حرم حضرت عباس علیہ السلام نے زائرین کے لیے “طریقِ یا حسین” پر شجرکاری مہم کا آغاز کردیا
حرم حضرت عباس علیہ السلام نے نجف اشرف سے کربلا مقدسہ کو ملانے والے زائرین کے راستے (طریقِ یا حسین) پر بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا ہے
اس مہم میں کربلا کی مقامی حکومت، حرم حضرت عباسؑ کے سیکرٹری جنرل، مجلسِ انتظامیہ کے اراکین اور متعدد سرکاری شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے اس اہم منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا
پراجیکٹ کی نگران کمیٹی کے سربراہ سید جواد الحسناوی نے بتایا کہ حرم حضرت عباسؑ نے ’طریقِ یا حسین‘ کی شجرکاری کا منصوبہ عملی طور پر شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد زیاراتِ میلیونیہ کے دوران خصوصاً گرمیوں میں زائرین کو درپیش مشکلات کم کرنا ہے، کیونکہ راستے میں سایہ دار درختوں کی کمی اُن کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ متولیِ شرعی علامہ سید احمد الصافی نے شجرکاری کی وسیع پیمانے پر مہم شروع کرنے کی ہدایت دی ہے، جو کربلا سے شروع ہو کر نجف تک پھیلے گی، تاکہ زائرین کے لیے زیادہ آرام دہ اور مناسب ماحول فراہم کیا جا سکے
سید الحسناوی نے بتایا کہ منصوبے کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جو کربلا کے بائی پاس (شارع ابومہدی المہندس) سے خان النص تک کے علاقے پر مشتمل ہے۔ روضۂ عباسیہ نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنے تمام شعبہ جات، تکنیکی مہارت اور لوجسٹک وسائل کو بروئے کار لایا ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ منصوبہ کربلا کی مقامی حکومت، خصوصاً شعبۂ عمومی خدمات کے بھرپور تعاون سے جاری ہے اور متعلقہ تمام محکمے اس میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں
دوسری جانب کربلا–نجف پراجیکٹ کے ذمہ دار انجینئر سید احمد نور مہدی نے بتایا کہ
کربلا کے متعلقہ اداروں نے روضہ عباسیہ کے تعاون سے ’طریقِ یا حسین‘ کی شجرکاری کے عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ 35 کلومیٹر کے طویل راستے پر مشتمل ہے، جو حدودِ کربلا–نجف سے شروع ہو کر کربلا کے بائی پاس تک پھیلا ہوا ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے مرحلے میں راستے بھر میں درختوں کی شجرکاری کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی کے لیے کنویں کھودے جا رہے ہیں۔ یہ کنویں جدید ڈرِپ اریگیشن سسٹم میں استعمال ہوں گے تاکہ پانی کے استعمال میں بچت ہو اور مسلسل آبپاشی ممکن بنائی جا سکے
ان کے مطابق’طریقِ یا حسین‘ اور ’طریقِ یا علی‘ دونوں کی شجرکاری 35 کلومیٹر کے فاصلے تک مسلسل جاری ہے، جس سے زائرین کے راستوں کا ماحولیاتی اور خدماتی منظرنامہ نمایاں طور پر بہتر ہوگا



