روایاتِ معصومینؑ کی روشنی میں حاجت روائی کی فضیلت اور برکات
انسان جب اجتماعی زندگی گزارتا ہے تو وہ کسی نہ کسی صورت میں دوسروں کا محتاج رہتا ھے۔ اس دنیا کی ساخت ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی شخص مکمل طور پر خود کفیل نہیں رہ سکتا
زندگی کے ہر مرحلے پر، کبھی مشورے کی صورت میں، کبھی سہارا بن کر، اور کبھی مسائل کے طوفان سے باہر نکلنے کے لیے انسان انسان کا دست و بازو بنتا ہے۔ معاشرہ تبھی قائم رہتا ہے جب افراد ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں، اور حاجت روا بن کر معاشرتی رشتوں اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کریں۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں حاجت روائی یعنی کسی کی ضرورت پوری کرنے یا مشکل آسان کرنے کو انتہائی عظمت، بے حساب اجر اور روحانی بلندی کا مقام عطا کیا گیا ہے۔
دین ہمیں بتاتا ہے کہ انسان صرف عقل کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ فطرت کے اعتبار سے بھی دوسرے انسان کا محتاج ہے۔ جب دنیا کی کوئی مشکل انسان کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہوتی ہے تو ایک مددگار ہاتھ اُسے سنبھال لیتا ہے۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ انسان کا اجتماعی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اسے دوسروں کی ضرورت پڑے گی، اور دوسروں کی ضرورت پوری کرنا ایک عقلی، فطری، اور اخلاقی امر ہے۔
یہی اصول روایاتِ معصومین علیہم السلام میں انتہائی جامع انداز سے بیان ہوا ہے۔ ان روایات میں حاجت روائی کو صرف ثواب کا ذریعہ نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی، انسانیت کی سربلندی اور روحانی ترقی کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے نہ صرف اس عمل پر ترغیب دی ہے بلکہ اس کے آداب اور شرائط بھی بیان فرمائے ہیں تاکہ مدد کرنا ایک عبادت بن جائے، اور اس کے اثرات دنیا و آخرت دونوں میں ظاہر ہوں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک نہایت جامع روایت حاجت روائی کے اجر کی وسعت کو واضح کرتی ہے۔ روایت میں ہے: قال الامام جعفر الصادق علیہ السلام: من سعی فی حاجة اخیہ المسلم طلب وجہ اللہ کتب اللہ عزوجل لہ الف الف حسنہ، یغفر فیہا لاقاربہ و جیرانہ و اخوانہ و معارفہ۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لیے اللہ کی رضا کی نیت سے کوشش کرتا ہے، اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اور ان نیکیوں کے سبب اس کے رشتہ داروں، پڑوسیوں، بھائیوں اور جاننے والوں کے گناہ بھی معاف کر دیے جاتے ہیں
یہ فضیلت بتاتی ہے کہ حاجت روائی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات اُس کے پورے ماحول، خاندان اور رشتوں میں شعاع کی طرح پھیل جاتے ہیں۔ گویا ایک شخص کی مدد کرنا پورے معاشرے کے لیے خیر کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور اہم روایت اسحاق ابن عمار کے ذریعے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے جس میں حاجت روائی کو طوافِ کعبہ سے برتر قرار دیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: قال ابو عبداللہ علیہ السلام: یا اسحاق، من طاف بھذا البیت طوافا واحدا کتب اللہ لہ الف حسنہ، و محی عنہ الف سیئہ و رفع لہ الف درجہ و غرس لہ الف شجرہ فی الجنہ و کتب لہ ثواب عتق الف نسمہ... ثم قال: افلا اخبرک بما ھو افضل من ھذا؟ قلت بلی. قال علیہ السلام: من قضی لاخیہ المومن حاجة کتب لہ طوافا و طوافا حتی بلغ عشرا۔
