دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے کربلا و نجف اشرف میں مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی پُر وقار تشییعِ جنازہ کی تصویری جھلکیاں آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کے وصال پر مرجع اعلیٰ سید علی الحسینی سیستانی دام ظلہ کا تعزیتی پیغام حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام تلعفر میں عیدِ غدیر کی پُروقار تقریب کا انعقاد حوزۂ علمیہ نجف اشرف ایک عظیم مرجعِ دین اور نامور فقیہ سے محروم عید غدیر یوم ولایت و امامت کربلا :عیدِ غدیر کی مناسبت سے خدیجۃ الکبریٰؑ اسپتال میں علاج معالجے پر 50 فیصد رعایت عیدِ غدیرِ اَغر کے پُرمسرت موقع پر حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کا ضریحِ مقدس نورِ ولایت سے درخشاں ہے، جس کی روح پرور جلوہ گری زائرین کے دلوں میں خوشی، عقیدت اور روحانی سرشاری کے جذبات کو تازہ کر رہی ہے

فقہ جعفری سب سے بہترین فقہ کیوں ہے؟(حصہ دوم)

لیکن کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ ضروری تو نہیں ہے کہ شاگرد کی تیار کردہ ہر چیز استاد کی تیار کردہ ہر چیز سے ہمیشہ مفضول ہو ۔یہ اعتراض اس وقت درست ثابت ہو سکتا ہے کہ جب خود شاگرد کا یہ اعتراف موجود نہ ہو کہ ہمارے استاد علم میں ہم سے افضل ہیں جبکہ یہ اعتراف موجود ہے

ملاحظہ ہو کہ اس بابت امام ابو حنیفہ کا فرمان کیا ہے ان کا کہنا ہےکہ

 (ما رأيت أفقه من جعفر بن محمّد ، لما أقدمه المنصور بعث إليَّ فقال : يا أبا حنيفة إنّ الناس قد افتتنوا بجعفر بن محمّد فهيّئ له من المسائل الشداد. فهيّأت له أربعين مسألة ثمّ بعث إليّ أبو جعفر المنصور وهو بالحيرة ، فدخلت عليه وجعفر بن محمّد جالس عن يمينه ، فلمّا بصرت به دخلتني من الهيبة لجعفر ما لم يدخلني لأبي جعفر المنصور. فسلّمت وأومأ فجلست ، ثمّ التفت إليه قائلاً : يا أبا عبدالله هذا أبو حنيفة. فقال : نعم أعرفه ، ثمّ التفت المنصور فقال : يا أبا حنيفة الق على أبي عبدالله مسائلك. فجعلت ألقي عليه فيجيبني فيقول : أنتم تقولون كذا وهم يقولون كذا ونحن نقول كذا ، فربّما تابعنا وربّما تابعهم وربّما خالفنا حتّى أتيت على الأربعين مسألة ، ما أخلّ منها مسألة واحدة. ثم قال أبو حنيفة : أعلم الناس أعلمهم باختلاف الناس) مناقب أبي حنيفة للموفق : ۱ / ۱۷۳ 

ترجمہ:(میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا، جب منصور نے انہیں پیش کیا، تو اس نے مجھ سے کہا: اے ابو حنیفہ! لوگ جعفر بن محمد سے بہت متاثر ہیں، لہٰذا ان کے لیے مشکل مسائل تیار کرو۔ چنانچہ میں نے ان کے لیے چالیس سوالات تیار کیے، پھر ابو جعفر المنصور نے مجھے حیرہ میں بلایا، اور میں ان کے پاس گیا، جہاں جعفر بن محمد ان کے دائیں طرف بیٹھے تھے۔ جیسے ہی میری نظر ان پر پڑی، مجھ پر ایسی ہیبت طاری ہوئی جو ابو جعفر المنصور سے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ میں نے سلام کیا، تو انہوں نے اشارہ کر کے مجھے بیٹھنے کو کہا، پھر منصور نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف مڑ کر کہا: "اے ابو عبد اللہ، یہ ابو حنیفہ ہیں۔" امام جعفر صادق علیہ السلام نے کہا: "جی، میں انہیں جانتا ہوں۔" پھر منصور نے مجھ سے کہا: "اے ابو حنیفہ، اپنے سوالات ابو عبد اللہ پر پیش کرو۔" میں نے سوالات پیش کیے اور وہ جواب دیتے ہو ئے فرماتے: "آپ کہتے ہیں ایسا، وہ کہتے ہیں ویسا، ہم کہتے ہیں یوں، کبھی ہم آپ کی بات سے متفق ہوتے ہیں، کبھی ان کی بات سے، اور کبھی ہم سب سے مختلف رائے رکھتے ہیں، یہاں تک کہ میں نے چالیس سوالات پیش کر ڈالے، جن میں سے ایک سوال بھی ایسا نہ تھا جس کا جواب نہ دیا ہو۔" پھر ابو حنیفہ نے کہا: "سب سے زیادہ علم وہ شخص رکھتا ہے جو لوگوں کے اختلافات سے بخوبی واقف ہو۔)

