`رحلتِ رسول اللہ ص اور وصیتِ ثقلین: امت کے لیے آخری چراغ
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی یاد آتی ہے تو دل غم سے بھر جاتا ہے، آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں اور تاریخ کا وہ دردناک منظر نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جب مدینۂ منورہ کی فضا اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں سوگوار تھی
وہ ہستی جس نے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو نور عطا کیا، جس نے جاہلیت کے بکھرے ہوئے انسانوں کو ایمان، اخلاق اور ہدایت کی منزل تک پہنچایا، آج اپنی امت سے رخصت ہونے والی تھی
مگر رخصت ہوتے ہوئے بھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو بے سہارا نہیں چھوڑا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے وہ امانت چھوڑی جس میں قیامت تک کی ہدایت پوشیدہ تھی
تصور کیجیے! ایک طرف قرآنِ کریم ہے، اللہ کی وہ کتاب جو آسمان سے ہدایت بن کر نازل ہوئی، اور دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام ہیں؛ امام علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام۔ ذریت امام حسین علیہ السلام سے آئمہ اہل بیت علیہم السلام
گویا تاریخ کے اس عظیم منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت سے فرما رہے ہیں:
میرے بعد اگر میری راہ تلاش کرنا، اگر ہدایت کا چراغ ڈھونڈنا، اگر گمراہی کے طوفان سے بچنا، تو قرآن اور میرے اہلِ بیت علیہم السلام کو تھامے رکھنا
پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ آواز صدیوں کے فاصلے چیرتی ہوئی آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتی ہے:
إنی تاركٌ فیكم الثقلین، كتاب الله وعترتی أهل بیتی، وإنهما لن یفترقا حتى يردا علی الحوض
ترجمہ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہلِ بیت؛ اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں
یہ صرف الوداع کے چند الفاظ نہ تھے بلکہ یہ امت کے مستقبل کا اعلان تھا
یہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ وصیت تھی جس میں امت کی نجات کا راز پوشیدہ تھا
یہ وہ عہد تھا جسے زمانہ ختم نہیں کرسکتا، جسے فاصلے مٹا نہیں سکتے اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت خاموش نہیں کرسکتی۔
قرآن ہدایت ہے، اور عترت قرآن کی صحیح رہنمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کی امین ہے
قرآن راستہ دکھاتا ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام اس راستے پر چلنے کا صحیح طریقہ سمجھاتے ہیں
قرآن نور ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام اس نور کے محافظ ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور عترت اس کتاب کے حقیقی مفسر و مبین ہیں
اسی لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، اور اپنی امت کو یہ وصیت دے گئے کہ قرآن اور عترت سے وابستہ رہنا
زمانے بدل گئے، سلطنتیں بدل گئیں، نسلیں بدل گئیں، مگر وہ وصیت آج بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے
مدینے کی وہ گلیاں آج بھی جیسے پکار رہی ہیں:
اے امتِ محمد! اپنے نبی کی آخری امانت کو پہچانو!
اے امت! قرآن کو تنہا نہ چھوڑو اور عترت کو فراموش نہ کرو۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت میں دونوں ساتھ ہیں
نجات کی راہ انہی دونوں سے وابستہ ہے
آج جب دنیا فکری اندھیروں، گمراہیوں اور انتشار کے طوفانوں میں بھٹک رہی ہے، ہمیں پھر اسی آواز کی طرف لوٹنا ہوگا جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے بلند فرمائی تھی:
کتابِ خدا اور عترتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مضبوطی سے تھام لو۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رخصت ہوگئے، مگر ان کی وصیت باقی ہے۔
وہ مقدس ہستی دنیا سے چلی گئی، مگر ان کا پیغام باقی ہے۔
مدینے کی وہ غمگین رات گزر گئی، مگر چراغِ ہدایت آج بھی روشن ہے
اور جب تک قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی باقی ہے، امت کے لیے نجات کا راستہ بھی باقی ہے
سلام ہو اس نبی رحمت پر جس نے جاتے جاتے بھی امت کو تنہا نہ چھوڑا
سلام ہو اس رسول اللہ پر جس نے اپنی امت کے ہاتھ میں قرآن اور عترت کی امانت تھمائی
اور سلام ہو ان پاکیزہ اہلِ بیت علیہم السلام پر جنہیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک امت کے لیے ہدایت کا چراغ قرار دیا


