حرم امام حسین علیہ السلام نے خادمین کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر کورس کا آغاز کردیا
حرم امام حسین علیہ السلام کے ذیلی ادارے ٹیکنیکل ایجوکیشن نے اپنے ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اورجدید تقاضوں کے مطابق تربیت کے لیے مصنوعی ذہانت پر ایک خصوصی کورس شروع کیا ہے
یہ مختصر تربیتی پروگرام حرم کے جنرل سیکرٹریٹ کی ہدایات پر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اورعملے کی تکنیکی مہارتوں کو ترقی دینے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو ادارے کی جانب سے عراق اور بیرونِ ملک جدید ٹیکنالوجی کی نشوونما کے لیے جاری سلسلہ وار پروگراموں کا حصہ ہے۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن کے معاونِ علمی ڈاکٹر حاکم الجبوری نے کربلاء ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کورس حرم حسینی کے ملازمین کو مختلف شعبوں میں سہولت فراہم کرنے والے تخصصی اور تربیتی پروگراموں کی ایک کڑی ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی ایک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد بلوشی کو مدعو کیا گیا ہے جو انتظامی، مالی، انجینیئرنگ اور طبی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمالات پر تربیت دے رہے ہیں
ان کے مطابق پہلے دن مصنوعی ذہانت کا تعارف، اس کی اہمیت اور جدید ایپلی کیشنز پر ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی گئی
ڈاکٹر الجبوری نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ کورس خاص طور پر حرم کے ملازمین کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ ذمہ داریوں میں مصنوعی ذہانت کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ درست اور تیز کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے پاس متعدد تعلیمی ادارے، اسکول، جامعات اور مرکزِ مصنوعی ذہانت موجود ہیں جو بچوں، نوجوانوں، بالغوں اور پیشہ ور افراد کے لیے مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرتے ہیں
ایرانی ٹرینر ڈاکٹر محمد بلوشی نے بتایا کہ ورکشاپ تین تربیتی مراحل پر مشتمل ہے، جو حرم کے مختلف شعبوں کے ملازمین، درمیانے درجے کے مدیران، اور شعبہ جات کے سربراہان کے لیے مخصوص ہیں
کورس میں سول انجینیئرنگ اور انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمالات پر توجہ دی جا رہی ہے اور شرکاء کو عملی مثالیں اور اطلاقی مراحل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ پروگرام میں یہ بھی شامل ہے کہ کس طرح سمارٹ سسٹمز کو بہترین نتائج کے لیے صحیح انداز میں ہدایات اور ڈیٹا فراہم کیا جائے
آخر میں ڈاکٹر بلوشی نے حرم انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کورس میں اپنی علمی مہارتیں پیش کرنے اور شرکاء کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح کی کاوشیں حرم کے اداروں میں تکنیکی اور انجینیئرنگ ترقی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں



