صیہونی ریاست نے عراقی ڈاکٹر محمد الموسوی کے غزہ جانے پر پابندی لگا دی
برطانیہ میں مقیم مشہور عراقی ڈاکٹر محمد طاہر کامل أبو رغيف الموسوی نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ قابض صیہونی حکام نے انہیں ایک بار پھر غزہ میں طبی امداد فراہم کرنے سے روک دیا
ڈاکٹر الموسوی، جو مظلوم فلسطینیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، نے تقریباً دو ہفتے قبل تمام قانونی ضروریات پورے کرتے ہوئے غزہ جانے کی اجازت حاصل کر لی تھی۔ لیکن جب وہ اپنی چوتھی امدادی مہم کے لیے روانہ ہونے والے تھے، تو انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
ان کا درد بھرا پیغام:
ایک ماہ تک امریکہ میں قیام کے بعد، مجھے اطلاع ملی کہ میں دوبارہ غزہ جا سکتا ہوں۔
کل میں لندن پہنچا، اپنے اہلِ خانہ سے مختصر ملاقات کی اور فوراً اپنی اگلی امدادی مہم کی تیاری مکمل کر لی۔
میں پوری طرح تیار تھا، ایئرپورٹ کے لیے نکل چکا تھا، لیکن انتہائی افسوسناک اطلاع ملی کہ میرا غزہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
مجھے اس کام سے محروم کر دیا گیا ہے جو میری زندگی کا مشن ہے معصوم اور زخمیوں کی مدد، ان بے کس انسانوں کا علاج جو ہماری امداد کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
یہ میرے لیے حیران کن نہیں، کیونکہ قابضین نے میرے خلاف ایک فائل بنا رکھی ہے، اور یہی چیز انہیں پریشان کر رہی ہے۔ مگر اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود، یہ فیصلہ میرے لیے کسی صدمے سے کم نہیں
سچ کہوں تو، میں ٹوٹ چکا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، مگر میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
میں دوبارہ کوشش کروں گا، میں اپنا کام جاری رکھوں گا غزہ کے لیے، عراق کے لیے، اور ہر اس مظلوم کے لیے جو مدد اور علاج کا محتاج ہے۔
براہ کرم دعا کریں کہ میرا اگلا سفر بابرکت اور آسان ہو