قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے کربلا و نجف اشرف میں مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی پُر وقار تشییعِ جنازہ کی تصویری جھلکیاں

کربلاء کے جنوب مشرق میں واقع قلعہ نواب لاہوری کی تاریخی اہمیت

2023-06-10 12:39

یوں تو پورے عراق میں آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات موجود ہیں لیکن آج ہم بات کریں گے قلعہ نواب کی تاریخ کی جو کہ کربلاء کے جنوب مشرق میں چار کلو میٹرکی فاصلے پر واقع ہے۔
 اس کو ١٢٩٦ہجری میں لاہور کے نوازش علي خان الكبير ابن علي رضا خان النوّاب قزلباش نے تعمیر کیا تھا۔
تقسیم پاک و ہند سے پہلے نوازش علی خان معروف شخصیتوں میں سے تھے اور بہت ہی دولت مند شخص تھے۔ انگریزوں نے علی رضا کو سردار بہادر اور اُس کے بیٹے نوازش علی کونواب کا خطاب دیا۔
 یہ امام حسین علیہ السلام سے بےحد محبت کرتے تھے۔ لاہور میں قدیم امام بارگاہ نوابوں نے ہی بنائی تھی جہاں صدیوں سے مجالس کا سلسلہ چل رہا ہے۔ 
نواب  نے زائرین کے لیے کربلاء میں یہ قلعہ بنایا۔
 اس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد سامراء کا سفر کیا اورایک طویل عرصہ سامراء میں مرزا حسن شیزازی قدس سرہ اور مجدد سید شیرازی قدس سرہ صاحب فتوی کی خدمت کرتے رہے ۔
 انکی وفات کے بعد سامراء سے واپس کربلاء آ گئے اورایک مدت تک کربلاء میں زائرین کی خدمت کرتے رہے اورداعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے کربلاء میں انتقال کر گئے۔
انہیں حرم امام حسین علیہ السلام  میں دفن کیا گیا۔
 یہ قلعہ آج بھی نواب کے نام سے مشہور ہے۔
نواب کی انتقال کے بعد انکی فیملی کے باقی افراد واپس ہندستان چلے گئے۔ 
 انکی کربلاء میں موجود جائیداد کی تولیت محسن رضا قندھاری کو دی گئی جو انکے قریبی ساتھی تھے۔
سورسز کربلا سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ

العودة إلى الأعلى