نمائندۂ مرجعیت: حرمِ امام حسینؑ کے منصوبوں کا مقصد کاروبار یا منافع کمانا نہیں
مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے، شیخ عبدالمہدی کربلائی نے گزشتہ دنوں جامعہ السبطین برائے علومِ طبیہ کے طلبہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ حرمِ امام حسین علیہ السلام کے منصوبوں کا مقصد کاروبار کرنا یا منافع حاصل کرنا نہیں ہے
انہوں نے وضاحت کی کہ حرمِ امام حسینؑ سے وابستہ جامعات اور طبی منصوبوں سے وصول کی جانے والی تمام رقوم اسی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس موضوع پر متعدد مرتبہ گفتگو کر چکے ہیں کہ عتبۂ حسینیہ کے منصوبے سرمایہ کاری یا منافع کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً عوامی فلاح کے لیے ہیں۔ آپ سے جو بھی رقوم وصول کی جاتی ہیں، وہ تمام کی تمام طلبہ ہی پر خرچ کی جاتی ہیں، اور انہی رقوم کو دوبارہ جامعات کے امور، ان کی ترقی، توسیع اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ عتبۂ حسینیۂ مقدسہ کی جانب سے جامعات اور مدارس کو اضافی مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا کہ ہر طالب علم کی حقیقی مالی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ اسی تناظر میں ہم نے جامعہ کے ذمہ داران کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ طلبہ کو اپنی اولاد سمجھا جائے، ان میں پدرانہ شفقت اور سرپرستی کا احساس پیدا کیا جائے، اور ساتھ ہی ان کی علمی برتری اور تعلیمی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کیا جائے
انہوں نے جامعہ کے منتظمین سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی نفسیاتی اور سماجی مشکلات کے حل کے لیے جامعہ کے اندر ایک نفسیاتی و سماجی معاونت مرکز قائم کیا جائے، تاکہ مشکل حالات سے دوچار طلبہ کی مدد کی جا سکے اور وہ ان مسائل پر قابو پا سکیں۔ مالی امور سے جڑے سماجی پہلو میں ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ طالب علم یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کرے اور اس کا ذہن گھریلو یا سماجی مسائل میں الجھا نہ رہے
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جامعہ کو پدرانہ سرپرستی کے اس کردار کو اپنانا چاہیے تاکہ طلبہ کو نفسیاتی، سماجی اور دیگر ضروری معاونت فراہم کی جا سکے، جو انہیں تعلیمی مراحل کامیابی کے ساتھ طے کرنے میں مدد دے
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مراحل کے ہر طالب علم اور طالبہ کے حالات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ عدل و انصاف قائم ہو، کیونکہ بعض طلبہ انتہائی کمزور معاشی حالات کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں فیس سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دینا ان کا حق ہے، جبکہ بعض طلبہ مکمل معافی کے مستحق نہیں ہوتے، تو ان کی فیس میں نصف تک کمی کی جائے، تاکہ وہ بھی کسی حد تک شراکت دار بن سکیں



