امام صادق علیہ السلام کا سجدہ میں زائرینِ امام حسین علیہ السلام کے لیے 16 دعائیں مانگنا
امام صادق علیہ السلام سجدے میں تھے… سجدہ بھی ایسا کہ جس میں صرف تسبیح و تہلیل نہیں، بلکہ زائرینِ امام حسین علیہ السلام کے لیے خالقِ کائنات سے دعائیں مانگی جاری تھیں۔
راوی معاویہ بن وہب بیٹھے سن رہے ہیں ہر جملہ دل کو ہلا دینے والا تھا اور ہر لفظ زائرِ امام حسین علیہ السلام کی عظمت کے دریچے کھول رہا
جب یہ اتنی لمبی دعا سن لی، تو جیسے ہی امام علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا، معاویہ آگے بڑھے اور عرض کیا جعلت فداک! آپ پر قربان کر دیا جاؤں، اگر یہ کلمات، جو میں نے آپ سے سنے، کسی ایسے شخص کے لیے ہوتے جو اللہ کو نہیں جانتا، تو میں گمان کرتا کہ جہنم کی آگ اسے کبھی بھی چھو نہ سکے گی۔ اللہ کی قسم! میں نے تو یہ آرزو کی کہ کاش میں نے زیارتِ امام حسین علیہ السلام کی ہوتی اور حج نہ کیا ہوتا
امام علیہ السلام نے جواب دیا تم تو قبرِ امام حسین علیہ السلام کے بہت قریب ہو، تو پھر تمہیں اس زیارت سے کیا چیز روک رہی ہے، اے معاویہ! اسے ہرگز ترک نہ کرنا۔
راوی کہتے ہیں جعلت فداک! آپ پر قربان کر دیا جاؤں، مجھے تو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس زیارت کا معاملہ اس درجہ تک پہنچا ہوا ہے
قارئینِ محترم!
آئیے! دیکھتے ہیں وہ دعائیہ جملے، جو امام صادق علیہ السلام نے سجدے میں زائر حسین علیہ السلام کے لیے مانگے
امام صادق علیہ السلام نے زائر امام حسین علیہ السلام کےلئے 16 دعائیں مانگنے سے پہلے حالت سجدہ میں جو اللہ کو واسطے دیے، وہ اس طرح سے تھے
اے وہ ذات! جس نے ہمیں کرامت کے لیے مخصوص فرمایا اور ہمیں شفاعت کا وعدہ عطا فرمایا اور ہم پر رسالت کا بوجھ ڈالا اور ہمیں انبیاء کا وارث بنایا اور ہم پر گزشتہ امتوں کا سلسلہ ختم کیا اور ہمیں وصایت کےلیے مخصوص کیا اور ہمیں گزشتہ اور آئندہ کا علم عطا فرمایا اور لوگوں کے دلوں کو ہماری طرف مائل کر دیا
اس کے بعد زائر امام حسین علیہ السلام کےلئے یوں مانگنا شروع فرمایا
1:(اے میرے اللہ) مجھے، میرے بھائیوں اور میرے والد حسین بن علی علیہما السلام کے زائرین کو بخش دے، یہ زائرین امامِ حسین علیہ السلام وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اموال خرچ کیے اور اپنے جسموں کو ہمارے احسان کی رغبت اور تیرے پاس ہماری قرابت کے صلہ کی امید میں سفر کے لیے روانہ کیا۔ اور یہ خوشی پیدا کرنے کے لیے گئے جو انہوں نے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی اور ہمارے حکم کی اطاعت میں اور ہمارے دشمنوں کو غیظ دلانے کے لیے نکلے۔
2:انہوں نے یہ سب تیری رِضا کے لیے کیا، تو ان انہیں ہماری طرف سے رضوان کا بدلہ دے دے۔
3: اور دن و رات ان کی حفاظت فرما۔
4:اور ان کے اہل و عیال اور اولاد جو پیچھے رہ گئے ہیں، کو بہترین جانشین عطا فرما۔
5: اور ان کا ساتھ دے۔
6: اور ہر سرکش جابر کے شر سے ان کےلئے کافی ہو جا۔
7:اور تیرے مخلوق میں سے ہر کمزور یا طاقتور کے شر سے ان کی حفاظت فرما۔
8:اور جنّ و انس کے شیاطین کے شر سے انہیں بچا
9:اور غربتِ وطن میں انہیں وہ سب سے بہتر عطا فرما جس کی وہ تجھ سے امید رکھتے ہیں۔
10:اور اس کے بدلے میں جو انہوں نے ہمیں اپنے بیٹوں، اہل اور رشتہ داروں پر ترجیح دی، انہیں بہترین اجر عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے دشمنوں نے ان کے اس سفر پر اعتراض کیا، لیکن اس بات نے انہیں ہمارے پاس آنے اور ہمارے مخالفین کی مخالفت میں روانہ ہونے سے نہ روکا
11:تو ان چہروں پر رحم فرما جنہیں سورج نے تبدیل کر دیا ہے۔
12:اور ان گالوں پر رحم فرما جو میرے والد حسین علیہ السلام کی قبر پر لوٹتے ہیں
13:اور ان آنکھوں پر رحم فرما جن سے ہمارے لیے رحمت کے طور پر آنسو بہتے ہیں
14: اور ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے لیے بے قرار ہوتے ہیں
15:اور اس چیخ پر رحم فرما جو ہمارے لیے بلند ہوتی ہے
16: اے اللہ! میں اِن جانوں اور اِن جسموں کو تیرے سپرد کرتا ہوں یہاں تک کہ تُو انہیں قیامت کے دن، پیاس کے دن، حوضِ کوثر سے سیراب کرے
اتنی زیادہ دعائیں سننے کے بعد معاویہ بن وھب نے تعجب سے یہ بھی پوچھا
کہ مولا اتنی زیادہ دعا مانگ رہے ہیں زائرین امام حسین علیہ السلام کےلئے!
تو (امام علیہ السلام نے) فرمایا:
اے معاویہ! جو لوگ آسمانوں میں زائرِ امام حسینؑ کے لیے دعا کرتے ہیں، وہ زمین میں دعا کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس (زیارت) کو کسی کے خوف کی وجہ سے ترک نہ کرنا، کیونکہ جو شخص اسے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے، وہ ایسی حسرت دیکھے گا کہ چاہے گا کاش اس کی قبر اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی۔( اور قبر سے نکل کر زیارت امام حسین علیہ السلام کر لیتا)
کیا تُو پسند نہیں کرتا کہ اللہ تجھے اُن لوگوں میں دیکھے جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم دعا کر رہے ہوں؟
کیا تُو پسند نہیں کرتا کہ کل تُو اُن میں شامل ہو جن سے فرشتے مصافحہ کریں؟
کیا تُو پسند نہیں کرتا کہ کل تُو اُن میں سے ہو جو اس حال میں آئیں کہ ان پر کوئی گناہ نہ ہو اور ان کی پیروی بخشش کے ساتھ کی جائے؟
کیا تُو پسند نہیں کرتا کہ کل تُو اُن میں سے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصافحہ کریں؟
روایات کا مکمل عربی متن /کامل الزیارات [بحار الانوار الجامعه لدرر اخبار الایمه الاطهار - مجلد ۹۸، صفحه ۸]
«۳۰»- مل، [كامل الزیارات]



