امام موسیٰ بن جعفر الکاظم علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پر ایک طائرانہ نظر
امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام، جو کاظمُ الغیظ کے لقب سے مشہور ہیں، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے ساتویں امام اور آسمانی ہدایت کے اُن روشن میناروں میں سے ایک ہیں
جنہوں نے ظلمتِ زمانہ میں انسانیت کو صبر، تقویٰ، عبادت اور حق پر استقامت کا درس دیا۔ آپ کی ذاتِ اقدس علم، حلم، عبادت، اخلاق اور قربِ الٰہی کا مجسم نمونہ تھی
آپ کی ولادتِ باسعادت سنہ 128 ہجری (بعض روایات کے مطابق 129 ہجری) میں مقام ابواء میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی امام جعفر صادق علیہ السلام تھے، جو علم و حکمت کی دنیا میں ایک عظیم معجزہ سمجھے جاتے ہیں، اور آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت حمیدہ خاتون تھیں، جو تقویٰ، عقل، ایمان اور طہارت میں اپنی مثال آپ تھیں
امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت حمیدہ خاتون کی عظمت و طہارت کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا حمیدہ ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہیں، بالکل خالص سونے کی ڈلی کی مانند۔ فرشتے ہمیشہ ان کی حفاظت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کرامت کے طور پر اور میرے بعد آنے والی حجتِ خدا کے لیے انہیں مجھے عطا فرمایا
امام جعفر صادق علیہ السلام نے انہیں اپنے علوم سے سیراب فرمایا، یہاں تک کہ وہ اپنے زمانے کی عورتوں میں علم، تقویٰ اور ایمان کے اعتبار سے صفِ اوّل میں شامل ہو گئیں۔ آپؑ نے انہیں مسلمان عورتوں کو فقہ کی تعلیم دینے اور شرعی احکام سکھانے کی ذمہ داری سونپی، اور وہ اس عظیم منصب کی پوری طرح اہل تھیں۔ وہ اپنے دور کی خواتین میں عفت، فقاہت اور کمال کے اعتبار سے نہایت درخشاں اور ممتاز مقام رکھتی تھیں
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا بچپن ہی سے علم، وقار اور روحانیت نمایاں تھی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے اس فرزند سے غیر معمولی محبت فرماتے اور اپنے خاص اصحاب کو آپؑ کی امامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے یہی تمہارا امام ہے، اسی کی پیروی کرنا
یہ وہ دور تھا جب بنی امیہ کا زوال اور بنی عباس کا عروج شروع ہو رہا تھا۔ اگرچہ ظاہری طور پر حکومت اہلِ بیتؑ کے نام پر حاصل کی گئی، مگر حقیقت میں ظلم و جبر پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جاری رہا۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنی امامت کا آغاز نہایت حساس اور خطرناک سیاسی ماحول میں کیا، جہاں حق کا علم بلند کرنا جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔
امام علیہ السلام کا سب سے نمایاں وصف کظمِ غیظ یعنی غصے کو ضبط کرنا تھا۔ دشمنوں کے مظالم، قید و بند، توہین اور اذیت کے باوجود آپؑ نے کبھی انتقام یا نفرت کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ صبر، حلم اور عفو و درگزر کو اپنا شعار بنایا۔ اسی بنا پر آپؑ کو الکاظم کہا جاتا ہے۔ ابنِ اثیر کے مطابق یہ لقب اس لیے دیا گیا کہ آپ بدی کے جواب میں بھلائی کرتے اور سختیوں کو صبر کے ساتھ برداشت فرماتے تھے۔
عبادت و بندگی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنی مثال آپ تھے۔ آپ راتوں کو طویل قیام اور سجدوں میں گزارتے، کثرت سے روزے رکھتے اور ہمیشہ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو العبد الصالح کہا جاتا تھا، اور راویانِ حدیث آپ سے روایت نقل کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
حدّثنی العبد الصالح
ترجمہ مجھے نیک بندے نے حدیث بیان کی
آپؑ کا اخلاق اس قدر بلند تھا کہ دشمن بھی آپ کی عظمت کے معترف ہو جاتے تھے۔ فقراء، مساکین اور محتاجوں کے لیے آپؑ سایۂ رحمت تھے۔ رات کے اندھیرے میں اپنا چہرہ چھپا کر لوگوں کے گھروں تک راشن اور امداد پہنچاتے، اور کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ یہ احسانات کس کے دستِ مبارک سے ہو رہے ہیں۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بابُ الحوائج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لقب اس لیے مشہور ہوا کہ آپ کی حیات میں بھی اور آپ کی شہادت کے بعد بھی جو شخص خلوصِ نیت سے آپ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان فرما دیتا ہے۔ شیخ الحنابلہ ابو علی خلال کہتے ہیں: جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی، میں موسیٰ بن جعفرؑ کے مزار پر جاتا اور اللہ میری حاجت پوری فرما دیتا تھا
امام شافعیؒ نے فرمایا: قبرُ موسیٰ الکاظم تریاقِ مجرّب ہے۔
سیاسی اعتبار سے امام علیہ السلام کا سب سے کٹھن دور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں آیا۔ ہارون کو امامؑ کی روحانی مقبولیت اور اخلاقی عظمت سے شدید خوف تھا۔ اس نے بار بار آپؑ کو قید میں ڈالا، مختلف جیلوں میں منتقل کیا اور بالآخر اپنے کارندے سِندی بن شاہک کے ذریعے زہر دلوا کر آپؑ کو شہید کروا دیا۔
روایات کے مطابق سندی بن شاہک نے امامؑ کو زہر آلود کھجوریں کھلائیں۔ جب زہر نے بدن میں سرایت کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا مجھے نو کھجوروں کے ذریعے زہر دیا گیا ہے۔ کل میرا رنگ زرد ہو جائے گا اور اس کے بعد میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا۔
شہادت کے لمحات میں بھی آپؑ نے اپنے قاتلوں کے لیے بددعا نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکر اور رضا کے ساتھ اپنے رب سے ملاقات کو قبول فرمایا۔ 25 رجب سنہ 183 ہجری (بعض کے نزدیک 184 ہجری) کو آپؑ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اس وقت آپ کی عمرِ مبارک تقریباً 54 یا 55 برس تھی۔
آپؑ کو بغداد میں مقابرِ قریش میں سپردِ خاک کیا گیا، جو آج پوری دنیا میں کاظمین کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مقام آج بھی اہلِ ایمان کے لیے روحانی سکون اور قبولیتِ دعا کا مرکز ہے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی سیرت ہمیں یہ عظیم درس دیتی ہے کہ: ظلم کے مقابلے میں صبر
دشمنی کے جواب میں عفو دنیا کے جبر کے مقابل عبادت اور طاقت کے مقابل اخلاق ہی وہ ہتھیار ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مقام عطا کرتے ہیں


