فقر کی مذمت اور معاشرتی رویّے اہل بیت ع کی تعلیمات کی روشنی میں
غریبی اور مفلسی انسان کے لیے ایک سخت اور تلخ آزمائش ہے ائمۂ اہل بیت علیہم السلام نے اس حقیقت کو نہ صرف واضح فرمایا بلکہ فقر کے منفی اثرات، اس کے دینی، اخلاقی اور سماجی نقصانات کو بھی بیان کیا ہے
اگرچہ بعض مواقع پر فقر کو صبر و رضا کے مقام سے جوڑا گیا ہے، لیکن عمومی طور پر اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں فقر و ناداری کو ایک قابلِ مذمت حالت کے طور پر پیش کیا گیا ہے
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا : الفقر الموت الاکبر
ترجمہ یعنی فقر سب سے بڑی موت ہے
یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غربت انسان کی زندگی کے جوش و جذبے کو ختم کر دیتی ہے، گویا زندہ رہتے ہوئے بھی وہ زندگی کی تمام لذت سے محروم ہو جاتا ہے
امام نے ایک اور مقام پر فرمایا: القبر خیر من الفقر
ترجمہ یعنی قبر فقر سے بہتر ہے
یہ روایت فقر کی شدت اور ذلت کو واضح کرتی ہے کہ کبھی کبھی انسان کے لیے عزت و وقار کے ساتھ مرجانا، ذلت کے ساتھ زندگی گزارنے سے بہتر سمجھا گیا ہے
اسی طرح ایک اور روایت میں فرمایا: الفقر مع الدین السفا الاکبر
یعنی دین کے ساتھ فقر سب سے بڑی آزمائش ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اور فقر کا ساتھ انسان کے لیے دوہری مشکل پیدا کرتا ہے ،جہاں ایک طرف اسے دین پر قائم رہنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، وہاں دوسری جانب دنیاوی پریشانیاں اسے امتحان میں ڈال دیتی ہیں
ایک اور حدیث میں آیا ہے: الفقر رأس كل بلاء
یعنی فقر تمام بلاؤں کی جڑ ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ غربت نہ صرف معاشی تنگی بلکہ اخلاقی اور سماجی مسائل کا بھی سرچشمہ ہے
انسان اکثر فقر کے سبب خودداری کھو بیٹھتا ہے، جھوٹ، مکاری اور چاپلوسی جیسے اخلاقی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے: الفقر سواد الوجہ فی الدارین
یعنی فقر دنیا و آخرت میں چہرے کا سیاہ ہونا ہے۔
یہ تعبیر علامتی ہے، یعنی فقر انسان کو دونوں جہانوں میں ذلت اور شرمندگی سے دوچار کر دیتا ہے
دنیا میں وہ معاشرتی حقارت جھیلتا ہے اور آخرت میں اپنے اعمال کے سبب جواب دہ ہوتا ہے
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
إن الفقر مذلة للنفس، و مدهشة للعقل، و جالب للهموم
یعنی فقر انسان کی روح کو ذلیل کرتا ہے، عقل کو حیران کر دیتا ہے، اور دل میں غم و پریشانی کو جنم دیتا ہے
یہ بیان نہایت دقیق نفسیاتی تجزیہ ہے۔ فقر انسان کے وقار کو مجروح کرتا ہے، اس کی فکری قوت کو مضمحل کر دیتا ہے اور دل و دماغ پر غموں کا بوجھ ڈال دیتا ہے
امام حسین علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: كاد الفقر أن يكون كفرًا، و كاد الحد أن يغلب القدر
یعنی فقر قریب ہے کہ انسان کو کفر تک پہنچا دے، اور تقدیر پر سزا غالب آ جائے
یہ انتباہ اس لیے ہے کہ فقر بعض اوقات انسان کے ایمان کو متزلزل کر دیتا ہے، اور وہ مایوسی و شکوہ کی حالت میں خدا پر اعتماد کھو بیٹھتا ہے
امام علی علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو وصیت فرمائی: يا بني، الفقير حقير، لا يسمع كلامه، و لا يعرف مقامه، لو كان الفقير صادقًا سمّوه كاذبًا، و لو كان زاهدًا سمّوه جاهلًا، يا بني! من ابتلي بالفقر فقد ابتلي بأربع خصال: بالضعف في يقينه، و النقصان في عقله، و الرقة في دينه، و قلة الحياء في وجهه، فنعوذ بالله من الفقر
یعنی اے میرے بیٹے! فقیر معاشرے میں ذلیل و حقیر سمجھا جاتا ہے، اس کی بات کو کوئی نہیں سنتا، اور اس کے مقام کو کوئی نہیں پہچانتا۔ اگر وہ سچ بولے تو جھوٹا کہا جاتا ہے، اگر زاہد بنے تو جاہل قرار پاتا ہے۔
