کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

روضہ امام حسین علیہ السلام پر جرمن صحافی کے تاریخی الفاظ کہ یہاں میں نے امن اور اطمینان کو محسوس کیا ہے

2023-03-17 21:00

روضہ امام حسین علیہ السلام پر جرمن صحافی کے تاریخی الفاظ کہ یہاں میں نے امن اور اطمینان کو محسوس کیا ہے

عتبہ حسینہ نے  جرمن صحافی روفن ریمر کا انٹرنیشنل میڈیا سنٹر  کے تعاون سے استقبال کیا ۔انٹرنیشنل میڈیا سنٹر عتبہ حسینہ کے شعبہ اعلام(میڈیا) کے تابع ہے۔ 
 روفن نے کہا کہ یہ میرا کربلاء کا پہلا دورہ ہے ۔اس خوبصورت  جگہ کے بارے میں انٹرنیٹ پر سنتا تھا اور دیکھتا  تھا۔پس  میں نے عراق کا دورہ کرنے کا تہیہ کر لیا  جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تہذیب کا مالک ہے خاص طور پر کربلاء جو کہ ہر جگہ کے زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اس جگہ کو قربانی اور فدا ہونے کے متعلق درس اور عبرت لینے کی جگہ سمجھا جاتا ہے ۔ میں نے یہاں امن اور اطمینان کو محسوس کیا ہے۔
 روفن نے اپنے دورے کے مقصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کربلاء والوں کی زندگی اور عادات کی تصویروں کے ایک سلسلے کو دستاویزی شکل دی ہے۔
 میں انہیں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شائع کروں گا تاکہ دوسروں کو اس جگہ کا تعارف کرایا جا سکے۔
مزید برآں ان مذہبی تہواروں کا بھی تعارف کرایا جا سکے جن کے ذریعے شیعہ مسلمان خدا کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ عراقیوں کی مہمان نوازی  اور ان کا حسن استقبال ہے۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں وہ میرا استقبال کرتے ہیں اور مفت کھانے پینے کی پیشکش کرتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی نشاندھی کرتی ہے کہ یہ عظیم ملک ہے اور اس کی عوام مہمان نواز ہے۔

منسلکات

العودة إلى الأعلى