حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بحرِ جود وکرم
حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی عبادت اور زہد و تقوی کو عام طور سے نمایاں حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے اور اس حقیقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپؑ کی عبادت کی کیفیت، معراجِ عبادت کی درخشاں تصویر تھی اور آپؑ کی عبادت میں کوئی چیز حائل نہ ہو سکتی تھی اور قید و بند کی صعوبتیں بھی نہ آپؑ کی عبادت کی کمیت کو کم کر سکیں اور نہ ہی آپؑ کی عبادت کی کیفیت کو بدل سکیں
لیکن آپؑ کی سیرت کے ایک پہلو کو اتنا روشن کر کے پیش نہیں کیا جاتا جتنا اس کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے اور وہ پہلو ہے آپؑ کی خدمتِ خلق میں جود و کرم کی انتہا۔نا جانے کیوں عموماً آئمہ علیھم السلام کی سیرت کو بیان کرتے ہو ئے حقوق اللہ میں عبادت اور زہد و تقوی کی رفعت کو تو ذکرکیا جاتا ہے لیکن آئمہ علیھم السلام کی خدمتِ خلق میں بلا امتیاز جانفشانی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کچھ ایسا ہی برتاؤ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی سیرت کو بیان کرتے ہو ئے اختیار کیا جاتا ہے حالانکہ جس توجہ اور انہماک کے ساتھ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام عبادتِ خداوندی انجام دیا کرتے تھے اتنی ہی گرم جوشی اور لگن کے ساتھ خدمتِ خلق کو بھی بلا تفریق اپنے خاص انداز سے برو ئے کار لایا کرتے تھے
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خلقِ خدا کے لیے جود و کرم کی غیر معمولی کثیر الجہات کاوشیں یہ حقیقت بھی نمایاں کرتی ہیں کہ آپؑ معاشرے کے مظلوم طبقے کو طاقتور بنانے کے لیے کس قدر سرگرم تھے ہمارے معاشرے میں ایسے خشک متقی افراد کی کمی نہیں ہے جو کُل دین نماز اور روزہ وغیرہ کو سمجھتے ہیں اور اپنی عبادت کا اجر بھی لوگوں سے ہی وصول کرنے کےخواہش مند نظر آتے ہیں اور وہ معاشرے کے محروم و مظلوم اور ستم زدہ طبقے کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس مظلوم طبقے کو حیاتِ نو دلانے کے لیے بالکل کوئی اقدام نہیں اٹھاتے۔
یہ روش عملِ آئمہ علیہم السلام اور بطورِ خاص امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی عملی سیرت کے یکسر مخالف ہے کیونکہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام صرف سراپا زہد و تقوی اور کامل عبادت گزار ہی نہ تھے بلکہ آپؑ خصوصی طور سے خدمتِ خلق کے لیے خود سرگرم عمل رہتے تھے آپؑ انسانیت کے پِسے ہوئے طبقے کے لیے خدمت کو بذات خود انجام دیا کرتے تھے جبکہ آپؑ کے لیے عین ممکن تھا کہ آپؑ اپنے عقیدت مندوں یا غلاموں کے ذریعے پِسی ہوئی انسانیت کو آسودہ زندگی عطاء کریں
کچھ روایات بتاتی ہیں کہ امام موسی کاظم علیہ السلام ڈھونڈ ڈھونڈ کر فقیروں کی اعانت فرمایا کرتے تھے اور جب کوئی فقیر آپ کو مل جاتا تو اس کے گھر کھانا اور اشرافیاں پہنچایا کرتے تھے اور پھر اس عمل کو بذاتِ خود رات کے وقت یوں انجام دیتے تھے کہ اس فقیر کو بھی یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ یہ انسان دوست خدمت گزار کون ہے اور جب امام موسی کاظم علیہ السلام کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر گئی تو ان فقراء کو علم ہوا کہ ہماری داد رسی کرنے والا، ہمارے آنسوؤں کو صاف کرنے والا، ہماری عزت و آبرو کو زمین بوس ہونے سے بچانے والا، ہمارے اوپر کرم کی انتہا کرنے والا عظیم انسان حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ذات گرامی کی صورت میں اس دارِ فانی سے دار بقاء کی جانب گامزن ہو چکا ہے نور الأبصار۔ صفحہ۔136 (علامہ شبلنجی)
ان روایات سے چند ایک حقائق ثابت ہوتے ہیں
1- جتنی توجہ نماز و روزہ اور حج و زکوۃ پر دینی چاہیے کم از کم اتنی ہی توجہ خدمتِ خلق پر بھی دینی چاہیے
