دنیا کے فائدے یا دین کی برکت؟ ایک واضح پیغام
انسان کی فطرت میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ گہری حقیقتوں اور الٰہی مصلحتوں کو پوری طرح درک نہیں کر پاتا وہ اکثر اپنے محدود علم اور فوری فائدے کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہایت وسیع، ہمہ گیر اور دور رس ہوتی ہے
اسی بنا پر انسان بسا اوقات ظاہر بین ہو جاتا ہے، یعنی جو کچھ آنکھوں کے سامنے نظر آتا ہے اسی کو اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے اور ان نتائج کو نظر انداز کر دیتا ہے جو پسِ پردہ اس کے لیے تیار ہو رہے ہوتے ہیں
یہی ظاہر بینی انسان کو غفلت کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا، ایمان اور اطاعت میں ہے۔ جب غفلت دل پر غالب آ جاتی ہے تو انسان دنیاوی فائدے کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے اور دین کو ثانوی حیثیت دے دیتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی دینی فریضے کو ترک کر کے دنیاوی مصلحت اختیار کرے گا تو اس کی زندگی بہتر ہو جائے گی، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے
انسان یہ بھول جاتا ہے کہ نفع و نقصان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ دنیا کے اسباب محض ظاہری وسیلے ہیں، اصل تاثیر اللہ کی مشیت اور ارادے سے ہے۔ جب بندہ دین کو دنیا پر قربان کرتا ہے تو دراصل وہ حقیقی مؤثر سے نظریں چرا لیتا ہے اور ظاہری اسباب کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی غلطی ہے جو انسان کو بڑے خسارے کی طرف لے جاتی ہے
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: لا یترک الناس شیئا من امر دینھم لاستصلاح دنیاھم الا فتح اللہ علیھم ما ھو اضر منہ
ترجمہ : لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین کا کوئی حصہ ترک نہیں کرتے مگر یہ کہ اللہ ان پر اس سے زیادہ نقصان کے دروازے کھول دیتا ہے
یہ حدیث ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ دین کو قربان کر کے دنیا حاصل کرنے کی سوچ ایک فریب ہے انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے لیے بڑے خسارے کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ انسان جب دین کو دنیا پر ترجیح نہیں دیتا تو وہ عموماً تین میں سے کسی ایک حالت کا شکار ہوتا ہے یا وہ دینی فائدے کو پہچانتا ہی نہیں، یا اسے صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا،
یا سمجھنے کے باوجود غفلت اور کم ہمتی کا شکار ہو جاتا ہے
جبکہ حقیقی موحد وہ ہے جو جانتا ہے کہ اس دنیا میں مؤثرِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ کسی سبب کو مستقل طاقت نہیں سمجھتا۔ اسی یقین کی بنیاد پر وہ دنیاوی فائدے کو ایمان اور اطاعتِ الٰہی پر قربان نہیں کرتا، یوں وہ اپنی زندگی میں رحمتِ الٰہی کو شامل کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ دینی فائدے پر دنیاوی امور کو ترجیح دے دے تو وہ برکاتِ الٰہی سے محروم ہو جاتا ہے
امام محمد باقر علیہ السلام حج کے بارے میں فرماتے ہیں: مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْثِرُ عَلَى الْحَجِّ حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا إِلَّا نَظَرَ إِلَى الْمُحِلِّقِينَ قَدِ انْصَرَفُوا قَبْلَ أَنْ تُقْضَى لَهُ تِلْكَ الْحَاجَةُ
ترجمہ : جو بندہ حج پر دنیا کی کسی حاجت کو ترجیح دیتا ہے، وہ دیکھے گا کہ حاجی عرفات سے واپس لوٹ چکے ہوں گے جبکہ اس کی وہ حاجت ابھی تک پوری نہ ہوئی ہوگی
یہ حدیث ایک عملی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص ایک عظیم عبادت کو دنیاوی فائدے کی خاطر ترک کرتا ہے، وہ فائدہ بھی اکثر وقت پر حاصل نہیں ہوتا، اور حج جیسی بے مثال سعادت بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ کے صحابی سماعہ کا واقعہ بھی اسی حقیقت کی تفسیر ہے۔ روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے سماعہ سے فرمایا: تم نے اس سال حج کیوں نہیں کیا؟
میں نے عرض کیا: میرے اور کچھ لوگوں کے درمیان معاملات تھے، کچھ مشغولیات تھیں، اور میں نے سوچا شاید اسی میں میرے لیے بھلائی ہو
تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، خدا کی قسم! اللہ نے تمہارے لیے اس میں کوئی بھلائی قرار نہیں دی
یعنی امام علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ حج کو دنیاوی مشاغل اور معاملات کی بنا پر ترک کرنا اللہ کی طرف سے کسی خیر یا مصلحت کی علامت نہیں، بلکہ اصل خیر حج کی ادائیگی میں تھی جسے چھوڑ دیا گیا۔ پس دین کو ترک کر کے دنیا کو اختیار کرنا کبھی بھی الٰہی خیر کا ذریعہ نہیں بن سکتا
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اپنی نماز کو جلدی اور بے توجہی سے ادا کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: کیا تم میرے بندے کو نہیں دیکھتے؟ گویا یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حاجات کی تکمیل میرے سوا کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اس کی تمام حاجات پوری کرنا صرف میرے ہی اختیار میں ہے؟
اس حدیث میں نماز کو عجلت اور بے دلی سے ادا کرنے کی مذمت کی گئی ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ ایسا شخص عملاً یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ کے بجائے کسی اور کو حاجت روا سمجھ رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں حاجات کا پورا ہونا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے
قرآنِ کریم اسی اصول کو اجتماعی سطح پر یوں بیان کرتا ہے: وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْض
ترجمہ اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا کی حقیقی خوشحالی اور ترقی ایمان اور تقویٰ سے وابستہ ہے، نہ کہ دین کو ترک کرنے سے پس دین اور دنیا کے درمیان انتخاب دراصل خسارے اور کامیابی کے درمیان انتخاب ہے۔ جو دنیا کو دین پر مقدم کرتا ہے وہ نہ دنیا کو کامل طور پر پا سکتا ہے اور نہ دین کی برکت کو، اور جو دین کو مقدم رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کو بھی سنوار دیتا ہے اور آخرت کو بھی



