کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

عراق اور چین کے درمیان تجارتی تبادلہ

2024-10-22 12:58

ماہرین کے مطابق توقع ہے کہ 2024 کے آخر تک عراق اور چین کے درمیان تجارتی تبادلہ 55 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا

2024 کے پہلے نو مہینوں کے دوران عراق سے چینی درآمدات کا حجم تقریباً 30 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔

ماہر اقتصادیات منار العبیدی نے اپنے ذاتی فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ"عراق نے چین کو 29.5 بلین امریکی ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں جو 2023 کے مقابلے میں 11.7 فیصد زیادہ ہیں۔

2023 میں چین کو عراقی برآمدات کی مالیت 26.4 بلین امریکی ڈالر تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران عراق اور چین کے درمیان براہ راست تجارتی تبادلے کا حجم 41.4 بلین امریکی ڈالر رہا جو 2023 کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے جو کہ 37 بلین امریکی ڈالر تھا۔

العبیدی نے توقع ظاہر کی کہ "2024 کے آخر تک عراق اور چین کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 55 بلین امریکی ڈالر کی حد تک پہنچ جائے گا،" انہوں نے مزید کہا کہ "اگر عراق کو بالواسطہ طور پر برآمد کی جانے والی چینی اشیاء کو شامل کیا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم بڑھ جائے گا۔ عراق اور چین 65 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں اس طرح چین عراق کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

مشھدی

العودة إلى الأعلى