قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت پاکستان: امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علمائے کرام کے وفد کی آمد عالمِ تشیع آج ایک مرجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا ہے کربلا و نجف اشرف میں مرجعِ دینی آیت اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی پُر وقار تشییعِ جنازہ کی تصویری جھلکیاں

ذی قار میں چار ہزار سال سے پرانا سامری قصر اور معبد کا انکشاف

2023-02-26 13:05

برطانوی آثار قدیمہ کے ماہرین نے سامریوں کی عبادت گاہ اورشاہی محل کو دریافت کیا ہے جو تقریبا چار، ساڈھ چار ہزارسال پرانا ہے اوراسے سامری بادشاہوں کے قصر کے کھنڈرات شمار کیا جاتا ہے ۔
میوزیم کے بیان کے حساب سے ان دریافت شدہ  نوادارت کی عمر کم از کم چار ہزار پانچ سو سال قدیم ہیں ۔
ماہرین آثار قدیمہ نے ڈرونز کی مدد سے لی گئی تصاویر اور زمینی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے محل اورمندر کے حددو کا تعین کیا ہے اورماہرین کو اب تک اس کھنڈرات سے تقریبا دو سو مٹی کے لوح ملی ہیں جو بغداد میں عراقی نیشنل میوزیم کو پہنچائی گئی ہیں ۔
 آثار قدیمہ کے ماہرین ،معبد اینینو۔ اینورتا  گرسو شہر کے میئر ان کو معابد دینی میں سب سے اہم تاریخی معابد میں سے ایک سمجھتے ہیں جس کا اس وقت بہت سے لوگ وزٹ کر چکے تھے ۔
بتایا گیا ہے کہ ان آثار قدیمہ کو گذشتہ سال کے آخیر میں قدیم سامری شہر گریسو میں ماہرین نے انکشاف کی تھی اور یہ دریافت برٹش میوزیم ،امریکی گیٹی میوزیم اور عراقی حکام  کی مشترکہ طور سے کیے گئے تحقیقاتی منصوبے  کا نتیجہ ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ فرانسسیی آثار قدیمہ کے ماہرین نے انیسوی صدی کے آخر میں شہر گریسو کو انکشاف کیا تھا اوراسکی دریافت سامری تہذیب ، اسکی زبان اوراسکی کتابت کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کا نکتہ آغاز بن گیا تھا۔
علما میوزیم کو یہ امید ہے کہ اس نئی دریافت سے سومیریوں کی  زندگی کے بارے میں مزید جاننے اورسمجھنے میں وسیع پیمانے پہ مدد ملی گی۔
برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فشر کہتے ہیں کہ اگرچہ ہمارا علم سومریوں کے بارے میں محدود ہے مگر گرسو شہر میں ہمارا کام ،مفقود محل اور معبد کا دریافت کرنا،اس اہم تہذیب کے بارے میں ہمارے علم کو وسعت دینے کی نوید ہے اور اس سے ماضی مزید روشن اور مستقبل میں گہرے نتائج مترتب ہونگے ۔
ماہرین آثار قدیمہ نے ڈرون اور فضائی کمیروں سے لی گئی تصاویر کی مدد سے مندر اور محل کے حدود کی تعین اور وضاحت کی ہے باوجودیکہ گریسو شہر عالمی ثقافتی ورثہ میں سب سے اہم مقامات میں سے ایک ہے ۔مگر ماہرین کے کہنے کے مطابق اس شہر کی صحیح طور سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے جسکی وجہ پیچھلے تیس سالوں کی تنازعات ، کھدائی بند ہونے کی وجہ سے لٹیروں کو بہت سارے نوادارت کو لوٹنے اور چوری کرنے کی اجازت مل گئی ۔
بتایا جاتا ہے کہ سومیری تہذیب جدید عراق کے جنوبی اور وسطی حصے میں یعنی بلاد ما بین النہرین کے علاقوں میں تقریبا چھ ہزار سال قبل پیدا ہوئی تھی اور سمیری ہنرمند و ماہر کسان تھے اور سب سے پہلے شہر تعمیر کرنے والے بھی یہیں تھے  اور انہوں نے ہی ابتدائی کتابت و تحریرں ایجاد کی تھی جس سے کینیفارم تحریر معرض وجود میں آئی اور انکے پاس افسانوی امیر کی دستانیں اور بشمول سیلاب کی کہانیاں اور پیچیدہ قوانین موجود تھے۔

عباس نجم 

ابو علی

منسلکات

العودة إلى الأعلى