پاکستان: یونیورسٹی آف بلتستان سکردو میں آٹھواں سالانہ یومِ حسینؑ کا انعقاد

2026-08-11 17:00

پاکستان: یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کے زیر اہتمام آٹھویں سالانہ یومِ حسینؑ کی مناسبت سے ایک فکری و علمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

یونیورسٹی آف بلتستان کے زیر اہتمام آٹھویں سالانہ یومِ حسینؑ کی مناسبت سے ایک فکری و علمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر، اساتذہ، محققین، علمائے کرام، شعراء اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں عالمِ اسلام کے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا ایک اہم درس ظلم کے مقابلے میں حق پر ڈٹ جانا اور باہمی اتحاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ انہوں نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو امام حسینؑ کے افکار و تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

معروف مبلغ اشرف علی تابانیؔ نے نوجوان نسل کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسینی نوجوان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ثابت قدمی، ایمان اور بصیرت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، ایمان، جدید علوم اور صحیح و غلط میں تمیز کی صلاحیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی اور علم سے استفادہ کرتے ہوئے معاشرے کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

دیگر مقررین نے امام حسینؑ کی شخصیت اور پیغامِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے حضرت زینبؑ کے صبر و استقامت کو عظیم نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا عقل، شریعت، احساس، جذبات اور حق کے لیے جدوجہد کا جامع پیغام پیش کرتی ہے۔

مقررین نے حضرت علی اکبرؑ کی سیرت کو نوجوان نسل کے لیے قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی زندگی نوجوانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یومِ حسینؑ منانے کا مقصد صرف واقعۂ کربلا کو یاد کرنا نہیں بلکہ اس کے پیغام اور حسینی کردار کو عملی زندگی کا حصہ بنانا بھی ہے۔اس موقع پر طلبہ و اساتذہ کے درمیان فکری و علمی روابط، جوانی کی اہمیت اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حضرت علی اکبرؑ کی سیرت کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے اپنی شخصیت کو علم، اخلاق اور کردار کے اعتبار سے بہتر بنائیں۔

معروف عالمِ دین مفتی خالد نے اتحادِ امت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے قرآن و احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کے زوال کی ایک بڑی وجہ باہمی تفرقہ ہے، اس لیے تمام مکاتبِ فکر کو مشترکہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر متحد ہو کر ملک و ملت کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کانفرنس کے دوران مقامی شعرائے کرام نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور بارگاہِ امام حسینؑ میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

المرفقات

العودة إلى الأعلى