 جب ابو حنیفہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہیں دیکھا تو گویا کہ وہقبول کر رہے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کی مرتب کردہ فقہ ابو حنیفہ کی آمادہ کردہ فقہ سے افضل ہے اور اسی کی معنی مالک بن انس کا اعتراف بھی  موجودہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل میں یہ بات گزری ہے کہ علم کے اعتبار سے کوئی شخص امام جعفر صادق علیہ السلام سے افضل ہو سکتا ہے مالک بھی امام صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے اور وہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ صرف وہی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص امام جعفر صادق علیہ السلام سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کی فقہ مالک کی فقہ سے افضل نہ ہو ؟اس بارے میں مالک بن انس کا قول ملاحظہ ہو۔

(اختلفت إلى جعفر بن محمّد زماناً فما كنت أراه إلّا على إحدى ثلاث خصال : إمّا مصلّياً وإمّا صائماً وإمّا يقرأ القرآن ، وما رأيته قطّ يحدث عن رسول الله إلّا على الطهارة ، ولا يتكلّم بما لا يعنيه ، وكان من العلماء العبّاد والزهّاد الذين يخشون الله (٤) وما رأت عين ولا سمعت اُذن ولا خطر على قلب بشر أفضل من جعفر بن محمّد الصادق علماً وعبادة وورعاً) مالك بن أنس ، للخولي : ۹٤

ترجمہ: "میں طویل عرصے تک جعفر بن محمد کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی ایک میں پایا: یا تو وہ نماز پڑھ رہے ہوتے، یا روزہ رکھ رہے ہوتے، یا قرآن پڑھ رہے ہوتے۔ میں نے انہیں کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے نہیں دیکھا مگر اس حالت میں کہ وہ طہارت پر تھے۔ وہ کبھی بھی بے مقصد بات نہیں کرتے تھے، اور وہ علماء، عبادت گزاروں اور زہاد میں سے تھے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے۔ میری آنکھوں نے، نہ میری سماعت نے، اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں کبھی ایسی کوئی شخصیت آئی، جو جعفر بن محمد الصادق سے زیادہ علم، عبادت اور ورع میں عظیم ہو۔"

 اور امام شافعی جو فقہ شافعی کے بانی ہیں یہ مالک بن انس کے شاگرد ہیں تو شاگرد کے استاد کا استاد اور بھی زیادہ افضل ہوتاہے جبکہ شافعی کے استاد نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں کہا تھا کہ ان سے بڑھ کر عالم کوئی نہیں ہے تو پھر ان کے نزدیک کوئی فقہ فقہ جعفری سےبرتر نہیں ہونی چاھیے اور اسی طرح امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد ہیں تو فقہ جعفری فقہ حنبلی سے بھی افضل قرار پاتی ہے کیونکہ فقہ حنبلی کےبانی احمد بن حنبل ، امام شافعی کے شاگرد ہیں اور امام شافعی شاگرد ہیں امام مالک کے اور وہ شاگرد امام جعفر صادق علیہ السلام کے ۔تو کسی بھی شخص کے استاد کے استاد کا استاد اس سے افضل ہوتا ہے جبکہ استاد کے استاد کے استاد کی علمیت کا اعتراف بھی کیا جا چکا ہو لہذا یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ فقہ جعفری کا تمام اسلامی مذاہب فقہ سے افضل ہونا ثابت ہے ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں تو بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں دین پر عمل کرنے کی بابت اتنی سھل انگیزی اختیار کر لی جاتی ہے ؟ہر صاحب خرد افضل کو اپناتا ہے اور انسان کا انتخاب اس کی فھم و فراست اور عقل و خرد کی زبان ہوتا ہے

العودة إلى الأعلى