دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے کربلا و نجف اشرف میں مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی پُر وقار تشییعِ جنازہ کی تصویری جھلکیاں آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کے وصال پر مرجع اعلیٰ سید علی الحسینی سیستانی دام ظلہ کا تعزیتی پیغام حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام تلعفر میں عیدِ غدیر کی پُروقار تقریب کا انعقاد حوزۂ علمیہ نجف اشرف ایک عظیم مرجعِ دین اور نامور فقیہ سے محروم عید غدیر یوم ولایت و امامت کربلا :عیدِ غدیر کی مناسبت سے خدیجۃ الکبریٰؑ اسپتال میں علاج معالجے پر 50 فیصد رعایت عیدِ غدیرِ اَغر کے پُرمسرت موقع پر حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کا ضریحِ مقدس نورِ ولایت سے درخشاں ہے، جس کی روح پرور جلوہ گری زائرین کے دلوں میں خوشی، عقیدت اور روحانی سرشاری کے جذبات کو تازہ کر رہی ہے

فدک کی مالکانہ حیثیت

2025-10-29 19:31

فدک کی مالکانہ حیثیت

تحریر:ڈاکٹر سید وقار حیدر نقوی

کیا فدک رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتی ملکیت تھا یا یہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت شمار ہوتا تھا؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب فدک کے پورے مسئلے کی نوعیت کو   بدل کر رکھ دیتا ہے۔

کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ فدک رسولِ خدا ﷺ کی ذاتی ملکیت تھا، تو پھر اس کا تصرف اُن کا حقِ خاص تھا، اور یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ آپ ﷺ نے اسے جسے چاہا عطا فرمایا۔

کیونکہ جب کوئی چیز کسی شخص کی ملکیت ہوتی ہے، تو وہ اسے اپنی مرضی سے جسے چاہے ھبہ کر سکتا ہے۔

لیکن اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ فدک رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت تھا، تو ایسی صورت میں اسے ہبہ (عطیہ) کے طور پر کسی ایک فرد کو منتقل کرنا درست نہیں ہو سکتا۔

اس مختصرسی تحریر میں چند اہم دلائل پیش کیے گئے ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ فدک درحقیقت رسولِ اکرم محمد مصطفی ﷺ کی ذاتی ملکیت تھا۔

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں صراحت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے کہ فدک رسول اللہ ﷺ کی خالص ملکیت تھا چند معتبر اہل سنت کتابوں کے متون ملاحظہ ہوں۔

طبری کا بیان ہے کہ

"وَكَذَلِكَ نِصْفُ أَرْضِ فَدَكَ، فَإِنَّهُ صَالَحَ أَهْلَهَا بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ عَلَى نِصْفِ أَرْضِهَا، وَكَانَتْ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ ثُلُثُ أَرْضِ وَادِي الْقُرَى، وَكَذَلِكَ حِصْنَانِ مِنْ حُصُونِ خَيْبَرَ... لَكَانَتْ هَذِهِ كُلُّهَا مِلْكًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، لَا حَقَّ لِأَحَدٍ فِيهَا غَيْرَهُ." الطبری، تاريخ الأمم والملوك (تاريخ الطبري)،

ج 3، ص 86 (ط۔ دار التراث، بيروت)

ترجمہ: اسی طرح فدک کی نصف زمین بھی رسولِ اکرم ﷺ کی ملکیت میں داخل ہوئی، کیونکہ آپ ﷺ نے اہلِ فدک سے خیبر کی فتح کے بعد اس شرط پر صلح فرمائی کہ آدھی زمین مسلمانوں کی ہو اور آدھی اہلِ فدک کی۔

یوں وہ نصف حصہ خالصتاً رسولِ خدا ﷺ کی ذاتی ملکیت قرار پایا۔اسی طرح وادیِ القُریٰ کی ایک تہائی زمین اور خیبر کے دو قلعے بھی اسی نوعیت کے تھے۔

یہ تمام علاقے رسولِ اکرم ﷺ محمد مصطفی ﷺ کی خالص ملکیت تھے، جن میں آپ کے سوا کسی دوسرے شخص کا کوئی حق یا حصہ نہیں تھا۔ بلازری کا کہنا ہے کہ

قال البلاذري: «وَفَدَكٌ صَالَحَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى نِصْفِ الأَرْضِ وَنِصْفِ الثَّمَرِ، وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى يَدِ مَحِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ خَالِصَةً، لأَنَّ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُوجِفُوا عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ.» البلاذری، فتوح البلدان، ص 39، مطبوعہ دار و مکتبۃ الہلال، بیروت۔

بلاذری لکھتے ہیں:

ترجمہ:"فدک والوں نے رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ زمین اور اس کے پیداوار (یعنی پھل وغیرہ) کا آدھا حصہ مسلمانوں کا اور آدھا ان کا ہوگا۔ یہ معاہدہ محیصہ بن مسعود انصاریؓ کے ہاتھوں انجام پایا۔چنانچہ فدک رسولِ اکرم ﷺ کی خالص ذاتی ملکیت قرار پایا،کیونکہ مسلمانوں نے فدک کی زمین پر نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ سوار ہو کر جنگ کی تھی، یعنی یہ علاقہ جنگ کے ذریعے فتح نہیں ہوا تھا بلکہ صلح کے ذریعے حاصل ہوا، اس لیے وہ خالصتاً رسولِ خدا ﷺ کی ملکیت بن گیا۔

 ابن سعد رقمطراز ہیں کہ

"كَانَتْ فَدَكُ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُهَا فِي نَفَقَتِهِ وَيَصْنَعُ بِهَا مَا بَدَا لَهُ."

  الطبقات الکبری، ابن سعد، جلد 1، صفحہ 501

ترجمہ: "فدک رسولِ خدا ﷺ کی خالص ذاتی ملکیت تھی۔ آپ ﷺ اس کی آمدنی کو اپنی ضروریاتِ زندگی میں صرف فرماتے تھے اور اس میں جس طرح چاہتے تصرف فرمایا کرتے تھے۔"

یعنی فدک کی زمین کسی اور کی مشترکہ ملکیت نہ تھی بلکہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کا ذاتی و مخصوص مال تھا، جسے آپ ﷺ اپنی مرضی کے مطابق انفاق، عطا یا استعمال فرماتے تھے

 اور رہا یہ سوال کہ اگر یہ فدک رسول اللہ ﷺ کی ذاتی ملکیت تھا تو وہ اس کو دیگر مسلمانوں پر کیوں خرچ فرماتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر رسول اللہ ﷺ کی عظمت، رفعت، زہد، خلقِ خدا سے محبت اور عشقِ خدا میں راہِ خدا میں خلقِ خدا کی خدمت کی دلیل ہے اس لیے کہ آپ دنیاوی بادشاہوں اور حکمرانوں کی مانند اپنی ذاتی ملکیت کو صرف اپنی ہی عیش و عشرت کے لیے مختص کرنے کے شدید مخالف تھے بلکہ آپ ہر اس حاکمانہ روبے کے مخالف تھے جس میں دنیا برستی کی بدبو آتی تھی مذکورہ بالا معتبر کتب اہل سنت سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فدک رسول اللہ ﷺ کی خالص ملکیت تھا اب یہ ان کا اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں اس کا مالک بنا دیں اور تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو اس کا مالک بنا دیا تھا انشاءاللہ کسی اور تحریر میں یہ حقیقت اہل سنت برادران کی کتابوں سے ثابت کی جائے گی کہ رسول اللہ ﷺ نے فدک اپنی پیاری بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو ہبہ فرمایا تھا۔

العودة إلى الأعلى