہیں،

اور ان کے بھائی دونوں جہانوں کے لیے کامل نمونۂ ہدایت ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی والدہ حضرت فاطمہ زہراؑ ہیں، جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ اقدس کا پاکیزہ حصہ ہیں، جبکہ ان کے چچا حضرت جعفر طیارؑ نور کے دو چراغوں کی مانند ہیں

اکثر علما اور شعرا، جنہوں نے مقدس مزارات کی زیارت کی، اپنی تحریروں اور شاعری میں غیر معمولی فنی مہارت کے ساتھ نمایاں ہوئے۔ شعرا نے محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں ڈوبے ہوئے ایسے نغمے تخلیق کیے، جن میں عترتِ طاہرہ کی مودّت اور عقیدت نمایاں دکھائی دیتی ہے؛ وہی مودّت جس کا حکم قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ میں دیا گیا ہے

چنانچہ ہر دور میں شعرا نے اپنی دلنشین آوازوں کے ذریعے ان پاک ہستیوں کے فضائل، مناقب اور کرامات کو خوبصورت شعری پیرائے میں بیان کیا۔

غیر ملکی سیّاح

متعدد غیر ملکی سیّاح، مستشرقین، مؤرخین، حکومتی عہدیداروں اور ادیبوں نے بھی عراق کے مقدس مقامات اور مشاہدِ مشرفہ کی عظمت، تعمیر و آرائش اور روحانی فضا کو نہایت تحسین کے ساتھ بیان کیا ہے

جرمن سیّاح کارستن نیبور، اولیفیہ اور دوبریہ جیسے سیّاحوں نے ان مقدس مقامات کی شان و شوکت کو اپنے سفرناموں میں محفوظ کیا۔ دوبریہ نے اپنی کتاب کے صفحہ 77 پر وہابیوں کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا یہ بے شمار خزانے، جو کئی برسوں میں جمع ہوئے تھے، ایک لمحے میں وہابی حملہ آوروں کے لیے آسان شکار بن گئے

20 اپریل 1801ء کو انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے شہر پر حملہ کیا اور ایسی خونریز تباہی مچائی کہ مرد و زن کی تمیز کے بغیر لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ پھر وہ ہر قیمتی چیز لوٹ کر لے گئے جس تک ان کے ہاتھ پہنچ سکے

مصنف الموسوی نے اپنی کتاب میں متعدد دیگر سیّاحوں کے احوال بھی نقل کیے ہیں، جن میں جرمن مستشرق نولدکے، برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ولیم لوفتس، سیّاح عبدالعلی خان، اور 1863ء میں قاجاری خاندان کے شہزادے سلطان محمد مرزا المعروف  سیف الدولہ  شامل ہیں

اسی طرح صفحہ 90 پر جان پیٹرز، ایڈورڈ نولدی، سوانس کوپر، لوریمَر، فرانسیسی سیّاح گوستاف بابن، برطانوی سیّاح مسٹر بیل اور چیکوسلواکی سیّاح الواموسیل کے سفرناموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے

ان تمام سیّاحوں اور عہدیداروں نے نجفِ اشرف، کربلائے مقدسہ، کاظمین اور سامراء کے مقدس شہروں کی زیارت کے دوران ان آستانوں کی روحانی عظمت، دلکشی اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے والہانہ جذبۂ عقیدت کو نہایت متاثر کن انداز میں اپنے سفرناموں میں قلم بند کی


العودة إلى الأعلى