روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں خود پسندی کے تباہ کن اثرات

: شیخ سردار حسین 2025-12-17 07:40

خود پسندی ایک نہایت خطرناک اخلاقی مرض ہے جو بظاہر انسان کے باطن میں جنم لیتا ہے، مگر اس کے اثرات فرد کی ذات سے نکل کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

یہ بری صفت نہ صرف انسان کے اخلاق کو تباہ کرتی ہے بلکہ معاشرے کے امن، بھائی چارے اور اخوت جیسے بنیادی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے

خود پسندی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کسی کمال، عبادت، علم، نسب یا منصب کو دیکھ کر یہ گمان کرنے لگے کہ وہ دوسروں سے برتر اور اعلیٰ مقام کا مستحق ہے، اور اسی باطل تصور کے تحت اپنے آپ سے خوش ہو جائے اور اپنی بڑائی محسوس کرنے لگے، حالانکہ حقیقت میں وہ اس بلند مرتبے کا حق دار نہیں ہوتا۔

علمائے اخلاق اسی کیفیت کو عُجب یا خود پسندی کہا جاتا ہے

خود پسندی درحقیقت تکبر کی بنیاد اور اس کا پہلا زینہ ہے، کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے تو لازمی طور پر دوسروں کو کمتر جاننے لگتا ہے۔ یہی احساسِ برتری رفتہ رفتہ انسان کو لوگوں کی تحقیر پر آمادہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص جب یہ دیکھتا ہے کہ لوگ اسے وہ عزت و احترام نہیں دے رہے جس کا وہ اپنے گمان میں خود کو مستحق سمجھتا ہے، تو وہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ یوں خود پسندی انسان کو تنہائی، نفرت اور باہمی دشمنی کی طرف لے جاتی ہے، اور معاشرتی ہم آہنگی پارہ پارہ ہو جاتی ہے

خود پسندی کا ایک اور سنگین نقصان یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کمال کا اعتقاد رکھتے ہوئے دوسروں کو پست نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے، اور یہی سوچ عام لوگوں کے جائز حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جب انسان دوسروں کے حقوق کو اہمیت نہیں دیتا تو لازمی طور پر وہ لوگوں کی نفرت اور دشمنی کا نشانہ بنتا ہے، اور آہستہ آہستہ معاشرے میں ایک ناپسندیدہ اور قابلِ نفرت شخصیت بن جاتا ہے۔ اس طرح خود پسندی نہ صرف فرد کی اخلاقی تباہی کا سبب بنتی ہے بلکہ سماجی بگاڑ کا بھی ذریعہ بن جاتی ہے

اسی لیے دینِ اسلام انسان کو اپنے نفس سے حد سے زیادہ راضی ہونے سے روکتا ہے اور تواضع، فروتنی اور خود احتسابی کی تعلیم دیتا ہے۔ خود پسند انسان ہمیشہ اس خواہش میں مبتلا رہتا ہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں، مجالس میں اسے نمایاں مقام دیا جائے، لوگ سلام میں پہل کریں، اس کی تعریفیں کریں اور اس کی مدح سرائی کریں۔ جب لوگ اسے اس نظر سے نہیں دیکھتے تو وہ ان کے بارے میں بدگمانی اور بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے، اور پھر بدکلامی، بدزبانی اور بے اعتنائی پر اتر آتا ہے۔ نتیجتاً لوگ بھی اس سے متنفر ہو جاتے ہیں اور معاشرتی فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں خود پسندی کے سماجی اثرات کو نہایت مختصر مگر عمیق جملے میں یوں بیان فرماتے ہیں: من رضی عن نفسہ کثر الساخط علیہ

ترجمہ جو شخص اپنے نفس سے راضی ہو جاتا ہے، اس سے ناراض رہنے والے بہت زیادہ ہو جاتے ہیں

یہ فرمان واضح طور پر بتاتا ہے کہ اپنے نفس پر خوش ہونا اور خود کو کامل سمجھنا درحقیقت لوگوں کی ناراضی اور دشمنی کو دعوت دینا ہے

اسی طرح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے جلیل القدر صحابی، عظیم مجاہد اور مخلص ساتھی حضرت مالکِ اشتر کو نہایت اہم اور بصیرت افروز نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

ایاک والاعجاب بنفسک و الثقہ بما یعجبک منھا وحب الاطرا فان ذللک من اوثق فرص الشیطان فی نفسہ یمحق ما یکون من احسان المحسنين

ترجمہ: اپنے نفس پر ناز کرنے سے بچو، اپنی خوبیوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد نہ کرو، اور تعریف و ستائش کو پسند کرنے سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ سب شیطان کے مضبوط ترین مواقع میں سے ہیں، جن کے ذریعے وہ نیک لوگوں کی نیکیوں کو بھی ضائع کر دیتا ہے

یہ نصیحت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ خود پسندی صرف گناہ ہی نہیں بلکہ نیکیوں کو برباد کرنے والا ایک شیطانی ہتھکنڈا ہے

اسی مضمون کی تائید امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ایک اور مختصر مگر جامع فرمان سے بھی ہوتی ہے، جو غرر الحکم میں نقل ہوا ہے: ثمرہ العجب البغضاء

ترجمہ : خود پسندی کا پھل اور نتیجہ لوگوں کی نفرت ہے

یہاں خود پسندی کے انجام کو نہایت واضح انداز میں بیان کر دیا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ کسی فضیلت یا عزت کی صورت میں نہیں بلکہ نفرت اور دشمنی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے

رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس باب میں ایک نہایت عبرت آموز روایت منقول ہے۔ روایت کے مطابق ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس شیطان رنگ برنگے لباس زیب تن کیے ہوئے آیا۔ حضرت موسیٰؑ نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ لباس کیوں پہنا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں لوگوں کے دلوں کو برباد کرنے کے لیے یہ لباس پہنتا ہوں۔ پھر حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:

فاخبرنی بالذنب الذی اذا اذنبہ ابن آدم استحوذت علیہ؟

یعنی مجھے بتاؤ وہ کون سا گناہ ہے کہ اگر انسان اسے انجام دے دے تو تم اس پر مکمل طور پر مسلط ہو جاتے ہو؟

اس پر شیطان نے جواب دیا:

إِذَا أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، وَاسْتَكْثَرَ عَمَلَهُ، وَصَغُرَ فِي عَيْنَيْهِ ذَنْبُهُ۔

ترجمہ جب انسان اپنے آپ پر ناز کرنے لگے، اپنے اعمال کو بہت زیادہ سمجھنے لگے، اور اپنے گناہوں کو اپنی نگاہ میں چھوٹا جاننے لگے

یہ روایت اس حقیقت کو مکمل طور پر واضح کر دیتی ہے کہ خود پسندی وہ گناہ ہے جو انسان کو شیطان کے مکمل تسلط میں دے دیتا ہے

ان تمام روایات کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ خود پسندی انسان کے ایمان، اخلاق اور معاشرتی زندگی کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ اس سے نجات کا واحد راستہ تواضع، خود احتسابی اور اپنے اعمال کو ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں ناقص سمجھنا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو حقیر اور اپنے رب کو عظیم سمجھتا ہے، وہی حقیقت میں عزت اور مقبولیت کا مستحق ہوتا ہے، اور اسی میں فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح مضمر ہے۔

مطلوبہ الفاظ : خود پسندی

العودة إلى الأعلى