جو فقر میں مبتلا ہو جائے، وہ چار مصیبتوں میں گرفتار ہوتا ہے: ایمان میں کمزوری، عقل میں نقصان، دین میں نرمی، اور چہرے پر بے حیائی۔ پس ہم خدا کی پناہ چاہتے ہیں فقر سے
یہ بیان انسانی معاشرے کی تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ مال و دولت کے غلام اس دنیا میں انسان کی قدر کو دولت سے تولتے ہیں، کردار اور علم سے نہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے انسانی معاشرے میں طبقاتی تفریق کو جنم دیا
حضرت عباس بن عبدالمطلب، جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے، فرمایا کرتے تھے: لوگوں کے نزدیک مالدار انسان سورج کی روشنی سے زیادہ لازم و محبوب ہوتا ہے۔ ان کے لیے وہ پانی سے زیادہ شیریں، آسمان سے زیادہ بلند، شہد سے زیادہ میٹھا اور گلاب سے زیادہ خوشبودار ہوتا ہے۔ اس کے اقدامات کو درست سمجھا جاتا ہے، اس کی برائیاں بھی اچھائیاں سمجھی جاتی ہیں۔ اس کی باتوں کو سنا اور قبول کیا جاتا ہے، اس کی مجلس کو بلند مقام حاصل ہوتا ہے، اور اس کی گفتگو کبھی بوریت پیدا نہیں کرتی۔
لیکن مفلس و نادار شخص سراب کی چمک سے بھی زیادہ جھوٹا، سیسے سے بھی زیادہ بھاری سمجھا جاتا ہے۔
اگر وہ آئے تو کوئی سلام نہیں کرتا، جائے تو اس کا حال نہیں پوچھا جاتا۔ اگر مجلس میں ہو تو تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اگر غائب ہو جائے تو اسے برا بھلا کہا جاتا ہے۔ اگر وہ ناراض ہو تو اسے تھپڑ مار دیا جاتا ہے۔ اس سے مصافحہ کرنا گویا وضو کو باطل کر دیتا ہے، اور اگر وہ قرآن پڑھے تو لوگوں کو گمان ہوتا ہے کہ نماز ٹوٹ گئی
یہ جملات اس گہری معاشرتی بیماری کو ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں نے انسانیت کا معیار دولت کو بنا لیا ہے۔ مالدار خواہ بدعمل ہو، اس کی عزت کی جاتی ہے، اور غریب خواہ دیندار و بااخلاق ہو، اسے حقارت سے دیکھا جاتا ہے
شاید اسی لیے امام علی علیہ السلام نے فرمایا: الفقر یخرس الفطن عن حجته
یعنی فقر دانا اور زیرک انسان کو بھی اس کی حجت سے گونگا بنا دیتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں فقیر کی بات کو وزن نہیں دیا جاتا۔ لوگ درہم و دینار کے غلام بن چکے ہیں، اس لیے غریب کی زبان سے نکلی ہوئی سچی بات بھی ان کے دلوں پر اثر نہیں کرتی۔ نتیجتاً فقیر انسان خاموش ہو جاتا ہے، اور حق کہنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے، جبکہ دنیا دار اور مالدار افراد باطل کو بھی اعتماد کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور سماج اسے سنجیدگی سے سنتا ہے
اسی تناظر میں حکماء نے بھی اپنے بیٹوں کو نصیحت کی ہے کہ علم حاصل کرو اور مال جمع کرو، کیونکہ لوگ دو قسم کے ہیں: ایک خاص اور ایک عام۔ خاص لوگ تمہاری عزت تمہارے علم کی خاطر کریں گے، جبکہ عام لوگ تمہاری عزت تمہارے مال و دولت کی وجہ سے کریں گے
یہ نصیحت انسانی فطرت اور معاشرتی حقیقت دونوں کو ظاہر کرتی ہے کہ علم اور دولت دونوں معاشرتی مقام کے دو بڑے ستون ہیں، لیکن اگر ان میں سے ایک کمزور ہو تو انسان کو ذلت و محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ فقر و ناداری محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی و سماجی بحران ہے۔ یہ انسان کے وقار، اس کے ایمان، اس کی عقل اور اس کے کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام نے ہمیں نہ صرف فقر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی بلکہ یہ بھی سکھایا کہ غریب کی تحقیر انسانیت کی توہین ہے۔ معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب انسانوں کی قدر و منزلت ان کی دیانت، علم اور کردار سے کی جائے، نہ کہ ان کی دولت سے



