حرم امام حسین ع کے شعبۂ صحت و میڈیکل ایجوکیشن نے عرب ممالک میں پہلی مرتبہ متحرک PET Scan ڈیوائس اور جراحی روبوٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے

2026-02-15 07:43

یہ اقدام طبی میدان میں ایک اہم اور جدید انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد تشخیص و علاج کے نظام کو مضبوط بنانا اور اسے جدید عالمی طبی ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کرنا ہے

افتتاحی تقریب میں مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے اور متولیِ شرعی حرمِ حسینی الشيخ عبدالمہدیکربلائی، حرمِ حسینی کے سیکرٹری جنرل حسن رشيد العبايجي، کربلا کے گورنر نصيف جاسم الخطابي، صوبائی کونسل کے چیئرمین قاسم اليساري اور ہیئتِ صحت و طبی تعلیم کے متعدد اعلیٰ عہدیداران شریک تھے

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں ذمہ داریاں نہایت بڑی اور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ ریاستی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم دینی فریضہ انسان کے دین اور اخلاق کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی ستونوں پر بھی عملی کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرمِ حسینیہ سرکاری اداروں کا متبادل بننے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ خدمات کی فراہمی میں ایک تکمیلی، معاون اور معیاری کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرجعیتِ دینیہ کا طرزِ عمل خالصتاً قومی ہے، اور صحت کے شعبے بالخصوص کینسر کے علاج پر خصوصی توجہ اس لیے دی گئی ہے کہ یہ امراض انسانی زندگی کے لیے نہایت خطرناک ہیں اور مریضوں و ان کے اہلِ خانہ کو شدید نفسیاتی اور مالی مشکلات سے دوچار کرتے ہیں۔

شیخ عبدالمہدی کربلائی نے بتایا کہ صحت کے منصوبوں میں توسیع کرتے ہوئے دل کے امراض، جگر کی پیوندکاری، نظامِ ہاضمہ، عضلاتی بیماریوں، دماغی فالج اور ڈاؤن سنڈروم سمیت متعدد تخصصات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ جدید طبی مہارتوں کی منتقلی کے لیے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے

انہوں نے ہیئتِ صحت و طبی تعلیم کے سربراہ حيدر حمزة العابدي کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤثر قیادت میں صحت کی خدمات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اور آئندہ چند ماہ کے دوران عراق میں پہلی مرتبہ سائبر نائف ڈیوائس متعارف کرائی جائے گی

اس موقع پر ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے کہا کہ عالمی طبی رجحان اب کم سے کم مداخلت پر مبنی جدید تکنیکوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جو پیچیدگیوں میں کمی لاتی ہیں اور ایسے مریضوں کے لیے بھی علاج ممکن بناتی ہیں جو روایتی جراحی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ مؤسسة وارث کے مركز الحياة میں اب تک سینکڑوں معیاری اور پیچیدہ آپریشن انجام دیے جا چکے ہیں، جن میں بچوں میں آنکھ کے پردے (ریٹینا) کے کینسر کا باریک کیتھیٹر کے ذریعے علاج بھی شامل ہے۔ یہ مرکز عراق میں اپنی نوعیت کا واحد اور خطے کے تین نمایاں مراکز میں سے ایک ہے

انہوں نے مزید کہا کہ متحرک PET Scan ڈیوائس کی بدولت مختلف صوبوں میں کینسر کے مریضوں کو متعلقہ اداروں کے تعاون سے خصوصی تشخیصی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جو عراق میں تشخیص اور علاج کی خدمات کے معیار میں ایک نمایاں اور تاریخی پیش رفت ثابت ہوگی

منسلکات

العودة إلى الأعلى