2- جس طرح مسجد میں سربسجود ہو کر بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑانا عبادت ہے اسی طرح خدمتِ خلق کے لیے مشقت آمیز عمل بھی عبادت ہے۔
3- جس طرح نماز کو صرف خوشنودئِ خداوند کریم کے لیے انجام دینا چاہیے بالکل اسی طرح فقراء کی مدد بھی صرف رضاءِ الٰہی کے لیے انجام دینی چاہیے۔
4- جس طرح اندھیری رات کے پچھلے پہر ، خلوتوں میں لپٹی ہوئی سحر خیزی عشق الٰہی کی دلیل ہے اسی طرح رات کی سیاہ راہوں میں خلقِ خدا سے رخِ انور کو چھپا کر تنگ دستوں کی داد رسی بھی عشق الٰہی کے سمندر میں ڈوب جانے کی علامت ہے
5- امام موسی کاظم کا اپنے چہرہ مبارک کو لوگوں سے چھپا کر ان کی مدد کرنے کو دو مختلف جہات سے دیکھا جا سکتا ہے۔
(الف) یہ عمل اس لیے انجام دیا جاتا تھا کہ اخلاص قائم رہے۔
(ب) اس عمل کو انجام دینے کا ایک دوسرا سبب بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی فقیر شرمندگی محسوس نہ کرے اور اس کی عزت نفس محفوظ رہے اور اس کے احترام میں کوئی کمی واقع نہ ہو
یہ عمل واقعاً احترامِ انسانیت کی عظیم تصویر کشی معلوم ہوتا ہے قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کا جود و کرم جزوقتی عمل نہیں تھا بلکہ آپ ہمیشہ اس کے لیے سرگرم رہا کرتے تھے
آپ کا جود و کرم صرف کچھ مال دینے میں منحصر نہیں تھا بلکہ آپ بسا اوقات اتنا عطا کر دیتے تھے حاجت مند کی سال بھر کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی تھی یعنی امام موسی کاظم کی سخاوت میں تعدد بھی تھا اور تکثر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تھیلیاں ضرب المثل بن گئی تھی
امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے پاس دینار کی تھیلیاں رکھتے تھے اور ان میں سے بعض میں دو سو دینار ہوتے تھے اور بعض میں تین سو دینار اور یہ رقم اس دور کی ایک بھاری رقم شمار ہوتی تھی
اور آپؑ کو جہاں پر کوئی ضرورت مند انسان نظر آتا آپؑ اس کی فوراً مدد فرماتے تھے تذکرہ الأطہار ص 404 (شیخ مفید رح)
کسی بھی پریشان حال کی تنگدستی دور کرنا کمال کی بات نہیں ہے اصل عظمت اس امر میں پنہاں ہے کہ کسی محتاج کی مدد کی جا ئے تو اس کی عزت و آبرو محفوظ رہے اس کے احترام میں کمی واقع نہ ہو اور اسے یہ محسوس تک نہ ہو کہ اس کے ساتھ کچھ ایسا کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کا مقام لوگوں کی نگاہ میں گِر رہا ہے
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی سیرت اسی کمال کے حصول کی جانب دعوت دیتی ہے اور اس لیے آپؑ محتاج کو صرف مال ہی نہیں بلکہ دولتِ عزت سے بھی نوازا کرتے تھے۔
محمد بن عبداللہ بکری کا واقعہ اس لحاظ سے قابل توجہ ہے
وہ بیان کرتا ہے کہ وہ قرض لینے کی خاطر پورے مدینے میں گھومتا رہا لیکن ناکام رہا پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوا امام علیہ السلام اپنے کسی زمینی رقبہ میں تشریف فرما تھے اور ایک غلام آپؑ کے ساتھ تھا اور اس کے ہاتھ میں نیم پختہ گوشت کے ٹکڑے تھے اور آپؑ نے احترام اور عزت افزائی کرتے ہو ئے میرے ساتھ بیٹھ کر یہ گوشت خود بھی کھایا اور مجھے کھلایا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میرے اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ ہی نہیں اور پھر باتوں ہی باتوں میں پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
تو میں نے بتا دیا کہ کہ جی مجھے رقم کی ضرورت ہے تو امام علیہ السلام اپنے حجرۂِ مبارک میں تشریف لے گئے اور اپنے غلام سے کہا تم یہاں سے کچھ دیر کے لیے چلے جاؤ اور جب وہ چلا گیا تو آپؑ نے مجھے تین سو دینار والی ایک تھیلی عطاء کی اور پھر میں وہاں سے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو گیا۔ تذکرۃ الأطہار۔ ص-404