اے اسحاق! جو شخص بیت اللہ کا ایک طواف کرتا ہے اللہ اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے، ایک ہزار گناہ مٹا دیتا ہے، ایک ہزار درجات بلند کر دیتا ہے، جنت میں ایک ہزار درخت لگا دیتا ہے اور ایک ہزار غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرتا ہے... پھر فرمایا: کیا میں تجھے اس سے بھی افضل چیز کی خبر نہ دوں؟ میں نے کہا ضرور۔ فرمایا: جو شخص اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرے، اللہ اس کے لیے دس طوافوں کا ثواب لکھتا ہے۔
یہ روایت حاجت روائی کے مقام کو اس حد تک بلند کر دیتی ہے کہ وہ طوافِ بیت اللہ جیسے عظیم ترین اعمال پر بھی فضیلت رکھتا ہے۔ طواف ایک ایسی عبادت ہے جس کے لیے لوگ دنیا بھر سے بیت اللہ جاتے ہیں، لیکن کسی ضرورت مند بھائی کی مشکل آسان کرنا اس عبادت سے بھی دس گنا زیادہ اجر رکھتی ہے
اسی طرح ایک اور روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے حاجت روائی کے اجر کو یوں بیان فرمایا:
ما قضی مسلم لمسلم حاجۃ الا ناداہ اللہ یوم القیامۃ: علی ثوابک، و لا ارضی لک بدون الجنۃ۔
جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی حاجت پوری کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اسے ندا دے گا: تیرا اجر مجھ پر واجب ہے، اور میں تجھے جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں
یہ روایت حاجت روائی کے روحانی و معنوی اثر کو واضح کرتی ہے۔ اللہ خود قیامت کے دن ایک بندے سے خطاب کرے اور اسے جنت کا وعدہ دے، اس سے بڑھ کر عزت اور کیا ہو سکتی ہے؟
ایک اور روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مشی المسلم فی حاجۃ المسلم خیر من سبعین طوافا بالبیت الحرام
ایک مسلمان کا دوسرے کی حاجت پوری کرنے کے لیے قدم بڑھانا بیت اللہ کے ستر طواف کرنے سے بہتر ہے
یہاں قدم بھرنے کو طواف کے ستر چکروں سے برتر قرار دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ حاجت روائی صرف کام کا پورا کر دینا نہیں بلکہ اُس کے لیے چلنا، کوشش کرنا اور قدم اٹھانا بھی عظیم عبادت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بھی صادق آل محمد علیہ السلام نے نقل کی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: من ضمن لاخیہ حاجۃ لم ینظر اللہ فی حاجتہ حتی یقضیھا
جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے کی ضمانت دے دیتا ہے، اللہ اس کی اپنی حاجت کی طرف نظر نہیں فرماتا جب تک وہ اپنے بھائی کی حاجت پوری نہ کر دے
یہ روایت بتاتی ہے کہ مدد کرنا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایسا عمل ہے جو انسان کی اپنی تقدیر اور مشکلات کے حل سے بھی جڑا ہوا ہے جو دوسروں کے لئے کھڑا ہوتا ہے خدا اس کے لئے کھڑا ہوتا ہے
ایک اور روشن روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ان للہ عبادا من خلقہ یفزع العباد الیہم فی حوائجھم، اولئک ھم الآمنون یوم القیامہ
اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کی طرف لوگ اپنی ضروریات لے کر رجوع کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن امن میں ہوں گے
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ حاجت روائی صرف ایک عمل نہیں، بلکہ کچھ بندوں کی پہچان بن جاتی ہے، اور یہ پہچان قیامت میں ان کے لیے امان کا سبب بنتی ہے
یہ تمام روایات حاجت روائی کی عظمت بیان کرنے کے لئے کافی تھیں، مگر ائمہ نے اس عمل کے آداب اور شرائط بھی واضح فرمائے تاکہ عمل بااخلاص ہو، دکھاوا نہ ہو، اور اس کا اثر دلوں اور معاشروں تک پہنچے
نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 101 میں امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں لا یستقیم قضاء الحوائج الا بثلاث: باستصغارھا لتعظم، و باستکتامھا لتظھر، و بتعجیلھا لتھنوء۔
حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی: اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی ہو جائے، اسے چھپایا جائے تاکہ وہ ظاہر ہو، اور اسے جلدی کیا جائے تاکہ وہ خوشگوار ہو
اس کے بعد امام جعفر الصادق علیہ السلام کی روایت اس وضاحت کو مزید مضبوط کرتی ہے: رأیت المعروف لا یصلح الا بثلاث خصال؛ تصغیرہ و تستیرہ و تعجیلہ، فانک اذا صغرتہ عظمتہ عند من تصنعہ الیہ، و اذا سترتہ تممتہ، و اذا عجلتہ ھنأتہ و ان کان غیر ذلک سخفتہ و نکدتہ
میں نے دیکھا ہے کہ نیکی تین صفات کے بغیر مکمل نہیں ہوتی: اسے چھوٹا سمجھنا، اسے چھپانا، اور اسے جلدی کرنا۔ کیونکہ جب تم اسے چھوٹا سمجھتے ہو تو وہ اس کے سامنے بڑی ہو جاتی ہے جس کے لیے اسے انجام دیا جا رہا ہے، جب اسے چھپاتے ہو تو نیکی کامل ہوتی ہے، اور جب جلدی کرتے ہو تو وہ خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اگر یہ تین باتیں نہ ہوں تو نیکی اپنی حقیقت کھو دیتی ہے اور بوجھ بن جاتی ہے
یہ دونوں روایات واضح کرتی ہیں کہ حاجت روائی کا عمل ظاہری نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہ ایسا ہونا چاہیے جو دل سے کیا جائے، اخلاص کے ساتھ ہو، اور اس میں تاخیر نہ کی جائے
روایات کی روشنی میں انسان جب کسی کی حاجت پوری کرتا ہے تو دراصل وہ اس نظامِ زندگی کو مضبوط کر رہا ہوتا ہے جس میں انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی ضرورتوں سے بے خبر ہو جائیں تو نہ صرف افراد مشکلات میں گھر جاتے ہیں بلکہ پورا معاشرہ اخلاقی اعتبار سے کمزور ہو جاتا ہے
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حاجت روائی محض ایک سماجی عمل نہیں بلکہ ایک عبادت ہے، ایک نور ہے جو بندے کے نامہ اعمال کو روشن کرتا ہے، ایک ایسی روشنی جو قیامت کے اندھیروں میں اس کے لئے چراغ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معصومین علیہم السلام نے اس عمل کی اتنی ترغیب دی اور اتنی اہمیت بیان فرمائی کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حاجت روائی ایمان کی حقیقت کا حصہ ہے
جب ایک شخص دوسروں کی مشکلات آسان کرتا ہے تو وہ خود بھی سکون پاتا ہے، اس کے دل میں محبت اور انسانیت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، اور معاشرے میں وہ اعتماد بحال ہوتا ہے جو انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ انسان جس قدر دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو جائے، اسی قدر اس کی زندگی بابرکت ہو جاتی ہے
آخر میں یہ حقیقت قابل غور ہے کہ روایات حاجت روائی کے اجر کو کثرت سے بیان کرتی ہیں لیکن جہاں اجر کی مقدار بہت زیادہ ہے وہاں شرط بھی واضح ہے: نیکی چھپ کر ہو، اخلاص کے ساتھ ہو، بغیر دکھاوے کے ہو، اور جلد سے جلد ہو۔ یہی وہ شرائط ہیں جن سے انسان کی مدد عبادت کا درجہ پاتی ہے
جب معاشرہ اس اصول کو اپنا لیتا ہے کہ ہر فرد دوسرے کا سہارا بنے، تو نہ صرف مشکلات کم ہوتی ہیں بلکہ محبت، اخوت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ حاجت روائی ایک ایسا نور ہے جو انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کو بھی روشن کرتا ہے، لوگوں کو قریب کرتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے، اور معاشروں کو مضبوط اور مہذب بناتا ہے



